You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Tuesday, October 24, 2017

یوم ولادت بہادر شاہ ظفر

*بہادر شاہ ظفر کا یوم ولادت*
آج 24 اکتوبر ایک خودار بادشاہ..حوصلہ مند مجاہد آزادی اور بہترین شاعر بہادر شاہ ظفر کا یوم ولادت ہے..تیمور خاندان نے جس  سلطنت مغلیہ کی بنیاد رکھی یہ اس کے آخری بادشاہ تھے....یہ وہ بدنصیب باپ ہے انگریزوں نے جس کے چاروں بیٹوں کے سروں  تن سے جدا کرکے تھال میں سجاکر ان کو پیش کئے گئے....
بہادر شاہ ظفر کو یہ شرف حاصل رہا کہ وہ  ابراہیم ذوق اور مرزا غالب جیسے شعراء کے شاگرد رہے...
موصوف کے کچھ منتخب اشعار احباب کی خدمت میں...

*

‏یہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں بلبلیں
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گی

*‏دیکھے جو ہمارے بت مغرور کی گردن*
*غلمان کے تن سے ہو جدا حور کی گردن*

‏خاکساری کیلئے گرچہ بنایا تھا مجھے
کاش , خاک ِ  درِ  جانانہ  بنایا  ہوتا

‏ *صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے*
*ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا*

‏تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں
ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا

*اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل*
*دنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چل*

‏کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل ، کوئی کیا کسی سے لگائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل ، وہ دکان اپنی بڑھا گئے

*‏اِتنا ہی ہُوا حُسن میں وہ شُہرۂ آفاق !*
*جِتنے ہُوئے ہم عِشق میں رُسوائے زمانہ*

‏عمرِ دراز مانگ لائے تھے، چار دن۔
دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں

*‏کانٹوں کو مت نکال چمن سے کہ باغبان*
*یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں*

‏اے فاتحہ کوئی آئے کیوں، کوئی چار پھول چڑھائے کیوں
کوئی شمع آ کے جلائے کیوں کہ میں بے کسی کا مزار ہوں

*‏یار تھا گلزار تھا باد صبا تھی میں نہ تھا*
*لائق پابوس جاناں کیا حنا تھی میں نہ تھ*ا
                                    
‏کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

*یاں تک عدو کا پاس ہے ان کو کہ بزم میں*
*وہ بیٹھتے بھی ہیں تو مرے ہم نشیں سے دور*

ظفرؔ بدل کے ردیف اور تو غزل وہ سنا
کہ جس کا تجھ سے ہر اک شعر انتخاب ہوا

*بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی*
*جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی*

کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل دغدار میں

*میرے سرخ لہو سے چمکی کتنے ہاتھوں میں مہندی*
*شہر میں جس دن قتل ہوا میں عید منائی لوگوں نے*

*ہم ہی ان کو بام پہ لائے اور ہمیں محروم رہے*
*پردہ ہمارے نام سے اٹھا آنکھ لڑائی لوگوں نے*

سب مٹا دیں دل سے ہیں جتنی کہ اس میں خواہشیں
گر ہمیں معلوم ہو کچھ اس کی خواہش اور ہے

*دولت دنیا نہیں جانے کی ہرگز تیرے ساتھ*
*بعد تیرے سب یہیں اے بے خبر بٹ جائے گی*

غزل

رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی
سائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھی

خیمے نہ کوئی میرے مسافر کے جلائے
زخمی تھا بہت پاؤں مسافت بھی بہت تھی

سب دوست میرے منتظرِ پردہء شب تھے
دن میں تو سفر کرنے میں دِقت بھی بہت تھی

بارش کی دعاؤں میں نمی آنکھ کی مل جائے
جذبے کی کبھی اتنی رفاقت بھی بہت تھی

کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے
اور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی

پھولوں کا بکھرنا تومقدر ہی تھا لیکن
کچھ اس میں ہواؤں کی سیاست بھی بہت تھی

وہ بھی سرِ مقتل ہے کہ سر جس کا تھا شاہد
اور واقفِ احوال عدالت بھی بہت تھی

اس ترکِ رفاقت پہ پریشاں تو ہوں لیکن
اب تک کے ترے ساتھ پہ حیرت بھی بہت تھی

خوش آئے تجھے شہرِ منافق کی امیری
ہم لوگوں کو سچ کہنے کی عادت بھی بہت تھی

پروین شاکر

Saturday, October 21, 2017

مرزا محمد ھادی رسوا

مرزا محمد ھادی رسوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج 21 ، اکتوبر معروف ناول نگار اور ادیب مرزا ھادی رسوا کا یومِ وفات ھے ۔
سال پیدائش : 1857ء
تاریخ وفات : 21، اکتوبر 1931ء
مرزا محمد ہادی رسوا (1857ء تا 21 اکتوبر، 1931ء) ایک اردو شاعر اور فکشن کے مصنف (بنیادی طور پر مذہب، فلسفہ، اور فلکیات کے موضوعات پر) گرفت رکھتے تھےانہیں اردو، فارسی، عربی، عبرانی، انگریزی، لاطینی، اور یونانی زبان میں مہارت تھی۔ ان کا مشہور زمانہ ناول امراؤ جان ادا 1905ء میں شائع ہوا جو ان کا سب سے پہلا ناول مانا جاتا ہے۔ یہ ناول لکھنؤ کی ایک معروف طوائف اور شاعرہ امراؤ جان ادا کی زندگی کے گرد گھومتا ہے بعد ازاں ایک پاکستانی فلم امراؤ جان ادا (1972)، اور دو بھارتی فلموں، امراو جان (1981) اور امراو جان (2006) کے لئے بنیاد بنا۔ 2003ء میں نشر کئے جانے والے ایک پاکستانی ٹی وی سیریل کی بھی بنیاد یہی ناول تھا۔
مرزا محمد ہادی رسوا کی زندگی کی درست تفصیلات دستیاب نہیں ہیں اور ان کے ہم عصروں کی طرف سے دی گئی معلومات میں تضادات موجود ہیں البتہ رسوا نے خود تذکرہ کیا ہے کہ ان کے آباء و جداد فارس سے ہندوستان میں آئے اور ان کے پردادا سلطنت اودھ کے نواب کی فوج میں ایک ایڈجوٹنٹ تھے۔ جس گلی میں رسوا کا گھر تھا اسے ایڈجوٹنٹ کی گلی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے والد اور دادا کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتایا کہ وہ دونوں ریاضی اور فلکیات میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ مرزا محمد ہادی رسوا 1857ء کو، ایک گھڑسوار، فوجی افسر، مرزا محمد تقی کے گھر لکھنؤ، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔انہوں نے گھر میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ وہ سولہ سال کے تھے جب ان کے والدین دنیا سے کوچ کر گئے۔ نوجوانی میں وفات پانے والےان کے بڑے بھائی مرزا محمد ذکی، ایک علمی شخصیت تھے۔ اس دور کے ایک مشہور خطاط حیدر بخش نے رُسوا صاحب کو خوش خطی سکھائی اور انہیں کام کرنے کے لئے کچھ رقم ادھار بھی لیکن حیدر بخش کی آمدنی ڈاک کی جعلی ٹکٹ سازی سے آتی تھی لہٰذا اُسے گرفتار کر لیا گیا اور ایک طویل مدت کے لئے قید کی سزا سنائی گئی۔رُسوا کے لکھنے کے کیریئر میں اُن کی مدد کرنے والے بہت سے لوگوں میں سے ایک اردو شاعر، دبیر بھی تھے۔ رسوا نے گھر میں تعلیم حاصل کی اور میٹرک پاس کیا، اس کے بعد انہوں نے منشی فاضل کے کورس کا امتحان دیا اور منشی فاضل ہوگئے۔؎کوئٹہ بلوچستان میں ریلوے میں ملازمت کی۔ دوران ملازمت کیمیا کا ایک رسالہ ہاتھ لگ گیا جس کے مطالعے کے بعد کیمیا گری کی طرف مائل ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا رسوا نے پچاس سے زیادہ تصنیفات یاد گار چھوڑیں تاہم اردو ادب میں ان کا نام ناول نگار کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ رہے گا۔

اردو غزل

دبی دبی سی وہ مسکراہٹ لبوں پہ اپنے سجا سجا کے
وہ نرم لہجے میں بات کرنا ادا سے نظریں جھکا جھکا کے
وہ آنکھ تیری شرارتی سی وہ زلف ماتھے پہ ناچتی سی
نظر ہٹے نہ ایک پل بھی، میں تھک گیا ہوں ہٹا ہٹا کے
وہ تیرا ہاتھوں کی اُنگلیوں کو ملا کے زلفوں میں کھو سا جانا
حیا کو چہرے پہ پھر سجانا، پھول سا چہرہ کھلا کھلا کے
وہ ہاتھ حوروں کے گھر ہوں جیسے، وہ پاؤں پریوں کے پر ہوں جیسے
نہیں تیری مثال جاناں، میں تھک گیا ہوں بتا بتا کے۔۔

Sunday, October 08, 2017

ٹام الٹر ۔۔۔۔ آپ یاد آؤ گے

ٹام الٹر الوداع ........"

ٹام الٹر، نیلی انکھون والا ہندوستانی گورا جو ایک غضب کا اداکار تھا، اب ہمارے درمیان نہیں رہا۔
ٹام الٹر کا جنم 22 جون 1950 میں میسوری اتر کنڈ انڈیا میں ایک پادری کے گھر ہوا۔ انکے دادا، دادی عیسائیت کی تبلیغ کیا کرتے تھے اور اس سلسلے میں وہ امریکی ریاست اوہائیو سے نومبر 1916 کو بحری جہاز میں چنائی اگئے اور وہاں سے بذریعہ ٹرین لاہور چلے گئے۔ اس دوران انکے دادا دادی راولپنڈی پشاور اور سیالکوٹ میں عیسائیت کی تبلیغ کرتے رہے۔ ٹام الٹر کے والد کا جنم سیالکوٹ میں ہوا تھا، تقسیم ہند کے بعد انکے والد انڈیا اگئے جہاں وہ آلہ اباد کے ایک کریسچن کالج میں پڑھایا کرتے تھے۔ انہیں فلسفہ تاریخ اور مزہب سے سے بڑا لگاؤ تھا۔ ٹام الٹر کے دادا دادی نے پاکستان میں ہی رہنا پسند کیا۔ ٹام الٹر کا بچپن میسوری الہ آباد سہارن پور اور راج پور میں گزرا۔ ٹام الٹر نے ابتدائی تعلیم ووڈ سٹاک سکول میسوری سے حاصل کی، میٹرک کے بعد اٹھارہ سال کی عمر میں والد نے انہیں کالج پڑھنے کیلئے امریکا بھیجا لیکن وہاں مشکل پڑھائی کیوجہ سے انکا دل پڑھنے میں نہیں لگا وہ زیادہ دیر تک اوارہ گردی کرتے رہے اور پھر ایک سال بعد واپس انڈیا اگئے۔ انکے پادری والد نے انہیں فارغ رہنے نہیں دیا اور انہیں جگادری ہریانہ کے سینٹ ٹھامس سکول میں بھرتی کروایا جہاں انہوں نے چھ مہینے کرکٹ کوچنگ کی۔ ٹام الٹر کی زندگی میں ٹرنینگ پوائنٹ ہریانہ جگادری میں ہی آیا، شروع میں ٹام الٹر کا رجحان کھیلوں کی طر ف تھا، لیکن جگادری ہریانہ میں انہوں نے ایک دن راجیش کھنہ کی فلم ارادھنا دیکھی اور وہ اس فلم سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے من بنا لیا کہ اب وہ فلموں میں کام کرینگے۔ لیکن اسوقت سیدھا منہ اٹھا کر فلموں میں جو جلا جاتا تھا اسے منہ کی کھانی پڑتی تھی اس لئے ٹام الٹر نے اداکاری سیکھنے کیلئے پونا کا رخ کیا اور وہاں انہوں نے پونا فلم انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لیا جہاں پر اوم پوری شبانہ اعظمی نصیرالدین شاہ اور بنجمن ایرانی بھی ایکٹینگ سیکھ رہے تھے۔ پونا میں ٹام الٹر کی نصیر الدین شاہ سے بہت گہری دوستی بنی وہ اپنے کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی بنے اور نصیر الدین شاہ انکے ساتھ ٹیم میں شامل تھے۔ پونا میں ٹام الٹر نے 1972 سے لیکر 1974 تک دو سالوں میں اپنے گرو روشن تنیجا سے اداکاری سیکھی۔ اسکے بعد وہ ممبئی اگئے جہاں انہیں پہلا چانس رمانند ساگر کی فلم چرس میں ملا جس میں اسوقت کی مشہور جوڑی دھرمیندر اور ہیما مالینی نے کام کیا تھا یہ فلم 1976 میں ریلیز ہوئی۔ شروعات میں انہیں گورے رنگ کی وجہ سے انگریز افسر کا کردار ملا کرتا تھا جس میں عموماً وہ غنڈہ گردی کرتے نظر آیا کرتے تھے۔ بعد میں انہیں ہندی کردار بھی ملنے لگے۔ ٹام الٹر نے مشہور زمانہ بنگالی فلمساز ستیہ جیت رے کی ہندی فلم ’شطرنج کے کھلاڑی' میں کام کیا جسے بہت سراہا گیا بعد میں انہوں نے رچرڈ اینٹنبرو کی فلم گاندھی اور راج کپور کی فلم ’رام تیری گنگا میلی‘ جیسی کامیاب فلموں میں غضب اداکاری کی۔ منوج کمار محب وطنی پر بنی فلموں کیوجہ سے مشہور مانے جاتے ہیں اس لئے جب منوج کمار نے فلم ’کرانتی‘ بنانا شروع کی تو انہوں نے انگریز افسر کے کردار کیلئے ٹام الٹر کو چنا اور اس کردار میں ٹام الٹر نے شاندار اداکاری کی، اس فلم کے انکی منوج کمار سے بڑی اچھی دوستی بنی۔
ٹام الٹر نے جب ارادھنا فلم دیکھی تھی تب انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے محبوب اداکار روجیش کھنہ کے ساتھ ایک دن کام کرینگے لیکن سچی لگن سے انہوں نے یہ خواب سچ کرکے دکھایا انہوں راجیش کھنہ کے ساتھ دو فلموں میں کام کیا۔ ہری کیش مکھرجی کی فلم نوکری اور 1993 میں بنی فلم سردار میں انہوں نے راجیش کھنہ کے ساتھ کام کیا فلم سرادر مشہور نیتا سردار پٹیل کی زندگی پر بنی تھی۔
ہندی کے علاوہ انہوں نے انگریزی فلم ’وِتھ لَو، دلّی‘، ’سن آف فلاور‘، ’سائیکل کِک‘، ’اَوتار‘، ’اوسیان آف اَن اولڈ مین‘، ’وَن نائٹ وتھ دی کنگ‘، ’سائلنس پلیز‘ جیسی فلموں میں اہم کردار ادا کیے۔
ٹام نے تقریباً 300 فلموں میں کام کیا۔
فلموں کے علاوہ انھوں نے اپنے کیریر کا ایک بڑا وقت تھیٹر کو دیا۔ ٹام الٹر نے 1977 میں اپنے دوست نصیر الدین شاہ اور بنجمن ایرانی کے ساتھ موٹلی کے نام سے ایک تھیٹر گروپ بنایا۔ ٹام الٹر مولانا عبدالکلام آزاد سے بہت متاثر تھے۔ انہوں نے 2014 میں راجیہ سبھا ٹی وی کے پروگرام ’سنویدھان‘ میں مولانا ابوالکلام آزاد کا کردار نبھایا جس میں ان کے کردار کی بہت تعریف ہوئی۔ ٹام الٹر نے ٹیلی وژن پر بھی کام کیا اور لوگوں کی دل میں ایک خاص مقام بنایا۔ اسی سال ان کی فلم ’سرگوشیاں‘ ریلیز ہوئی ہے جس میں انھوں نے مرزا غالب کا کردار نبھایا۔ تھیٹر میں ٹام الٹر نے کئی سالوں تک مولا عبدالکلام آزاد پلے کیا۔ اسکے علاوہ انہوں نے مولانا ظفر علی خان، گاندھی، ساحر لدھیانوی، غالب اور ٹیگور کا کردار ادا کیا۔ ٹام الٹر کو اردو زبان سے جنون کی حد تک عشق تھا۔ صاف اردو کیوجہ سے ٹام الٹر سٹیج پر اتنی جاندار اداکاری کرتے تھے کہ کسی کا دھیان ان کے گورے چہرے پر نہیں جاتا تھا،
ٹام الٹر کو فلموں کے علاوہ کھیل میں بھی کافی دلچسپی تھی۔ ٹام سچن تندولکر کا انٹرویو لینے والے پہلے شخص تھے۔ 1988 میں جب ماسٹر بلاسٹر سچن 15 سال کے تھے، تب ٹام نے ان کا پہلا انٹرویو لیا تھا۔
ٹام کو جلد کا کینسر تھا۔ وہ طویل مدت سے بیمار تھے۔ ان کا ممبئی کے سیف اسپتال میں علاج چل رہا تھا جہاں اکثر وہ تنہا ہی ہوتے تھے۔ اپنی اسی روداد کو ٹام نے ریختہ کو دیے انٹرویو میں غالب کے شعر کے بہانے شاید یوں بیان کیا تھا۔

"پڑیے اگر بیم.ار، تو کوئی نہ ہو تیماردار

اور مر جائیے اگر، تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو...

Tuesday, September 05, 2017

یوم اساتذہ مبارک

          
    کتنی محبتوں سے پہلا سبق پڑھایا،
   میں کچھ نہ جانتا تھا، سب کچھ مجھے سیکھایا،
   انپڑھ تھا اور جاہل، قابل مجھے بنایا،
   دنیائے علم و دانش کا راستہ دکھایا،
   مجھ کو دلایا کتنا اچھا مقام کہنا،
    استاد محترم سے میرا سلام کہنا.....
         
اسلام علیکم ،
                  
           اراکین بزم جو بطور اساتذہ، والدین، خواہر و برادر بزرگ، نسل نو کی تعلیم و تربیت  میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، میں ان کے جوش، جذبے، دلچسپی، محنت، لگن، عاجزی، انکساری، ایثار و قربانی اور جہد مسلسل کو سلام محبت پیش کرتا ہوں اور ان کی کامیابی کے لئیے دعا گو ہوں.......
             رب کریم انہیں اجر عظیم عطا فرمائے، آمین.
       استطاعت کے مطابق تو کیا جگ روشن،
      ہم وہ جگنو ہیں جو تنویر سے بھی بچتے رہے."
یومِ اساتذہ مبارک

Sunday, September 03, 2017

صابرہ سکوانی

آہ صابرہ سکوانی

مبئی کی مشہور ومعروف سوشل ورکر صابرہ سکوانی کاانتقال


ممبئی کی مشہور ومعروف سوشل ورکر صابرہ سکوانی کاآج صبح سویرے ان کی رہائش گاہ نزد جے جے اسپتال انتقال ہوگیا۔ 49سالہ صابرہ سکوانی غریب ویتیم لڑکیوں  کی شادی کراتی تھیں اور یتیم بچوں  کو تہوار کے موقع پرتفریح  کرانے ان کی دعوتیں کرتیں انھیں پیارکرتی تھیں۔شوہر اسلم سکوانی، بیٹا رضوان اور ایک بیٹی ہے۔وہ سماجی کاموں کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں بھی مصروف تھیں اور این سی پی کی ورکر تھیں۔ ذرائع  کے مطابق مرحومہ سکوانی کا جنازہ رات نماز عشاء پر اٹھایاجائیگاباور پرنسس بلڈنگ جے جے جنکشن کے عقب میں بی آئی ٹی چال سڈنہم کمپاونڈ  میں نماز جنازہ ہوگی اور بڑے قبرستان کے پاس منگل واڑی میں واقع کچھی میمن جماعت قبرستان میں تدفین عمل میں آئے گی، صابرہ سکوانی کے انتقال کے سبب علاقے میں صدمہ کی لہر صابرہ سکوانی بہت ملنسار اور خوش مزاج تھی۔ہر وقت سب کی مدد کے لیے تیار رہتی تھی۔لن ترانی کی ٹیم دعاگو ہیں اللہ ان کی مغفرت کریں۔اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں

Monday, July 17, 2017

غزل


بے زبانی کا تقاضا ہے کہ ہم چُپ ہی رہیں
اِس کہانی کا تقاضا ہے کہ ہم چُپ ہی رہیں

درد ایسا ہے کہ پتھّر کا کلیجہ پھٹ جائے
سخت جانی کا تقاضا ہے کہ ہم چُپ ہی رہیں

میہماں بن کے ستم گر نے ستم ڈھایا ہے
میزبانی کا تقاضا ہے کہ ہم چُپ ہی رہیں

کس نے بخشے ہیں اِن آنکھوں کو اُبلتے آنسو
حق بیانی کا تقاضا ہے کہ ہم چُپ ہی رہیں

تنگ ظرفی کی علامت ہے جتانا احساں
مہربانی کا تقاضا ہے کہ ہم چُپ ہی رہیں

ٹوٹ جائے نہ بھرم پیار کا اِک دن راغبؔ
خوش گمانی کا تقاضا ہے کہ ہم چُپ ہی رہیں

شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: لفظوں میں احساس

Friday, July 14, 2017

مجھے خط ملا

مجھے خط ملا ہے غنیم کا
بڑی عُجلتوں میں، لکھا ہُوا

کہیں،، رنجشوں کی کہانیاں
کہیں دھمکیوں کا ہے سلسلہ

مجھے کہہ دیا ہے امیر نے
کرو،،،، حُسنِ یار کا تذکرہ

تمہیں کیا پڑی ہے کہ رات دن
کہو،،،،،، حاکموں کو بُرا بھلا

تمہیں،،، فکرِ عمرِ عزیز ہے
تو نہ حاکموں کو خفا کرو

جو امیرِ شہر کہے تُمہیں
وہی شاعری میں کہا کرو

کوئی واردات کہ دن کی ہو
کوئی سانحہ کسی رات ہو

نہ امیرِ شہر کا زکر ہو
نہ غنیمِ وقت کی بات ہو

کہیں تار تار ہوں،، عصمتیں
میرے دوستوں کو نہ دوش دو

جو کہیں ہو ڈاکہ زنی اگر
تو نہ کوتوال کا،،،،، نام لو

کسی تاک میں ہیں لگے ہُوئے
میرے جاں نثار،،،،، گلی گلی

ہیں میرے اشارے کے مُنتظر
میرے عسکری میرے لشکری

جو تُمہارے جیسے جوان تھے
کبھی،،، میرے آگے رُکے نہیں

انہیں اس جہاں سے اُٹھا دِیا
وہ جو میرے آگے جُھکے نہیں

جنہیں،، مال و جان عزیز تھے
وہ تو میرے ڈر سے پِگھل گئے

جو تمہاری طرح اُٹھے بھی تو
اُنہیں بم کے شعلے نگل گئے

میرے جاں نثاروں کو حُکم ہے
کہ،،،،،، گلی گلی یہ پیام دیں

جو امیرِ شہر کا حُکم ہے
بِنا اعتراض،، وہ مان لیں

جو میرے مفاد کے حق میں ہیں
وہی،،،،،،، عدلیہ میں رہا کریں

مجھے جو بھی دل سے قبول ہوں
سبھی فیصلے،،،،،،، وہ ہُوا کریں

جنہیں مجھ کچھ نہیں واسطہ
انہیں،،،، اپنے حال پہ چھوڑ دو

وہ جو سرکشی کے ہوں مرتکب
انہیں،،،،، گردنوں سے مروڑ دو

وہ جو بے ضمیر ہیں شہر میں
اُنہیں،،،، زر کا سکہ اُچھال دو

جنہیں،،،،، اپنے درش عزیز ہوں
اُنہیں کال کوٹھڑی میں ڈال دو

جو میرا خطیب کہے تمہیں
وہی اصل ہے، اسے مان لو

جو میرا امام،،،،،،، بیاں کرے
وہی دین ہے ، سبھی جان لو

جو غریب ہیں میرے شہر میں
انہیں بُھوک پیاس کی مار دو

کوئی اپنا حق جو طلب کرے
تو اسے،، زمین میں اتار دو

جو میرے حبیب و رفیق ہیں
انہیں، خُوب مال و منال دو

جو، میرے خلاف ہیں بولتے
انہیں، نوکری سےنکال دو

جو ہیں بے خطاء وہی در بدر
یہ عجیب طرزِ نصاب ہے

جو گُناہ کریں وہی معتبر
یہ عجیب روزِ حساب ہے

یہ عجیب رُت ہے بہار کی
کہ،، ہر ایک زیرِ عتاب ہے

"کہیں پر شکستہ ہے فاختہ
کہیں،،، زخم زخم گلاب ہے"

میرے دشمنوں کو، جواب ہے
نہیں غاصبوں پہ شفیق میں

میرے حاکموں کو خبر کرو
نہیں،، آمروں کا رفیق میں

مجھے زندگی کی ہوس نہیں
مجھے،، خوفِ مرگ نہیں زرا

میرا حرف حرف لہو لہو
میرا،،، لفظ لفظ ہے آبلہ
                            Faiz Ahmed Faiz

Sunday, July 09, 2017

اچھی سوچ

ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے سے کچھ نکال رہے ہیں،چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے-
خوب غور سے دیکھنے پر اس نے پایا کہ وہ ایک چوهےدانی تھی- خطرہ بھانپنے پر اس نے گھر کے پچھواڑے میں جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوهےدانی آ گئی ہے-
کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا؟ مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟
مایوس چوہا یہ بات مرغ کو بتانے گیا-
مرغ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ... جا بھاييے میرا مسئلہ نہیں ہے-
مایوس چوہے نے دیوار میں جا کر بکرے کو یہ بات بتائی ... اور بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا-
اسی رات چوهےدانی میں كھٹاك کی آواز ہوئی جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا-
اندھیرے میں اس کی دم کو چوہا سمجھ کر کسان کی بیوی نے اس کو نکالا اور سانپ نے اسے ڈس لیا-
طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا، حکیم نے اسے کبوتر کا سوپ پلانے کا مشورہ دیا،
*کبوتر ابھی برتن میں ابل رہا تھا*
خبر سن کر کسان کے کئی رشتہ دار ملنے آ پہنچے جن کے کھانے کے انتظام کیلئے اگلے دن مرغ کو ذبح کیا گیا
کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی ... جنازہ اور موت ضیافت میں بکرا پروسنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ......
چوہا دور جا چکا تھا ... بہت دور ............
اگلی بار کوئی آپ کو اپنے مسئلے بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو انتظار کیجئیے اور دوبارہ سوچیں .... ہم سب خطرے میں ہیں ....
سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ....
ذات، مذہب اور طبقے کے دائرے سے باہر نكليے-
خود تک محدود مت رہیے- دوسروں کا احساس کیجئیے۔ پڑوس میں لگی آگ آپکے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے

Friday, July 07, 2017

جگرمرادآبادی

اجمیر شریف میں نعتیہ مشاعرہ تھا، فہرست بنانے والوں کے سامنے یہ مشکل تھی کہ جگر مرادآبادی صاحب کو اس مشاعرے میں کیسے بلایا جائے ، وہ کھلے رند تھے اورنعتیہ مشاعرے میں ان کی شرکت ممکن نہیں تھی۔ اگر فہرست میں ان کانام نہ رکھا جائے تو پھر مشاعرہ ہی کیا ہوا۔ منتظمین کے درمیان سخت اختلاف پیداہوگیا۔ کچھ ان کے حق میں تھے اور کچھ خلاف۔ دراصل جگرؔ کا معاملہ تھا ہی بڑا اختلافی۔

بڑے بڑے شیوخ اور عارف باللہ اس کی شراب نوشی کے باوجود ان سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گناہ گار سمجھتے تھے لیکن لائق اصلاح۔ شریعت کے سختی سے پابند علماء حضرات بھی ان سے نفرت کرنے کے بجائے افسوس کرتے تھے کہ ہائے کیسا اچھا آدمی کس برائی کا شکار ہے۔ عوام کے لیے وہ ایک اچھے شاعر تھے لیکن تھے شرابی۔ تمام رعایتوں کے باوجود علماء حضرات بھی اور شاید عوام بھی یہ اجازت نہیں دے سکتے تھے کہ وہ نعتیہ مشاعرے میں شریک ہوں۔آخر کار بہت کچھ سوچنے کے بعد منتظمین مشاعرہ نے فیصلہ کیا کہ جگر ؔکو مدعو کیا جانا چاہیے۔یہ اتنا جرات مندانہ فیصلہ تھا کہ جگرؔ کی عظمت کا اس سے بڑااعتراف نہیں ہوسکتاتھا۔جگرؔ کو مدعو کیا گیا تووہ سر سے پاؤں تک کانپ گئے۔ ’’میں گنہگار، رند، سیہ کار، بد بخت اور نعتیہ مشاعرہ! نہیں صاحب نہیں‘‘ ۔ اب منتظمین کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ جگر صاحب ؔکو تیار کیسے کیا جائے۔ ا ن کی تو آنکھوں سے آنسو اور ہونٹوں سے انکار رواں تھا۔ نعتیہ شاعر حمید صدیقی نے انہیں آمادہ کرنا چاہا، ان کے مربی نواب علی حسن طاہر نے کوشش کی لیکن وہ کسی صورت تیار نہیں ہوتے تھے، بالآخر اصغرؔ گونڈوی نے حکم دیا اور وہ چپ ہوگئے۔ سرہانے بوتل رکھی تھی، اسے کہیں چھپادیا، دوستوں سے کہہ دیا کہ کوئی ان کے سامنے شراب کا نام تک نہ لے۔ دل پر کوئی خنجر سے لکیر سی کھینچتا تھا، وہ بے ساختہ شراب کی طرف دوڑتے تھے مگر پھر رک جاتے تھے، لیکن مجھے نعت لکھنی ہے ،اگر شراب کا ایک قطرہ بھی حلق سے اتراتو کس زبان سے اپنے آقا کی مدح لکھوں گا۔ یہ موقع ملا ہے تو مجھے اسے کھونانہیں چاہیے،

شاید یہ میری بخشش کا آغاز ہو۔ شاید اسی بہانے میری اصلاح ہوجائے، شایدمجھ پر اس کملی والے کا کرم ہوجائے، شاید خدا کو مجھ پر ترس آجائے ایک دن گزرا، دو دن گزر گئے، وہ سخت اذیت میں تھے۔ نعت کے مضمون سوچتے تھے اور غزل کہنے لگتے تھے، سوچتے رہے، لکھتے رہے، کاٹتے رہے، لکھے ہوئے کو کاٹ کاٹ کر تھکتے رہے، آخر ایک دن نعت کا مطلع ہوگیا۔ پھر ایک شعر ہوا، پھر تو جیسے بارش انوار ہوگئی۔ نعت مکمل ہوئی تو انہوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔ مشاعرے کے لیے اس طرح روانہ ہوئے جیسے حج کو جارہے ہوں۔ کونین کی دولت ان کے پاس ہو۔ جیسے آج انہیں شہرت کی سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا ہو۔ انہوں نے کئی دن سے شراب نہیں پی تھی، لیکن حلق خشک نہیں تھا۔ادھر تو یہ حال تھا دوسری طرف مشاعرہ گاہ کے باہر اور شہرکے چوراہوں پر احتجاجی پوسٹر لگ گئے تھے کہ ایک شرابی سے نعت کیوں پڑھوائی جارہی ہے۔ لوگ بپھرے ہوئے تھے۔ اندیشہ تھا کہ جگرصاحب ؔ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے یہ خطرہ بھی تھاکہ لوگ اسٹیشن پر جمع ہوکر نعرے بازی نہ کریں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے جگر کی آمد کو خفیہ رکھا تھا۔وہ کئی دن پہلے اجمیر شریف پہنچ چکے تھے جب کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مشاعرے والے دن آئیں گا۔جگر اؔپنے خلاف ہونے والی ان کارروائیوں کو خود دیکھ رہے تھے اور مسکرا رہے تھے؎
کہاں پھر یہ مستی، کہاں ایسی ہستی
جگرؔ کی جگر تک ہی مے خواریاں ہیں

آخر مشاعرے کی رات آگئی۔جگر کو بڑی حفاظت کے ساتھ مشاعرے میں پہنچا دیا گیا۔ سٹیج سے آواز ابھری’’رئیس المتغزلین حضرت جگر مرادآبادی!‘‘ ۔۔۔۔۔۔اس اعلان کے ساتھ ہی ایک شور بلند ہوا، جگر نے بڑے تحمل کے ساتھ مجمع کی طرف دیکھا… اور محبت بھرے لہجے میں گویاں ہوئے۔۔
’’آپ لوگ مجھے ہوٹ کررہے ہیں یا نعت رسول پاک کو،جس کے پڑھنے کی سعادت مجھے ملنے والی ہے اور آپ سننے کی سعادت سے محروم ہونا چاہتے ہیں‘‘۔
شور کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ بس یہی وہ وقفہ تھا جب جگر کے ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا نکلی ہے…
اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ
ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ
جوجہاں تھا ساکت ہوگیا۔ یہ معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی زبان سے شعر ادا ہورہا ہے اور قبولیت کا پروانہ عطا ہورہا ہے۔نعت کیا تھی گناہگار کے دل سے نکلی ہوئی آہ تھی،خواہشِ پناہ تھی، آنسوؤں کی سبیل تھی، بخشش کا خزینہ تھی۔وہ خود رو رہے تھے اور سب کو رلا رہے تھے، دل نرم ہوگئے، اختلاف ختم ہوگئے، رحمت عالم کا قصیدہ تھا، بھلا غصے کی کھیتی کیونکر ہری رہتی۔’’یہ نعت اس شخص نے کہی نہیں ہے، اس سے کہلوائی گئی ہے‘‘۔مشاعرے کے بعد سب کی زبان پر یہی بات تھی.نعت یه تھی..

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP