You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Friday, October 05, 2018

Monday, September 24, 2018

عوامی اتحاد ویلفیئر اور لنترانی میڈیا کے اشتراک سے قومی ایکتا تقریب کا انعقاد

عوامی اتحاد ویلفیئر اور لنترانی میڈیا کے اشتراک سے قومی ایکتا تقریب کا انعقاد

تھانہ  : گذشتہ دنوں قومی یکجہتی کی تقریب کا انعقاد عوامی ویلفیئر ایسو سیشن اور لنترانی میڈیا کے اشتراک سے تھانہ کے این ٹی کالج میں کیا گیا ، تقریب کا اآغاز انصار شیخ نے بہت پیاری حمد سنائی۔ اس کے بعد ایم ایچ انٹرٹینمنٹ (لنترانی میڈیا کی شاخ) کی جانب سے تمام گلوکاروں نے بہت ہی بہترین نغمےسنائے جس میں محمد رفیع ، کشور کماراور مکیش کے علاوہ اور بھی کئی لوگوں کے گانے گائے کالج میں بیٹھے تمام لوگوں نے تالیاں بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی ۔ عوامی اتحاد ویلفیئر ایسو سیشن تھانہ میں ضرورت مند کے لئے بہت سے فلاحی کام کرتے آرہی ہیں۔صدر رشید سید، ناصر نائیک جنرل سیکریٹری، اشفاق شیخ خزانچی، مہیلا بچت گٹ کی صدر ریشما خان، روبینہ میمن، عائشہ شیخ، مقامی نگر سیویکا انکیتا شندے ، آئیڈیل اسکول کے ٹرسٹیان بھی موجود تھے۔ عوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان نے سبھی لوگوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بہت اچھی تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے ایسی تقریب ہوتے رہنا چاہئیے۔ آج کے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی یکجہتی تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ گلوکاروں نے حب الوطنی پر بہت ہی اچھے گانے پیش کئے۔ نظامت کے فرائض یاسمین شیخ اور حسرت خان نے بخوبی نبھاتے ہوئے دونوں نے تقریب کے دوران بہت ہی دلچسپ لطیفے بھی سنائے، محبّ اردو ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کئی بار عمدہ اشعار بھی لوگوں کو سنائے ، این کے ٹی کالج ہال میں بیٹھے کثیر تعداد میں لوگوں نے تالیاں ںبجاتے ہوئے حوصلہ افزائی کی او اپنے موجودگی دکھائی۔ عوامی اتحاد ویلفیئر ایسو سیشن کی جانب سے ایم ایچ انٹرٹینمنٹ ناصر نائیک، نگر سیویکا انکیتا شندے کے ذریعے منور سلطانہ اور حنیف شیخ کو گلدستہ اور ٹرافی بطور ایوارڈ سے نوازا ساتھ ہی تمام سنگرس کو بھی کمیٹی کی جانب سے ایوارڈ سے نوازاگیا سلام بن عثمان (افسانہ نگار، صحافی) لنترانی میڈیا کے فعال رکن کو بھی سماجی خدمت ایوارڈ دیا گیا۔ علاقے کے جوڈو کراٹے کلاس کے استادذاکر شیخ، انس شیخ اور بچوں کو بھی ایوارڈ دیا گیا جس میں ایک سات سال کا بھی بچہ تھا۔ تقریب کے اختتام میں حسرت خان نے رسم شکریہ ادا کیا۔







Saturday, September 22, 2018

.

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے
ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے

کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو
شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے

آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن
آتے جاتے جو ملتا ہے تم سا لگتا ہے

اس بستی میں کون ہمارے آنسو پونچھے گا
جو ملتا ہے اس کا دامن بھیگا لگتا ہے

دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہیں
شام ڈھلے اس سونے گھر میں میلہ لگتا ہے

کس کو پتھر ماروں قیصرؔ کون پرایا ہے
شیش محل میں اک اک چہرا اپنا لگتا ہے

قیصر الجعفری

Tuesday, August 28, 2018

فراق گورکھپووری

*_ 28 / اگست / 1896ء... _*

*بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں شمار، ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، اپنے بصیرت افروز تنقیدی تبصروں کے لئے مشہور شاعر” فراقؔ  گورکھپوری صاحب “ کا یومِ پیدائش...*

نام *رگھوپتی سہائے*، تخلص *فراقؔ*، *28 اگست 1896ء* کو *گورکھپور (اترپردیش)* میں پیدا ہوئے۔ گھر میں شعرو شاعری کا چرچا عام تھا۔ ان کے والد *منشی گورکھ پرشاد عبرتؔ* بھی مشہور شاعر تھے ۔فراق نے تعلیم آلہ آباد میں حاصل کی اور اردو اور فارسی کے علاوہ انگریزی میں بھی اعلی لیاقت حاصل کی۔ بعد میں انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوگئے۔ کچھ مدت تک *جواہر لعل نہرو* کے ساتھ کام کیا۔ جیل بھی گئے۔انگریزی میں ایم۔ اے کرنے کے بعد الہ آباد یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد ہوگئے ۔یہیں سے 1959میں ریٹائر ہوئے۔ فراق گورکھپوری کے کلام کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔ ان میں *’’روحِ کائنات‘‘ ،’’رمز و کنایات‘‘،’’غزلستان‘‘، ’’شبنمستان‘‘* اور *’’گلِ نغمہ‘‘* خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ *’’اندازے‘‘* اور ان کی کتاب *’’اردو کی عشقیہ شاعری‘‘* بہت اہمیت رکھتی ہے ۔ شاعری میں *فراقؔ*  کی غزل اور ان کی رباعی کاانداز سب سے الگ ہے ۔ انہوں نے رباعی کی صنف کو ہندوستانی ثقافت کا ترجمان بنادیا۔
*3 مارچ 1982ء کو فراق گورکھپوری انتقال کر گئے* ٠

💢  *فراقؔ  گورکھپوری صاحب کے یومِ ولادت پر منتخب اشعار بطورِ خراجِ تحسین...* 💢

آج بھی  قافلۂ عشق رواں ہے  کہ جو تھا
وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا
-----
ہے ترے کشف و کرامات کی دنیا قائل
تجھ سے اے دل نہ مگر کام ہمارا نکلا
-----
*دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیا*
*ہر  بار  چھپا  کوئی  ہر  بار  نظر   آیا*
-----
رفتہ رفتہ عشق کو تصویر غم کر ہی دیا
حسن بھی کتنا خراب گردشِ  ایّام تھا
-----
*طور  تھا  کعبہ  تھا  دل تھا  جلوہ  زار یار تھا*
*عشق سب کچھ تھا  مگر پھر عالمِ اسرار  تھا*
-----
*حسن کافر سے کسی کی نہ گئی پیش فراقؔ*
*شکوہ  یاروں  کا  نہ  شکرانۂ  اغیار چلا*
-----
تری  نگاہ  کی  صبحیں  نگاہ  کی   شامیں
حریمِ راز یہ دنیا جہاں نہ دن ہیں نہ رات
-----
*پھر  وہی  رنگِ تکلّم  نگۂ  ناز  میں ہے*
*وہی انداز وہی حُسنِ بیاں ہے کہ جو تھا*
-----
ہر  جنبشِ  نگاہ  میں  صد  کیف   بے  خودی
بھرتی پھرے گی حسن کی نیت کہاں کہاں
-----
*نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا*
*حجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیا*
-----
چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں
نگاہ   نرگسِ   رعنا   ترا   جواب     نہیں
-----
*شامِ غم کچھ  اس نگاہِ ناز کی باتیں کرو*
*بے خودی بڑھتی چلی ہے راز کی باتیں کرو*
-----
کیوں انتہائے ہوش کو کہتے ہیں بے خودی
خورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے
-----
شریک شرم و حیا کچھ ہے بد گمانی‌ٔ حسن
نظر اٹھا یہ جھجک سی نکل تو سکتی ہے
-----
*کوئی  پیغامِ  محبت  لبِ  اعجاز    تو   دے*
*موت کی آنکھ بھی کھل جائے گی آواز تو دے*
-----
*مجھ کو تو غم نے فرصتِ غم بھی نہ دی فراقؔ*
*دے  فرصتِ  حیات  نہ  جیسے   غمِ  حیات

     🔰  *فراقؔ  گورکھپوری*  🔰

        *انتخاب : اعجاز زیڈ ایچ*

🌺🌺

Monday, August 27, 2018

قسم

✍_دنیا میں اگر کسی پر کوئی اعتبار نہ کرے تو اُس کے پاس آخری حل یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات ثابت کرنے کے لیے قسم کھا لے جس کے بعد ہر کسی کو اس کی بات کا یقین ہو جاتا ہے ۔ ۔_

_ہم سب جانتے ہیں کہ الله پاک نے جو بھی ارشاد فرمایا ہے وہ سو فیصد سچ ہے اور اس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے مگر پھر بھی کسی بات پر الله پاک قسم کھائے کہ میں یہ بات قسم کھا کے کہتا ہوں تو وہ بات تو پتھر پر لکیر ہو گئی نہ ..... اور اگر کسی بات پر الله  تعالٰى سات قسمیں کھائے تو وہ بات کتنی اہم, ضروری اور سچی ہو گی ....._

_اللّٰہ تعالٰی قرآن میں فرماتا ہے...!!_

١- سورج کی اور اس کی دھوپ کی قسم ہےo
٢- اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئےo
٣- اور دن کی جب وہ اس کو روشن کر دےo
٤- اور رات کی جب وہ اس کو ڈھانپ لےo
٥- اور آسمان کی اور اس کی جس نے اس کو بنایاo
٦- اور زمین اور اس کی جس نے اس کو بچھایاo
٧- اور جان کی اور اس کی جس نے اس کو درست کیاo

٨- پھر اس کو اس کی بدی اور نیکی سمجھائیo
٩- بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیاo
١٠- اور بے شک وہ غارت ہوا جس نے اس کو آلودہ کر لیاo

(سورہ الشمس آیت 1تا10)

"اب آپ بتایئے الله پاک اگر قسم کھائے بغیر ہی کہہ دیتا کہ جس نے اپنے نفس کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچا تو یہ ہمارے لیے تسلیم شدہ بات ہوتی مگر الله پاک ایک نہیں سات قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے کہ وہ ہی مراد کو پہنچے گا جس کا نفس پاک ہوگا."

مگر آج کل کیا ہو رہا ہے ہم سب نفس کے غلام بنے ہیں جس کی چھوٹی سی مثال یہ ہی ہے کہ اذان ہو رہی ہوتی ہے اور ہم موبائل پر چیٹ کر رہے ہوتے ہیں دماغ میں آتا بھی ہے کہ نماز پڑھ لیں مگر نفس کی غلامی ہم کو اٹھنے نہیں دیتی ....
جب کہ الله پاک فرماتا ہے کہ میں نے نفس انسانی کو درست بنایا اور پھر اس کو بد کاری سے بچنے اور پرہیز گار بننے کی سمجھ دی تو پھر ایسا کیا کر لیا ہم نے کہ ہمارے نفس ہمارے تابع نہیں رہے یاد رکھیں سب سے بڑی سلطنت اپنے نفس کی حکمرانی ہے جس نے اس کو فتح کر لیا وہ دونوں جہاں میں کامیاب ہو گیا ابھی بھی وقت ہے مراد پانی ہے تو نفس کو فتح کر لیں ۔ ۔ ۔

*_(اے اللہ ہمیں نفس کے شر سے محفوظ رکھ ، آمین)_*

*منجانب : مجلس اتحاد الرفقاء*

غزل

ملال ہے مگر اتنا ملال تھوڑی ہے
یہ آنکھ رونے کی شدت سے لال تھوڑی ہے

بس اپنے واسطے ہی فکر مند ہیں سب لوگ
یہاں کسی کو کسی کا خیال تھوڑی ہے

پروں کو کاٹ دیا ہے اڑان سے پہلے
یہ خوف ہجر ہے شوقِ وصال تھوڑی ہے

مزا تو تب ہے کہ ہار کے بھی ہنستے رہو
ہمیشہ جیت ہی جانا کمال تھوڑی ہے

لگانی پڑتی ہے ڈبکی ابھرنے سے پہلے
غروب ہونے کا مطلب زوال تھوڑی ہے

Friday, August 24, 2018

KAPTAN MALIK LANTRANI

Thursday, August 23, 2018

'Lantrani' at the press premier of 'Unmaad'




'Lantrani' at the press premier of 'Unmaad'



'Unmaad' is an upcoming bollywood movie by shahid kabeer

Monday, August 20, 2018

قریش نگر کرلا کتب خانہ کے افتتاح کے موقع پر شعری نشست

قریش نگر کرلا کتب خانہ کے افتتاح کے موقع پر شعری نشست کا انعقاد

بروز اگست ۲۰۱۸ء یوم آزادی کے موقع پر قریش نگر ٹکٹ گھر کےقریب نگر سیوک کپتان ملک کے ذریعے کتب خانے کا افتتاح کیا گیا اور ایک شری نشست کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اس نشست کا اہتمام سلام بن عثمان نے کیا۔ عارف اعظمی صاحب کو نظامت کی ذمہ داری دی گئی اور بہت ہی بہترین نظامت کی۔ ممبئی اور مضافات کے کئی شعراء حضرات آئے اور کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ شعری نشست کا آغاز حمد و نعت کے ذریعے نور شاد صاحب نے کی بہت پیاری حمد و نعت سنائی۔دیگر شعراء حضرات میں احسان شیوانی، ایاز بستوی، نور شادانی، سید فیصل، عارف اعظمی کے علاوہ بھی دیگر شعراء حضرات نے اپنے بہترین کلام سنائیں اور لوگوں سے داد و تحسین لیتے رہے۔حنیف شیخ جو ایک بہت ہی بہترین سنگر ہیں انھوں نے مننا ڈے کا ایک دیش بھکتی گانا بھی گایا اور لوگوں نے بہت پسند کیا۔ لن ترانی میڈیاکی جانب سےمنور سلطانہ نے نگر سیوک کپتان ملک کو کتب خانہ کی افتتاح پر مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ سلام بن عثمان افسانہ نگار کپتان ملک کو پھولوں کا گلدستہ اور شال پیش کی۔ فواد صاحب کو منور سلطانہ اور حنیف شیخ نے پھولوں کا گلدستہ اور شال پیش کی۔ آخر میں نگر سیوک کپتان ملک نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کتب خانہ بنانے کا خیال اس لئے آیا کہ یہ روڈ بہت ہی گندہ تھا عمر دراز لوگوں کا چلنا بہت ہی محال تھا، ساتھ ہی یہ روڈ ریلوے کی جگہ ہے ان کے نگرانی میں آتا ہے میں نے اپنے ذاتی فنڈ سے اس روڈ اور کتب خانہ کوبنایا ہے، کارپوریشن کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ بزرگ اور ماں بہنیں اس روڈسے جب گزرتی ہیں تو کہیں بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی یہ ان لوگوں کےلئے بنایا گیا ہے اور نوجوان طبقہ بھی یہاں بیکار نہ بیٹھے یہاں پر اخبار اور رسالہ رہے گا تاکہ لوگ آئے اخبار پڑھنے سے لوگوں میں مطالعہ کا شوق پیدا ہوگا۔ آخر میں حنیف شیخ اور یاسمین شیخ نے لن ترانی میڈیا کی جانب سے کپتان ملک کا ایک انٹر ویو بھی لیا گیا۔ رسم شکریہ عارف اعظمی صاحب نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور شعری نشست کا اختتام عمل میں آیا۔

فلم ’’اُنماد‘‘ پریس پریمیر شو

فلم ’اُنماد‘ کا پریس پریمیر شو

ماپ لنچنگ اور ہُجومی تشدّد آج ملک کا سب سے سنگین مسئلہ ہے جس میں بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔ اس موضوع 
پر کچھ کہنا یا لکھنا مُتنازعہ ہے مگرتعریف کرنی پڑے گی رائٹر ڈائرکٹر کبیر شاہد کی جنہوں نے اِس سخت موضوع پر ایک فلم بنا ڈالی’’اُنماد‘‘ جس کا پریس پریمیر شو گذشتہ اتوار کو ری پبلک مال، ڈی این نگر کے ملٹی پلیکس تھیٹر میں ہُوا۔ اس موقع پر لن ترانی میڈیا ہاؤس کی ایک مخصوص ٹیم نے ’’اُنماد‘‘کے ستارو ںکے ساتھ ساتھ اِس فلم کو دیکھا اور فلم میں مرکزی کردار نبھانے والے تمام اداکاروں سے بات بھی کی۔ کبیرشاہد نے بتایا کہ وہ اِس موضوع پر فلم بنانے کے لئے جُنون کی حد تک بے چین تھے اور اُنہیں سینسر بورڈ کی طرف سے کافی پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ فلم لوگوں کو ضرور پسند آئے گی جو ماپ لنچنگ کے غلط اثرات کے ساتھ جذبۂ حبّ الوطنی کا بھی پیغام دیتی ہے ۔


Thursday, August 09, 2018

یوم سیاہ

عوامی وکاس پارٹی کی جانب سے  10 اگست کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا گیا ہے

Wednesday, May 09, 2018

Wednesday, March 21, 2018

عالمی یوم شاعری

✅ *۲۱ مارچ، عالمی یومِ شاعری*

یونائیٹیڈ نیشنز سائنٹیفَک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن UNESCO نے پیرس میں منعقدہ تیسویں اجلاس ۱۹۹۹ء میں یہ اعلان کیا تھا کہ ہر سال ۲۱ مارچ کو عالمی یومِ شاعری WORLD POETRY DAY منایا جائے گا۔ اس دن کو منائے جانے کا واضح مقصد تو یہ ہے کہ ساری دنیا میں مطالعہ، تحریر، اشاعت اور تدریس کے ذریعے شاعری کو فروغ دیا جائے لیکن یونیسکو کے اعلانیہ کے مطابق یہ دن شاعری کی علاقائی، قومی اور بین الاقوامی تحریکوں کی شناخت اور محرک کے طور پر منایا جائے گا۔
گو کہ مختف ممالک میں یہ دن مختلف تاریخوں میں منایا جاتا ہے لیکن عالمی سطح پر ۲۱ مارچ کو شاعری کے فروغ کے لیے کئی اہم تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ اس دن کئی ممالک میں شاعری کی ضرورت اور اہمیت پر اسکولوں میں بچوں کو خصوصی معلومات دی جاتی ہے تاکہ صدیوں پرانی اس تہذیب کو زندہ رکھا جائے جس کی وجہ سے ساری دنیا میں محسوسات کی فکری ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے،
شاعری سنانے کا رجحان ہر جگہ تقریباً یکساں ہے اور یہ رابطے اور اظہار کا بہترین وسیلہ ہے۔ جذبات اور محسوسات کو دلکش انداز میں دوسروں تک پہنچانے کا انتہائی موثر تہذیبی ذریعہ ہے۔ درحقیقت شاعری انسان کے فطری آہنگ اور محسوسات کے امتزاج کا نام ہے جو الفاظ کی شکل میں ایک ذہن سے لاتعداد دلوں میں منتقل ہوتی ہے۔
ٹیکنالوجی کے اس دور میں کمپیوٹر، انٹرنیٹ، موبائل فون، ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی مشینوں اور دیگر آسائشی وسائل نے ساری دنیا کو تیز رفتار ضرور کردیا ہے لیکن جمالیاتی حس کا فقدان اور فنونِ لطیفہ سے عدم دلچسپی کا مزاج بھی تیزی سے پنپنے لگا ہےاور یہ ضروری ہوگیا ہے کہ دل، دماغ اور روح کو فرحت و انبساط بخشنے کے لیے فطری وسائل استعمال کیے جائیں اور یہ فطری وسائل فنونِ لطیفہ ہی تو ہیںاور ان فنون میں سب سے زیادہ وسیع اور عام فن شاعری ہے.○○

تحریر: حامد اقبال صدیقی

Monday, March 05, 2018

عظیم شاعر مرزا اسد اللہ غالب

15 فروری 1869 اردو کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ غالب کی تاریخ وفات ہے

ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
مے وہ کیوں بہت پیتے بزم غیر میں یا رب
آج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا
منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
عرش سے ادھر ہوتا کاش کے مکاں اپنا
دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
بارے آشنا نکلا ان کا پاسباں اپنا
درد دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلا دوں
انگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا
گھستے گھستے مٹ جاتا آپ نے عبث بدلا
ننگ سجدہ سے میرے سنگ آستاں اپنا
تا کرے نہ غمازی کر لیا ہے دشمن کو
دوست کی شکایت میں ہم نے ہم زباں اپنا
ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا

Saturday, February 24, 2018

ابراہیم ذوق

دبستان دہلی میں ابراہیم ذوق کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ محمد ابراہیم نام اور ذوق تخلص تھا۔ ایک غریب سپاہی محمد رمضان کے بیٹے تھے۔آپ سن 1789ء میں دلی میں پیدا ہوئے۔ پہلے حافظ غلام رسول کے مکتب میں تعلیم پائی۔ حافظ صاحب کو شعر و شاعری کا شوق تھا۔ جس کے سبب ذوق بھی شعر کہنے لگے۔ اس زمانے میں شاہ نصیر دہلوی کی طوطی بول رہی تھی ۔ ذوق بھی ان کے شاگرد ہو گئے۔ دل لگا کر محنت کی اور ان کی شاعرانہ مقبولیت بڑھنے لگی۔ بہت جلد علمی و ادبی حلقوں میں ان کا وقار اتنا بلند ہو گیا کہ قلعہ معلیٰ تک رسائی ہوگئی۔ اور خود ولی عہد سلطنت بہادر شاہ ظفر ان کو اپنا کلام دکھانے لگے۔ شاہ اکبر ثانی نے ایک قصیدہ کے صلہ میں ملک الشعراء خاقانی ہند کا خطاب مرحمت فرمایا۔ شروع میں چار روپے ماہانہ پر بہادر شاہ ظفر کے استاد مقرر ہوئے۔ آخر میں یہ تنخواہ سو روپیہ تک پہنچ گئی۔ مسلسل عروس سخن کے گیسو سنوارنے کے بعد 16 نومبر 1854ء میں دنیائے ادب کا یہ مہردرخشاں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ مرنے سے چند ساعت پہلے یہ شعر کہا تھا۔

*شیخ ابراہیم ذوق کی آخری آرام گاہ، پہاڑ گنج، شمالی دہلی*

*کہتے آج ذوق جہاں سے گزر گیا*
*کیا خوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے*

ابراہیم ذوق کو عربی فارسی کے علاوہ متعدد علوم موسیقی، نجوم ، طب، تعبیر خواب وغیرہ پر کافی دسترس حاصل تھی۔ طبیعت میں جدت و ندرت تھی۔ تمام عمر شعر گوئی میں ہی بسر کی۔

Wednesday, January 24, 2018

۔۔: بھیونڈی میں ماسٹر الہی بخش ایوارڈ تقسیم انعامات براے سال ۲۰۱۸ ؁ء تقریب کا انعقاد :۔۔
بھیونڈی :۔ بھیونڈی کے صنوبرہال میں ہر سال کی طرح امسال بھی معصوم ایجوکیشن اینڈ ویلفیر سوسائٹی بھیونڈی کے تحت ایک پروقار تقریب ماسٹر الہی بخش ایوارڈ تقسیم انعامات براے سال ۲۰۱۸ ؁ء کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت عمدہ الادب مولانا ابوظفر حسان ندوی ازہری نے انجام دی، پروگرام کی نظامت نوجوان شاعر شکیل احمد شکیل نے انجام دی۔ پروگرا م میں مہمانان خصوصی کی طور پر بزرگ شاعر شاکر ادیبی،ڈاکٹر جمیل علیگ، سیماب انور اور حافظ ارشاد شریک تھے۔
امسال ماسٹر الہی بخش ایوارڈ براے ۲۰۱۸ ؁ء بھیونڈی کے استاد الشعراء حضرت مومن جان عالم رہبر کی خدمت میں صدر جلسہ اور سو سائٹی کے صدر خلیق الزماں نصرت کے ہاتھوں مومنٹو، شال ،کتابوں کا نذرانہ ،سند اور نقد رقم کی طور پر پیش کیا گیا۔
امسال کے دیگر ترغیبی ایوارڈ مشہور شاعر عبید اعظم اعظمی،معروف نوجوان شاعر اور کمشنر آف ممبی پولیس قیصر خالد،پرنسپل رئیس ہائی اسکول ضیا الرحمن انصاری،خوش گلو شاعر ساز الہ آبادی اورابھرتے ہوے منفرد لب ولہجہ کے شاعر شبیر احمد شاد کوپیش کیے گئے۔ ایم مبین، سیماب انور ،عقیل احمد عاقل اور امیر حمزحلبے نے انعام یافتگان کا تعارف خاکوں کی طور پر پیش کیا۔ انعام یافگان نے اپنے تاثرات اور اپنا کلام پیش کیا۔
خلیق الزماں نصرت نے سوسائٹی کی جانب سے مہمانان اورانعام یافتگان اور شعری نشست میں شریک شعراء کو کتابوں کے نذرانے پیش کر کے ان کا استعقبال کیا گیا۔
سوسائٹی کے سکریٹری ایم مبین نے سوسائٹی کی پانچ سالہ روداد پیش کی۔
اس پروگرام میں ایم مبین کی دو کتابوں کا اجراء ’’ گونگا سچ‘‘ ڈراموں کا مجموعہ کا اجراء صدر جلسہ اور ہندی افسانوی مجموعہ ’’ بوڑھا بیمار ہے ‘‘ کی رسم اجراء بدست قیصر خالد کی تقریب بھی منعقد کی گئی۔
پروگرام کے افتتاح میں ڈاکٹر جمیل علیگ نے ماسٹر الہی بخش پر ایک مقالہ پیش کیا۔ماسٹر الہی بخش کے خانوادے کی چھٹی نسل کے دو معصوم بچوں ،ریحان اورخلیق الزماں نصرت کی پوتی نبیحہ ارشد نے تلاوت قرآن پیش کی۔
پروگرام کے بعد ایک مختصر شعری نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں عبید اعظم اعظمی،قیصر خالد،شکیل احمد شکیل،حافظ ارشاد،صادق جونپوری، عقیل احمد عاقل شہزاد حسین شہزاد اور امیر حمزہ حلبے نے اپنا کلام پیش کیا۔
ایم مبین اور سوسائٹی کے صدر خلیق الزماں نصرت کے شکریہ کے ساتھ پروگرام کا خاتمہ ہوا۔

سالگرہ مبارک

*17 جنوری....مشہور و معروف شاعر..نغمہ نگار...مکالمہ نویس...کہانی کار...منظر نامہ نگار جاوید اختر صاحب کا یوم ولادت*
اردو شاعری میں بلند مقام رکھنے والے شاعر جان نثار اختر کے فرزند جاوید اختر صاحب کا آج یوم پیدائش ہے...17 جنوری 1945 کو خیرآباد(سیتا پور) میں پیدا ہونے والے جاوید اختر ایک بہترین شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بالی ووڈ میں بھی اپنی بے شمار اور گونا گوں خدمات کے حوالوں سے پہچانے جاتے ہیں....انہیں کئی فلم فئیر ایوارڈ  کے علاوہ پدم بھوشن اور پدم شری جیسے اعزاز بھی تفویض کئے جا چکے ہیں...موصوف نے انتہائی معیاری نغمہ نگاری کی ہے...فلمی شاعری کے علاوہ بھی جاوید صاحب نے بہت ہی معیاری نظمیں اور غزلیں کہی ہیں...آج موصوف کے یوم ولادت کے موقع پر ان کے کچھ منتخب اشعار احباب کی خدمت میں پیش ہیں...
*آگہی سے ملی ہے تنہائی*
آ مری جان مجھ کو دھوکا دے
اگر پلک پہ ہے موتی تو یہ نہیں کافی
ہنر بھی چاہئے الفاظ میں پرونے کا
*دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ*
*جو ہوتا ہے سہہ لیتے ہیں کیسے ہیں بے چارے لوگ*
ایک یہ دن جب اپنوں نے بھی ہم سے ناطہ توڑ لیا
ایک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں
*غلط باتوں کو خاموشی سے سننا حامی بھر لینا*
*بہت ہیں فائدے اس میں مگر اچھا نہیں لگتا*
ہے پاش پاش مگر پھر بھی مسکراتا ہے
وہ چہرہ جیسے ہو ٹوٹے ہوئے کھلونے کا

*ان چراغوں میں تیل ہی کم تھا*
*کیوں گلہ پھر ہمیں ہوا سے رہے*
*اس شہر میں جینے کے انداز نرالے ہیں*
*ہونٹوں پہ لطیفے ہیں آواز میں چھالے ہیں*
جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا
مجھے پامال رستوں کا سفر اچھا نہیں لگتا
*خون سے سینچی ہے میں نے جو زمیں مر مر کے*
*وہ زمیں ایک ستم گر نے کہا اس کی ہے*
کوئی شکوہ نہ غم نہ کوئی یاد
بیٹھے بیٹھے بس آنکھ بھر آئی
*میں بچپن میں کھلونے توڑتا تھا*
*مرے انجام کی وہ ابتدا تھی*

*مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہے*
*کسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا*

پھر خموشی نے ساز چھیڑا ہے
پھر خیالات نے لی انگڑائی
*سب کا خوشی سے فاصلہ ایک قدم ہے*
*ہر گھر میں بس ایک ہی کمرہ کم ہے*
تھیں سجی حسرتیں دکانوں پر
زندگی کے عجیب میلے تھے
*اس کی آنکھوں میں بھی کاجل پھیل رہا ہے*
*میں بھی مڑ کے جاتے جاتے دیکھ رہا ہوں*
اونچی عمارتوں سے مکاں میرا گھر گیا
کچھ لوگ میرے حصے کا سورج بھی کھا گئے
*یاد اسے بھی ایک ادھورا افسانہ تو ہوگا*
*کل رستے میں اس نے ہم کو پہچانا تو ہوگا*
یہ زندگی بھی عجب کاروبار ہے کہ مجھے
خوشی ہے پانے کی کوئی نہ رنج کھونے کا
*غیروں کو کب فرصت ہے دکھ دینے کی*
*جب ہوتا ہے کوئی ہمدم ہوتا ہے*
ہر طرف شور اسی نام کا ہے دنیا میں
کوئی اس کو جو پکارے تو پکارے کیسے
ہمیں یہ بات ویسے یاد تو اب کیا ہے لیکن ہاں اسے یکسر بھلانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
میں قتل تو ہو گیا تمہاری گلی میں لیکن
مرے لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے
*مجھے مایوس بھی کرتی نہیں ہے*
*یہی عادت تری اچھی نہیں ہے*
یہی حالات ابتدا سے رہے
لوگ ہم سے خفا خفا سے رہے
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP