You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Sunday, September 08, 2019

چندریان 2

بھارتی خلائی مشن چندریان کی داستان

بھارت کا خلائی مشن چندریان 2 ناکام ہوگیا ہے یہ سائنسی دنیا کیلئے ایک بہت بری خبر ہے۔ اس داستان کا آغاز 12 سال پہلے ہوتا ہے جب بھارت نے اکتوبر 2008 میں ’’چندریان 1‘‘ لانچ کیا جس نے چاند کے گرد چکر لگاتے ہوئے چاند پر موجود معدنیات کا جائزہ لیا۔ بعد ازاں اسی ڈیٹا کی مدد سے ناسا کے ماہرین نے چاند کے قطبین پر موجود گڑھوں میں پانی، برف کی شکل میں دریافت کیا۔ چاند پر پانی کا مل جانا ایک بہت بڑی دریافت تھی جس نے فلکیاتی دنیا میں ہلچل مچا دی۔ چاند پر پانی ملنے کے بعد انسان کا چاند پر کالونیاں بنانے کا خواب حقیقت دکھائی دینا شروع ہوگیا۔ اسی دریافت نے بھارت کے چندریان مشن کو دُنیا بھر سے بھی متعارف کروایا۔ 22 جولائی 2019 کو بھارت نے چندریان سیریز کا دوسرا مشن لانچ کیا جسے ’’چندریان 2‘‘ نام دیا گیا۔ 140 ملین ڈالر کی لاگت سے بھیجا جانے والا یہ مشن 7 ستمبر 2019 کو چاند کے جنوبی قطب کے اُس حصے پر لینڈ کرنے والا تھا جہاں پانی کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ مگر افسوس بھارت کا چندریان 2 نامی خلائی مشن ناکام ہوگیا، اگر بھارتی مشن چاند پہ لینڈ کرجاتا تو بھارت امریکا، روس اور چین کے بعد چاند پہ لینڈ کرنے والا چوتھا ملک بن جاتا.. مذکورہ مشن نے چاند کے جنوبی قطب کے نزدیک لینڈ کرنا تھا، یوں وہ پہلا ملک بن جاتا جو چاند کے جنوبی قطب پہ اترتا، کیونکہ چاند کا جنوبی قطب زمین کی جانب نہیں جس وجہ سے وہاں لینڈ کرنا انتہائی مشکل ہے اور آج تک کوئی ملک اس مقام پہ لینڈ نہیں کرسکا... چند ماہ پہلے اسرائیل بھی چاند پر لینڈنگ کی ناکام کوشش کرچکا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق لینڈنگ کے آخری دس سیکنڈ میں چندریان 2 کی رفتار کو کنٹرول نہ کیا جاسکا اور اسکا چاند سے صرف 300 میٹر کی اونچائی پہ زمین سے رابطہ کٹ گیا جس کے باعث یہ 172 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند سے جا ٹکرایا... مشن ’’چندریان 2‘‘ خلائی راکٹ تین حصوں پر مشتمل ہے: ایک حصہ لیونر آربٹر (Lunar orbitor) کہلاتا ہے جو چاند کے گرد چکر لگاتا رہے گا؛ دوسرا حصہ لیونر لینڈر (Lunar Lander) ہے جس کے ذریعے چاند پر لینڈ کیا جانا تھا؛ جبکہ تیسرا حصہ لیونر روور (Lunar Rover) یعنی چاند گاڑی ہے جسے چاند کی سطح پر چل کر مختلف مقامات سے مٹی کے نمونے اکٹھے کرنے تھے، جس کے ذریعے سے چاند پر پانی کی موجودگی سے متعلق اہم معلومات ملنے کی امید تھی۔ کائناتی اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ چاند زمین کے انتہائی نزدیک ہے جس وجہ سے زمین کی شدید کشش ثقل کے باعث یہ زمین کے ساتھ tidally lock ہے؛ یعنی زمین کے گرد چکر لگاتے ہوئے چاند کا ایک ہی رُخ ہمیشہ زمین کی جانب رہتا ہے۔ اسی وجہ سے چاند کے زمین کی جانب رہنے والے حصہ کو ’’روشن رُخ‘‘ (Light side) جبکہ دوسری جانب رہنے والے حصے کو تاریک حصہ (Dark side) بھی کہتے ہیں، اس کو مشن چاند کے تاریک حصے پر لینڈ کرنا تھا۔ اس سے پہلے چین وہ واحد ملک ہے جو چاند کے تاریک حصے پر لینڈ کرسکا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر پڑھا، چاند کے تاریک حصے کا رُخ زمین کی جانب نہیں ہوتا جس وجہ سے تاریک حصے پر موجود خلائی گاڑی براہ راست زمین کی جانب سگنل نہیں بھیج پائے گی۔ اسی خاطر لیونر روور ڈیٹا کو چاند کے گرد چکر لگاتے بھارتی سیٹیلائٹ یعنی لیونر آربٹر بھیجنے کی کوشش کی، جس نے بعد ازاں اس ڈیٹا کو زمین کی جانب نشر کردینا تھا۔ مستقبل میں انسان جب چاند پر کالونیاں بنائے گا تو اندازہ ہے کہ چاند کے اُسی حصے پر ڈیرے ڈالے گا جہاں چندریان 2 تحقیقات کی غرض سے لینڈ کرنے والا تھا۔ یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ 50 سال پہلے جب انسان نے چاند پر قدم رکھے تو اس دوران اپولو مشنز محض دو سے تین دنوں میں چاند پر پہنچ جاتے تھے۔ تو بھارتی مشن کو چاند پر پہنچنے کے لیے ڈیڑھ مہینہ کیوں لگا؟ اس کا سادہ سا جواب ہے ’’بچت۔‘‘ اپولو مشنز انسانی مشن تھے جن کے لیے سیٹرن فائیو (Saturn-V) راکٹ استعمال کیا گیا جس کی رفتار تیز تو تھی مگر وہ ایندھن بھی بہت زیادہ کھاتا تھا، جبکہ بھارت کی جانب سے لانچ کیا جانے والا مشن زمین کی کشش ثقل کو استعمال کرتے ہوئے اپنی رفتار بڑھاتا ہوا کم سے کم ایندھن استعمال کرتے ہوئے چاند پر پہنچنے کی کوشش کی۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے 2014 میں بھارتی خلائی ادارہ ’’انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن‘‘ (ISRO) مریخ کی جانب ’’منگلیان‘‘ نامی مشن انتہائی کم خرچ پر بھیج چکا ہے جو آج بھی مریخ کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ ناسا کی جانب سے مریخ کی طرف لانچ کیے جانے والے مشن کی لاگت 671 ملین امریکی ڈالر تک ہوتی ہے جبکہ بھارت نے یہی مشن 74 ملین امریکی ڈالر میں لانچ کیا، لہٰذا بھارت اسی ’’بچت پالیسی‘‘ کو اپناتے ہوئے چاند کی جانب گامزن ہے۔ یہاں یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ 2022 میں بھارت زمینی مدار میں اپنا خلائی اسٹیشن ’’گگن یان‘‘ چھوڑنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے جو ایک ہفتے تک زمین کے گرد چکر لگائے گا۔ اس میں تین بھارتی خلاء نورد سوار ہوں گے جو اس دوران کئی سائنسی تجربات انجام دیں گے۔ اس کے علاوہ بھارت کا 2020 میں سورج کی جانب، جبکہ 2023 میں سیارہ زہرہ کی جانب بھی ایک غیر انسان بردار مشن بھیجنے کا ارادہ ہے۔

Friday, August 23, 2019

*ماہ اگست کے روشن ستارے ** *اردو کارواں با اشتراک ڈی ایڈ کالج خلافت ہاوس بایکلہ کا منفرداور اہم پروگرام ** ممبیء 22اگست اردو کارواں نے ڈی ایڈ کالج خلافت ہاوس بائکلہ کے اشتراک سے اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام رکھا جس کے تحت ماہ اگست میں جن علمی و ادبی شخصیات کی سالگرہ ہے جن میں استاد ذوق، مولوی عبدالحق، شکیل بدایونی، عصمت چغتائی، صالحہ عابد حسین، کے نام سر فہرست ہیں. ان فن اور ادبی سرگرمیوں کا احاطہ کیا گیا. پروگرام کی ابتداء، تلاوت کلام پاک اور حمد و نعت سے کی گیء مہمان مقرر پروفیسر آصف (مہاراشٹر کالج) شکیل بدایونی کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ انکی شاعری میں تنوع اور نیا پن ہونے کے ساتھ ساتھ رومانیت، نظر آتی ہے وہ اپنے کلام میں رومانیت کا اعلیٰ معیار قایم کرتے نظر آتے ہیں صالحہ عابد حسین کا افسانہ زندگی نام ہے مر مر کے جیے جانے کا مہاراشٹر کالج کی بی اے سال سوم کی طالبہ صبیحہ نے موثر انداز میں پیش کیا اور فرید احمد خان صدر اردو کارواں ممبیء نے تبصرہ پیش کرتے ہوے کہا کہ صالحہ عابد حسین کے افسانوں میں سماجی اصلاح کا پہلو نمایاں طور پر نظر آتا ہے وہ اپنے افسانوں میں سماج میں پیدا ہونے والےچھوٹے چھوٹے مسایل پر بڑی چابکدستی سے قلم اٹھاتی ہیں.. اور رشتوں کے احساس اور اسکی نزاکت کو بڑی خوبصورتی سے پیش کرتی ہیں. نوجوان شاعر و ادیب محسن ساحل نے استاد ذوق کی شخصیت و شاعری پر بات کرتے ہوے بتایا کہ وہ اٹھارہ زبانوں کے مالک تھے اور ان میں اور مرزا غالب میں ادبی چشمک بھی رہا کرتی تھی.. اس سے وابستہ ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا ڈوق اور مرزا غالب کے کلام کا تقابلی جایزہ بھی لیا.. پروفیسر شبانہ خان نے قدیم کلاسیکی اور جدید شعری اور نثری اردو ادب کا جایزہ لیتے ہوے کہا کہ ہم لوگ مستقبل کے اساتذہ سے مخاطب ہیں... لہزا ان سے گذارش ہے کہ وہ مشاہدے کی عادت پیدا کریں، مشاہدہ احساس پیدا کرتا اور اور احساس لکھنے پر آمادہ کرتا اور کہانیاں یا افسانے جنم لیتے ہیں... پروفیسر اظفر (شعبہء اردو مہاراشٹر کالج) نے اپنے صدارتی خطبے میں تمام باتوں کا احاطہ کرتے ہوے بتایا کہ جن شخصیات کا یہاں ذکر ہو رہا ہے انہوں نے اپنی محنت اور لگن کی بناء پر یہ مقام بنایا کہ وہ آج اس ادبی محفل میں یاد کیے جا رہے ہیں مولوی عبدالحق کے تعلق سے کہا کہ اردو ذبان و ادب سے انکی محبت کا عالم یہ تھا کہ تصنیف و تحقیق کو ہی اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا اس موقع پر انھوں نے خاص طور پر عصمت چغتائی کے انداز تحریر کا ذکر کرتے ہوے کہا کہ فن کار کے فن میں نکھار تب ہی آتا ہے جب اس نے جو کچھ لکھا ہے اس کے تجربہ سے بھی گذرا ہو... عصمت کے یہاں جو باغیانہ تیور ہیں اور حالات سے لڑ کر اپنی بات منوانے کا رجحان ہے وہ اسی لیے ہے کہ وہ ایسے حالات سے کافی قریب سے گذری تھیں... آخر میں شبانہ خان شکریہ کی رسم انجام دیتے ہوے بطور خاص ڈی ایڈ کالج خلافت ہاوس بایکلہ کی انتظامیہ، پرنسپل شبانہ ونو، تدریسی عملہ انیسہ خان، امیمہ انصاری، اور شمامہ انصاری اور منتظم شارق سر، غیر تدریسی عملہ کا شکریہ ادا کرتے ہوے، آر سی ڈی ایڈ کالج امام باڑہ کی پرنسپل سایرہ خان، وسیم سر اور جملہ اسٹاف اور دونوں کالج کی طالبات کے ساتھ ساتھ ایس این ڈی ٹی کالج کی طالبات بطور خاص آفرین اور القمہ کا شکریہ ادا کیا اور قومی ترانے کے بعد ادبی پروگرام کا اختتام ہوا.

Wednesday, August 07, 2019

تعلیمی بہتری کے لیے اجتمائ احتساب

تعلیمی بہتری کے لیے اجتماعی احتساب اور انتھک جد وجہد کی اشد ضرورت: طاہر شاہ

ممبئی :جماعت اسلامی ہند ممبئی میٹرو اور آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس ایسوسیشن کے اشتراک سے امسال جماعت دہم کے ریاست گیر  ناقص نتائج کے تناظر میں ایک مذاکرے کا انعقاد بتاریخ 7 اگست بمقام میئر ہال اندھیری میں اساتذہ،انتظامیہ اور محبان قوم و ملت کے لیے کیا گیا۔
حسب روایت پروگرام کا آغاز آغاز تلاوتِ قرآن سے ہوا، ناظم شہر جماعت اسلامی ممبی میٹرو جناب عبد الحسیب بھاٹکر صاحب نے  پروگرام کی غرض و غایت پیش کی انھوں نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ تربیت انتہائی ضروری ہے اور انھوں نےکہا کہ ہمیں اپنا اجتماعی احتساب کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنی خامیوں کو دور کر سکیں اور اجتماعی طور پر معیار تعلیم کی بلندی کیلئے جدوجہد کر یں۔ بعد ازاں اس اہم عنوان پر حبیب سر  کے ذریعے ڈسکشن کروایا گیا۔ ڈسکشن میں تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے کیا کوشیشیں کی جارہی ہے۔ دہم جماعت کے تشویش ناک نتایج کی وجوہات پر گفتگو کی گی اداروں کے منتظمین کے مسایل اور ان تمام مسائل کے حل سے متعلق تفصیل سے گفتگو کی گئی
طلباء کی ابتدا ہی سے ہمہ جہت ارتقاء کی طرف پیش روی،والدین سے تعاون،اساتذہ کی خالی اسامیوں کو مکمل کرنے کی پہل،کمزور طلبہ کے لیے مخصوص نشستیں،اساتذہ کی حوصلہ افزائی،مثبت رویہ وغیرہ عناوین کو زیرِ بحث لایا گیا۔تمام ہی شرکا نے دلجمعی سے حصہ لیا اور مستقبل میں اپنی محنت اور ذمےداریوں میں مزید استحکام کے ساتھ کوشش کرنے اور کروانے پر زور دیا۔
مہمان مقررین میں سلمیٰ لو کھنڈوالا صاحبہ، صباپٹیل صاحبہ ،ڈاکٹر مصطفیٰ پنجابی صاحب ٗ جناب محمد رفیق شیخ سر ،ڈاکٹر عظیم الدین صاحب،ناصر علی شیخ بی.او، خان ناصر اکرم ،خان مہتاب صاحب،افضل مرچنٹ صاحب ،منصف قریشی صاحب ،لئيق غازی صاحب اور دیگر معزز پرنسپل صاحبان، سماجی، ادبی شخصیات اور اساتذہ وغیرہ موجود تھے۔
پروگرام میں مہمانِ خصوصی کے طور پر مقامی سابق میونسپل کارپوریٹر  جناب محسن حیدر صاحب اور میونسپل کارپوریٹر مہرمحسن حیدر صاحبہ رہے جنہوں نے کافی مثبت مشوروں سے نوازا اور بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے ہمت افزائی کی۔
پروگرام کی صدارت طاہر شاہ صاحب(صدر آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس ایسوسیشن) نے کی جنہوں نے اختمامی خطاب میں اساتذہ،منیجمنٹ،محبان قوم و ملت کے لئے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی اور اجتماعی سطح پر مضبوط اور انتھک کوشش کرنے پر ابھارا۔انھوں نےکہا کہ یہ پروگرام تعلیمی بہتری کے لیے اجتماعی جدوجہد کا آغاز ہے۔

Saturday, July 27, 2019

ایک متاثرکن واقعہ




ابو نصر الصیاد نامی ایک شخص، اپنی بیوی اور ایک بچے کے ساتھ غربت و افلاس کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ ایک دن وہ اپنی بیوی اور بچے کو بھوک سے نڈھال اور بلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جا رہا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا ایک عالم دین احمد بن مسکین سے ہوا، جسے دیکھتے ہی ابو نصر نے کہا؛ اے شیخ میں دکھوں کا مارا ہوں اور غموں سے تھک گیا ہوں۔
شیخ نے کہا میرے پیچھے چلے آؤ، ہم دونوں سمندر پر چلتے ہیں۔
سمندر پر پہنچ کر شیخ صاحب نے اُسے دو رکعت نفل نماز پڑھنے کو کہا، نماز پڑھ چکا تو اُسے ایک جال دیتے ہوئے کہا اسے بسم اللہ پڑھ کر سمندر میں پھینکو۔
جال میں پہلی بار ہی ایک بڑی ساری عظیم الشان مچھلی پھنس کر باہر آ گئی۔ شیخ صاحب نے ابو نصر سے کہا، اس مچھلی کو جا کر فروخت کرو اور حاصل ہونے والے پیسوں سے اپنے اہل خانہ کیلئے کچھ کھانے پینے کا سامان خرید لینا۔
ابو نصر نے شہر جا کر مچھلی فروخت کی، حاصل ہونے والے پیسوں سے ایک قیمے والا اور ایک میٹھا پراٹھا خریدا اور سیدھا شیخ احمد بن مسکین کے پاس گیا اور اسے کہا کہ حضرت ان پراٹھوں میں سے کچھ لینا قبول کیجئے۔ شیخ صاحب نے کہا اگر تم نے اپنے کھانے کیلئے جال پھینکا ہوتا تو کسی مچھلی نے نہیں پھنسنا تھا، میں نے تمہارے ساتھ نیکی گویا اپنی بھلائی کیلئے کی تھی نا کہ کسی اجرت کیلئے۔ تم یہ پراٹھے لے کر جاؤ اور اپنے اہل خانہ کو کھلاؤ۔
ابو نصر پرااٹھے لئے خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ اُس نے راستے میں بھوکوں ماری ایک عورت کو روتے دیکھا جس کے پاس ہی اُس کا بیحال بیٹا بھی بیٹھا تھا۔ ابو نصر نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے پراٹھوں کو دیکھا اور اپنے آپ سے کہا کہ اس عورت اور اس کے بچے اور اُس کے اپنے بچے اور بیوی میں کیا فرق ہے، معاملہ تو ایک جیسا ہی ہے، وہ بھی بھوکے ہیں اور یہ بھی بھوکے ہیں۔ پراٹھے کن کو دے؟ عورت کی آنکھوں کی طرف دیکھا تو اس کے بہتے آنسو نا دیکھ سکا اور اپنا سر جھکا لیا۔ پراٹھے عوررت کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا یہ لو؛ خود بھی کھاؤ اور اپنے بیٹے کو بھی بھی کھلاؤ۔ عورت کے چہرے پر خوشی اور اُس کے بیٹے کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
ابو نصر غمگین دل لئے واپس اپنے گھر کی طرف یہ سوچتے ہوئے چل دیا کہ اپنے بھوکے بیوی بیٹے کا کیسے سامنا کرے گا؟
گھر جاتے ہوئے راستے میں اُس نے ایک منادی والا دیکھا جو کہہ رہا تھا؛ ہے کوئی جو اُسے ابو نصر سے ملا دے۔ لوگوں نے منادی والے سے کہا یہ دیکھو تو، یہی تو ہے ابو نصر۔ اُس نے ابو نصر سے کہا؛ تیرے باپ نے میرے پاس آج سے بیس سال پہلے بتیس ہزار درہم امانت رکھے تھے مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ ان پیسوں کا کرنا کیا ہے۔ جب سے تیرا والد فوت ہوا ہے میں ڈھونڈتا پھر رہا ہوں کہ کوئی میری ملاقات تجھ سے کرا دے۔ آج میں نے تمہیں پا ہی لیا ہے تو یہ لو تیس ہزار درہم، یہ تیرے باپ کا مال ہے۔
ابو نصر کہتا ہے؛ میں بیٹھے بٹھائے امیر ہو گیا۔ میرے کئی کئی گھر بنے اور میری تجارت پھیلتی چلی گئی۔ میں نے کبھی بھی اللہ کے نام پر دینے میں کنجوسی نا کی، ایک ہی بار میں شکرانے کے طور پر ہزار ہزار درہم صدقہ دے دیا کرتا تھا۔ مجھے اپنے آپ پر رشک آتا تھا کہ کیسے فراخدلی سے صدقہ خیرات کرنے والا بن گیا ہوں۔
ایک بار میں نے خواب دیکھا کہ حساب کتاب کا دن آن پہنچا ہے اور میدان میں ترازو نصب کر دیا گیاہے۔ منادی کرنے والے نے آواز دی ابو نصر کو لایا جائے اور اُس کے گناہ و ثواب تولے جائیں۔
کہتا ہے؛ پلڑے میں ایک طرف میری نیکیاں اور دوسری طرف میرے گناہ رکھے گئے تو گناہوں کا پلڑا بھاری تھا۔
میں نے پوچھا آخر کہاں گئے ہیں میرے صدقات جو میں اللہ کی راہ میں دیتا رہا تھا؟
تولنے والوں نے میرے صدقات نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دیئے۔ ہر ہزار ہزار درہم کے صدقہ کے نیچے نفس کی شہوت، میری خود نمائی کی خواہش اور ریا کاری کا ملمع چڑھا ہوا تھا جس نے ان صدقات کو روئی سے بھی زیادہ ہلکا بنا دیا تھا۔ میرے گناہوں کا پلڑا ابھی بھی بھاری تھا۔ میں رو پڑا اور کہا، ہائے رے میری نجات کیسے ہوگی؟
منادی والے نے میری بات کو سُنا تو پھر پوچھا؛ ہے کوئی باقی اس کا عمل تو لے آؤ۔
میں نے سُنا ایک فرشہ کہہ رہا تھا ہاں اس کے دیئے ہوئے دو پُراٹھے ہیں جو ابھی تک میزان میں نہیں رکھے گئے۔ وہ دو پُراٹھے ترازو پر رکھے گئے تو نیکیوں کا پلڑا اُٹھا ضرور مگر ابھی نا تو برابر تھا اور نا ہی زیادہ۔
مُنادی کرنے والے نے پھر پوچھا؛ ہے کچھ اس کا اور کوئی عمل؟ فرشتے نے جواب دیا ہاں اس کیلئے ابھی کچھ باقی ہے۔ منادی نے پوچھا وہ کیا؟ کہا اُس عورت کے آنسو جسے اس نے اپنے دو پراٹھے دیئے تھے۔
عورت کے آنسو نیکیوں کے پلڑے میں ڈالے گئے جن کے پہاڑ جیسے وزن نے ترازو کے نیکیوں والے پلڑے کو گناہوں کے پلڑے کے برابر لا کر کھڑا کر دیا۔ ابو نصر کہتا ہے میرا دل خوش ہوا کہ اب نجات ہو جائے گی۔
منادی نے پوچھا ہے کوئی کچھ اور باقی عمل اس کا؟
فرشتے نے کہا؛ ہاں، ابھی اس بچے کی مُسکراہٹ کو پلڑے میں رکھنا باقی ہے جو پراٹھے لیتے ہوئے اس کے چہرے پر آئی تھی۔ مسکراہٹ کیا پلڑے میں رکھی گئی نیکیوں والا پلڑا بھاری سے بھاری ہوتا چلا گیا۔ منادی کرنے ولا بول اُٹھا یہ شخص نجات پا گیا ہے۔
ابو نصر کہتا ہے؛ میری نیند سے آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنے آپ سے کہا؛ اے ابو نصر آج تجھے تیرے بڑے بڑے صدقوں نہیں بلکہ
*"آج تجھے تیری 2 روٹیوں نے بچا لیا".*
        

Friday, July 26, 2019

صحیفہ محبت کا اجراء

*ناسک میں صحیفہء محبت کا اجرائے ثانی*

ناسک 21 جولائی : بھتڑا فاؤنڈیشن ،ناسک کی جانب سے  بھساول سے جاری ہونے والے ادبی رسالہ صحیفہء محبت کی تقریب اجرائے ثانی ہمسفر،چوپڑا لان، ناسک میں نہایت ہی شاندار طریقے سے منعقد ہوئی ـ یہ تقریب دو سیشن پر مشتمل رہی اور دونوں ہی سیشن کی صدارت ناسک کے سپرنٹنڈنٹ آف پولس (SP) جناب سنیل کڑاسنے نے فرمائی ـ اس موقع پر جاوید انصاری نے انٹرنیٹ کے اس دور میں علمی ادبی رسائل و جرائد کی اہمیت سے روشناس کرایا ـ آپ نے مطالعے کو روح کی غذا ثابت کرتے ہوئے موجودہ حالات ہی سے اس کی راہیں نکالنے کی بات کی ـ آپ نے کہا کہ انٹرنیٹ، واٹس ایپ، فیسبک وغیرہ پر فضولیات سے پرے انھی کی توسط دنیا جہان کی علمی و ادبی کتابوں سے بہت ہی سہولت اور آسانی کے ساتھ رابطہ استوار کیا جا سکتا ہے ـ یوں انھی حوالوں سے ہم اپنے ذوق مطالعے کی آبیاری بھی کر سکتے ہیں اور ان سارے میڈیم کو اپنے لیے صحیح مصرف ثابت کر سکتے ہیں ـ اقبال برکی اور وسیم عقیل شاہ نے اپنے تاثرات میں رسالہ صحیفہء محبت کے معیاری مشمولات کو سراہا اور امید کی کہ مستقبل میں بھی یہ رسالہ اسی معیار کو قائم رکھے گا اور پابندی وقت کے ساتھ شائع ہوتا رہے گا ـ خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے محترم سنیل کڑاسنے نے اردو کو اپنی پسندیدہ بلکہ اولین پسندیدہ زبان بتائی ـ آپ نے صاف اور سلیس اردو زبان میں اپنا اظہاریہ دیا جس میں انھوں نے اردو کو محبت کی زبان کہا نیز اس کی ادبی و سماجی اہمیت پر روشنی ڈالی ـ ساتھ ہی ساتھ رسالہ صحیفہء محبت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعی یہ رسالہ محبت کا پیغام دے رہا ہے اور اس وقت ملک و سماج کو سب سے زیادہ محبت کی ضرورت ہے ـ پروگرام کے دوسرے سیشن میں ایک شعری نشست کا انعقاد عمل میں آیا جس میں ضیا باغپتی، شکیل حسرت ، احد امجد، مشتاق ساحل ، زبیر علی تابش، ناصر شکیب ندیم مرزا اور افسر خان افسر نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ـ اس ادبی پروگرام کے دونوں سیشن میں نظامت کے فرائض ہارون عثمانی نے بہ حسن و خوبی انجام دیے اور رسم شکریہ نند کشور بھتڑا نے ادا کی ـ اس نشست میں محبان اردو برادران وطن کے ساتھ ہی اردو داں حلقے نے کثیر تعداد میں شرکت کی ـ

زیر نظر تصویر میں دائیں سے اقبال برکی، شکیل حسرت ،سنیل کڑاسنے ، پاروتا بائی بھتڑا ،انیل اگروال، نند کشور بھتڑا اور ضیا باغپتی ـ

Wednesday, May 22, 2019

میں روزے سے ہوں

... کچھ مذاقیہ انداز میں ....

   .... کہ میں روزے سے ہوں
ا____________________

"گھر والوں سے.."
ا_______________

نہ لو مجھ سے کوئی کام، کہ میں روزے سے ہوں
سونے دو مجھے آرام سے، کہ میں روزے سے ہوں

بچوں اب نہ شرارت کرو، دور رہو، نہ آؤ پاس
تکلیف ہوگی، پڑھنے میں تراویح، کہ میں روزے سے ہوں

بچوں کھیلنا ہے تو دور جا کر کھیلو، سونے دو
نہ سوؤں گا تو لگے گا روزہ، کہ میں روزے سے ہوں

ائے جانِ من، کچھ دن کی تو بات ہے، تم بھی ذرا خاموش رہو
کان میں گئ بُری بات، تو ہوگا پاپ، کہ میں روزے سے ہوں

اب سونے دو مجھے، نہ جگاؤ مجھے بار بار
صرف نماز میں اُٹھاؤ، کہ میں روزے سے ہوں

"دوستوں سے.."
ا____________

یارو نہ کھاؤ میرے سامنے، میرا تو خیال کرو
دل للچائیگا کھانے کو، کہ میں روزے سے ہوں

آج کون دے گا مجھے افطاری کی پارٹی
کہ میں صرف کھاؤں گا، کیونکہ میں روزے سے ہوں

یارو، ہم سب مل کر، چھ بجے، چل دینگے جانبِ ہوٹل
جگہ بھی تو ملنی چاہیئے ہوٹل میں، کے میں روزے سے ہوں

کب ہوگا افطاری کا وقت، بیٹھے بیٹھے تھک چکا ہوں
بھوک سے کیڑے ناچ رہے ہیں، کہ میں روزے سے ہوں

"آفس میں.."
ا__________

نہ لو کوئی کام مجھ سے، اور نہ دو کوئی کام مجھے
آرام سے بیٹھنے کرسی پر، کہ میں روزے سے ہوں

آفس میں جا کر کہا، فائل رہنے دو ایک ماہ دُور مجھ سے
جب ختم ہو گا رمضان، کام کروں گا، کہ میں روزے سے ہوں

باس نے کہا، کچھ سوچ کر اس ناکارہ انسان سے
نہ مانگو اس ماہ کی تنخواہ، کہ میں بھی روزے سے ہوں

دیتا ہوں رمضان میں، میں، زکواۃ فطرہ، کمانے کیلئے ثواب
لینا ہے تو لے لینا زکواۃ و فطرہ، کہ میں بھی روزے سے ہوں

تنخواہ تو ملیگی ضرور، جو محنت کر رہا ہے آفس میں
تم تو روزے سے ہو، نہ مانگو مجھ سے، کہ میں روزے سے ہوں

"خاص بات..."
ا___________

کہاں لکھا ہے روزے دار سے ہوتا نہیں ہے کوئی کام
کر رہے ہیں کام، اور بھی، میں بھی روزے سے ہوں

کہتے ہیں کہ اس سال کے روزے بہت ٹھنڈے گئے
دن بھر سوتے رہے، روزے ٹھنڈے گئے کہ میں روزے سے ہوں

کیا بتاؤں زمان، دیکھ کر آج کل کے مسلمانوں کے روزے
روزہ رکھ کر دن بھر سوتے رہتے ہیں، اور کہتے ہیں، میں روزے سے ہوں

Sunday, March 17, 2019

اختر الایمان کے یومِ وفات پر

💐💐💐

*ایک احساس*

غنودگی سی رہی طاری عمر بھر ہم پر
یہ آرزو ہی رہی تھوڑی دیر سو لیتے
خلش ملی ہے مجھے اور کچھ نہیں اب تک
ترے خیال سے اے کاش درد دھو لیتے
مرے عزیزو مرے دوستو گواہ رہو
برہ کی رات کٹی آمد سحر نہ ہوئی
شکستہ پا ہی سہی ہم سفر رہا پھر بھی
امید ٹوٹی کئی بار منتشر نہ ہوئی
ہیولیٰ کیسے بدلتا ہے وقت حیراں ہوں
فریب اور نہ کھائے نگاہ ڈرتا ہوں
یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے پل پل میں
ہزار بار سنبھلتا ہوں اور مرتا ہوں
وہ لوگ جن کو مسافر نواز کہتے تھے
کہاں گئے کہ یہاں اجنبی ہیں ساتھی بھی
وہ سایہ دار شجر جو سنا تھا راہ میں ہیں
سب آندھیوں نے گرا ڈالے اب کہاں جائیں
یہ بوجھ اور نہیں اٹھتا کچھ سبیل کرو
چلو ہنسیں گے کہیں بیٹھ کر زمانے پر

                🏵 *اختر الایمان* 🏵

*︗​︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗*
     *✧◉➻انتخاب : شفیق جے ایچ➻◉✧*

Tuesday, January 29, 2019

انٹرویو

     بڑی دوڑ دھوپ کے بعد وہ آفس پہنچ گیا _ آج اس کا انٹرویو تھا ۔

     وہ گھر سے نکلتے ہوئے سوچ رہا تھا : اے کاش ، آج میں کامیاب ہو گیا تو فوراً اپنے پشتینی مکان  کو خیر باد کہہ دونگا اور یہیں شہر میں قیام کروں گا  _ امی اور ابو کی روزانہ کی مغزماری  سے جان چھڑا لوں گا ۔!
      صبح جاگنے سے لےکر رات کو سونے تک ہونے والی مغز ریزی سے اکتا گیا ہوں ، بیزار ہو گیا ہوں ۔
     صبح غسل خانے کی تیاری کرو تو حکم ہوتا ہے :پہلے بستر کی چادر درست کرو پھر غسل خانے جاؤ !
     غسل خانے سے نکلو تو فرمان جاری ہوتا ہے: نل بند کردیا _ تولیہ سہی جگہ پر رکھا ہے یا یوں ہی پھینک دیا ؟
     ناشتہ کرکے کے گھر سے نکلنے کا سوچو تو ڈانٹ پڑی : پنکھا بند کیا یا چل رہا ہے ؟
    کیا کیا سنیں؟؟! یار، نوکری ملے تو گھر چھوڑ دوں گا -

     آفس میں  بہت سے امیدوار بیٹھے "باس " کا انتظار کر رہے تھے _ دس بج گئے تھے  _ اس نے دیکھا ، پیسج کی  بتی ابھی تک جل رہی ہے _ امی یاد  آگئیں تو بتی بجھا دی ۔ آفس کے دروازے پر کوئی نہیں تھا _
بازو میں رکھے واٹر کولر سے پانی رس رہاتھا ، اس کو بند کردیا _ والد صاحب کی ڈانٹ یاد آگئی _
      بورڈ لگا تھا : انٹرویو دوسری منزل پر ہوگا !
      سیڑھی کی لائٹ بھی جل رہی تھی _ اسے بند کرکے آگے بڑھا تو ایک کرسی سر راہ دکھائی دی _ اسے ہٹاکر اوپر گیا_  دیکھا ، پہلے سے موجود امیدوار اندر جاتے اور فوراً واپس آجاتے تھے _ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ اپلیکیشن لے کر کچھ پوچھتے نہیں ہیں ، فوراً واپس بھیج دیتے ہیں ۔

      میرا نمبر آنے پر میں نے اپنی فائل مینجر کے سامنے رکھ دی _ تمام کاغذات دیکھ کر مینجر نے پوچھا : کب سے جوائن کر رہے ہو ؟
      ان کے سوال پر مجھے یوں لگا ، جیسے آج یکم اپریل ہو اور یہ مجھے 'فول' بنا رہے ہیں -
مینجر نے محسوس کر لیا اور کہا : اپریل فول نہیں ، حقیقت ہے ۔

     آج کے انٹرویو میں کسی سے کچھ پوچھا ہی نہیں گیا ہے_  صرف CCTV میں امیدواروں کا برتاؤ دیکھا گیا ہے _  سبھی امیدوار آئے ، مگر کسی نے  نل یا لائٹ بند نہیں کی ، سوائے تمھارے _
     مبارک باد کے مستحق ہیں تمہارے والدین ، جنہوں نے تمہیں تمیز اور تہذیب سکھائی ہے  _
     جس شخص کے پاس Self Discipline نہیں ، وہ چاہے جتنا ہوشیار اور چالاک ہو ، مینجمینٹ اور زندگی کی دوڑ میں پوری طرح کام یاب نہیں ہو سکتا  _
     یہ سب ہو جانے کے بعد میں نے پوری طرح طے کر لیا کہ گھر پہنچتے ہی امی اور ابو سے معافی مانگ کر انہیں بتاؤں گا کہ آج اپنی زندگی کی پہلی آزمائش میں ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر روکنے اور ٹوکنے کی باتوں نے مجھے جو سبق پڑھایا ہے ان کے مقابل میری ڈگری کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔
     زندگی کے سفر میں تعلیم ہی نہیں ، تہذیب کا اپنا مقام ہے _
( منقول )

Sunday, January 27, 2019

کرشن موہن

*آج - 27 / جنوری

*اسلوب زبان، قدیم ہندوستانی فکر اور ممتاز و معروف شاعر” کرشن موہنؔ “ کی برسی...*

نام *کرشن لال بھاٹیا*   تخلص *کرشن موہنؔ* تھا ۔ *٢٨ نومبر ١٩٢٢ء* کو *سیالکوٹ* پیدا ہوئے ۔  ان کے والد، *گنپت رائے بھاٹیا* میروت کی ضلعی عدالت میں وکیل تھے۔ *گنپت رائے* بھی اردو شاعر تھے، ان کا تخلص *شاکرؔ* تھا۔ اپنے اسکول کے مطالعے کو مکمل کرنے کے بعد، کرشن موہن نے اپنا بی اے  (Hon' s)کی ڈگری حاصل کی اور فارسی میں مریے کالج، سیالکوٹ کے طالب علم کے طور پر جہاں وہ کالج ہاؤس میگزین کے ایڈیٹر بھی تھے۔ بعد میں انہوں نے گورنمنٹ کالج، لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، برطانوی بھارت کے تقسیم کے بعد ان کے خاندان کرنال منتقل ہوگئے جہاں کرشن موہن نے فلاح و بہبود کے ملازمین کے طور پر عارضی ملازمت کی ۔  اس کے بعد صحافیوں کے طور پر آل انڈیا ریڈیو کے اشاعت *"موج"* کے طور پر کام کیا. ان کی نظموں کی مجموعی آٹھ کتابیں شائع کی گئیں ہیں جن میں اب تک *'شبنم شبنم '، دلِ ناداں '،' تماشا '،' غزل '،' نگاہِ ناز '،'آہنگِ وطن'، 'بیراگی بھنورا '، ' شیرازہ '،' میشگان '،' گیان مارگ کی نظمیں '،' کفرستان '،' اداسی کے پانچ روپ '،' ہرجائی '،' تیری خوشبو '* وغیرہ۔سال  *٢٧ جنوری ٢٠٠٤ء* کو دہلی میں کرشن موہن کی وفات ہوی۔

💦 *معروف شاعر کرشن موہنؔ  کی برسی پر منتخب اشعار اظہارِ عقیدت...* 💦

جب بھی کی تحریر اپنی داستاں
تیری ہی تصویر ہو کر رہ گئی
---
جب بھی ملے وہ ناگہاں جھوم اٹھے ہیں قلب و جاں
ملنے میں لطف ہے اگر ملنا ہو کام کے بغیر
---
زندگی کے آخری لمحے خوشی سے بھر گیا
ایک دن اتنا ہنسا وہ ہنستے ہنستے مر گیا
---
مکاں اندر سے خستہ ہو گیا ہے
اور اس میں ایک رستہ ہو گیا ہے
---
*وہ کیا زندگی جس میں جوشش نہیں*
*وہ کیا آرزو جس میں کاوش نہیں*
---
کریں تو کس سے کریں ذکرِ خانہ ویرانی
کہ ہم تو آگ نشیمن کو خود لگا آئے
---
*نالۂ صبح کے بغیر گریۂ شام کے بغیر*
*ہوتا نہیں  وصال یار سوز دوام کے بغیر*
---
کچھ حقائق کو اگر میں نے کیا ہے بے نقاب
ہو گئے ناراض مجھ سے شعر کے نباض کیوں
---
*جنوں عرفان بن کر رہ گیا ہے*
*یہ کفر ایمان بن کر رہ گیا ہے*
---
*ترس رہا ہوں عدم آرمیدہ خوشبو کو*
*کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں رمیدہ آہو کو*
---
آرزو  تدبیر  ہو  کر رہ گئی
جستجو تاخیر ہو کر رہ گئی
---
بابِ حسرت داستانِ شوق تصویرِ امید
لمحہ لمحہ زندگی اوراق الٹتی جائے ہے
---
*چاہتوں کا جہان ہے اردو*
*راحتوں  کا  نشان  ہے  اردو*
---
کوئی امید نہ بر آئی شکیبائی کی
اس نے باتوں میں بہت حاشیہ آرائی کی
---
ہم تو اب جاتی رتیں ہیں ہم سے یہ اغماض کیوں
جرم کیا ہم نے کیا ہے آپ ہیں ناراض کیوں
---
*دبستانِ سخن اب کرشنؔ موہن*
*شعور‌ستان

             

         

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP