You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Monday, April 10, 2017

شعری نشست ( بطور اعزاز جناب زاہد کونچوری)

٩ اور ١٠ اپریل کی درمیانی شب ایک شعری نشست کا اہتمام جناب زاھد کونچوی کی ممبرا آمد پر بطور اعزاز محفلِ ادب ممبرا کی جانب سے جناب نظر نقشبندی کے دولت کدے پر، محترم مونس اعظمی، نائب صدر محفلِ ادب ممبرا کی صدارت میں کیا گیا. بزم کا آغاز خوش الحان قاری نور شادانی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا.

مہمانِ اعزازی زاھد کونچوی کے علاوہ اظہر اعظمی، تابش رامپوری، ایوب امیر، نور شادانی، خورشید عالم، افسر دکنی، نظر نقشبندی، علیم طاہر، زبیر گورکھپوری، مونس اعظمی، اعجاز ھندی جیسے نامور شعراء نے شرکت کی.
مہمان اعزازی جناب زاھد کونچوی کا تعارف پیش کرتے ہوئے نظر نقشبندی صاحب نے بتایا کہ آنجناب جھانسی سے تشریف لائے ہیں اور آپ کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں.

نشست میں پڑھے گئے جن اشعار نے پذیرائی حاصل وہ مندرجہ ذیل ہیں :

رحمت و نور کا شامیانہ ہوا
سَروَرِ دیں (ص) کا دنیا میں آنا ہوا
اظہر اعظمی

زمیں دیکھتے ہیں آسماں دیکھتے ہیں
تُو ہی تُو ہے ہم بس جہاں دیکھتے ہیں
عارف صدیقی

مجھ کو کافی ہے نگاہِ لطف فرمانا ترا
دل بھی نذرانہ ترا ہے جان بھی نذرانہ ترا
تابش رامپوری

دل میں ہو درد تو آنکھوں نمی رہتی ہے
بے سبب دریاؤں میں طوفان نہیں آتے ہیں
ایوب امیر

تیری محبتوں کا شجر اُونگھ رہا ہے
یادوں کے پَتّے جھڑنے لگے ڈال ڈال سے
علیم طاہر

پھولوں کی بزم میں نہ بہاروں کے درمیاں
اپنی تو عمر کٹ گئی خاروں کے درمیاں
نور شادانی

مَیں قطرہ ہوں مجھکو بلاغت ملے تو
سمندر کو ذَوقِ سماعت ملے تو
خورشید عالم

نئے موسم میں سَنَّاٹے مسلط
چمن مغلوب ویرانے مسلط
نظر نقشبندی

تری تلاش میں گھر سے نکل پڑے ہیں قدم
اگرچہ ڈھونڈنے جائیں تو کیا کیا نہیں ملتا
افسر دکنی

پاؤں اُس کے زمین پر ہی ہیں
سر پہ جو آسمان اُٹھائے ہے
ڈاکٹر و ایڈووکیٹ ریکھا 'روشنی'

ملنا جو مجھ سے تم ذرا دل سنبھالنا
آتا ہے مجھ کو سیپ سے موتی نکالنا
زبیر گورکھپوری

شعور و آگہی کم ہو رہا ہے
نئی نسلوں میں پیہم ہو رہا ہے
اعجاز ھندی

نہیں ہے اتنا ضروری یہ زر سنبھال کے رکھ
یہ زر ہنر سے ملا ہے، ہنر سنبھال کے رکھ
زاھد کونچوی

آپ سے پہلے نہ کوئی بانکپن اچھا لگا
آپ کی طرزِ ادا طرزِ سخن اچھا لگا
مونس اعظمی

آخر میں صدر محفلِ ادب ممبرا عبدالرحمن اعظمی نے رات کے تقریباً ایک بجے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اگلی نشست تک کے لئے مجلس کے ملتوی ہونے کا اعلان کیا. نظامت کے فرائض جناب نظر نقشبندی نے بحسن و خوبی انجام دیئے.

Saturday, March 25, 2017

مختصر کہانی


۔از
محمد جمیل اختر

" دیکھو تمہارے بچے کا علاج ہوجائے گا ، لیکن تمہیں جلد
کا انتظام کرنا ہوگا " ڈاکٹر نے اس کے بچے کا معائنہ کرتے ہوئے کہا .
" صاب کوئی رعایت "
" دیکھو یہ کوئی پھل سبزی کی دکان تو ہے نہیں کہ تم سے رعایت کی جائے ، علاج کی جو رقم بن رہی ہے ، وہی بتائی گئی ہے " . اس نے ایک نظر اپنے بچے کی طرف دیکھا اور گھر کا سامان ایک ایک کرکے گننے لگا ... سائیکل ... لیکن سائیکل تو ایک ہی ہے ... جس ریڑھی پر وہ سبزی لگاتا تھا وہ بھی ایک ہی تھی ، اس نے دکھ سے بچے کی طرف دیکھا ... اس کا بچہ بھی ایک ہی تھا
یکدم اس کی آنکھوں میں چمک دوڑی ... اس کے پاس گردے دو تھے.

Friday, March 24, 2017

غزل اور نظم

غزل اور نظم میں وہی فرق ہے جو محبوبہ اور منکوحہ میں ہے. نظم میں بڑا نظم و ضبط ہوتا ہے. نظم، سنانے والا کا اور ضبط سننے والے کا. نثر تو نری شریف زادی ہے جو باتیں آپ غزل میں کہہ دیتے ہیں، نثر میں کہہ دیں تو آپ کو کوڑے پڑ جائیں.
جس معاشرے میں شاعری نہ پڑھی جائے وہ معاشرہ بڑا ظالم ہوتا ہے اور جس معاشرہ میں شاعری نہ کی جائے وہ بڑا مظلوم ہوتا ہے. شاعر تو بے چارہ خانہ بدوش ہے. وہ خوابوں کے محل بناتا ہے، نقاد ان محلوں کو کرائے پر چڑھا دیتا ہے، جبکہ پبلشر ان کا کرایہ وصول کرتا ہے. شاعری امن کی علامت ہے. "ف" کہتا ہے "واقعی پہلے جو چھوٹی چھوٹی بات پر ایک دوسرے کو گالیاں دیتے، اب ایسی بات ہو تو ایک دوسرے کو اپنے شعر ہی سنادیتے ہیں." یہی نہیں شاعروں کے ساتھ رہنے سے بندہ پرامن ہوجاتا ہے.
اگر کوئی شاعر بہت گھٹیا شعر سن بھی شرمندہ اور پریشان نہ ہو تو اس کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے، وہ یہ کہ یہ شعر اس کا اپنا ہوگا.
ہمارے شاعروں کے قدم سڑک پر اور خیال آسمان پر ہوتا ہے. اکثر جب خیال سڑک پر آتا ہے، قدم آسمان پر پہنچ چکے ہوتے ہیں.

*ڈاکٹر محمد یونس بٹ* کی *شیطانیاں* سے اقتباس.

Friday, March 17, 2017

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺴﯽ ﻓﻘﯿﺮ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ۔ ﻓﻘﯿﺮ ﻧﮯ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﻣﻨﮕﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﻦ ﺷﺎﮨﯽ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻟﻘﻤﮧ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﻞ ﺩﯾﺎ۔ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺑﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﺩﮬﻨﺪﻻ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻓﻘﯿﺮ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻮ ﮐﯽ ﺧﺸﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ
” ﺍﮮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ! ﺟﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺧﺮﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎﺅﮞ ﮔﺎ۔ “
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻧﺎﺩﻡ ﺳﺎ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ
” ﻣﯿﺮﮮ ﻻﺋﻖ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺣﮑﻢ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ۔ “
ﻓﻘﯿﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ” ﺍﮮ ﻧﯿﮏ ﺩﻝ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ !
ﻣﮑﮭﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﭽﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺗﻨﮓ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ , ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺣﮑﻢ ﺩﻭ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺘﺎﯾﺎ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ “
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ
” ﺍﻥ ﭘﺮ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺑﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ۔ “
ﻓﻘﯿﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ
” ﺍﮔﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺣﻘﯿﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﺟﺎﻧﺪﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺮﺍ ﺣﮑﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﭼﯿﺰ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﻣﺪﺩ ﻣﺎﻧﮕﻮﮞ

Thursday, March 16, 2017

نفیس ذؤق

ایک شاگرد نے اپنے استاد سے پوچھا: استاد جی!
یہ آخرت میں حساب کتاب کیسے ہوگا؟

استاد نے ذرا سا توقف کیا، پھر اپنی جگہ سے اُٹھے
اور سارے شاگردوں میں کچھ پیسے بانٹے
انہوں نے پہلے لڑکے کو سو درہم،
دوسرے کو پچھتر،
تیسرے کو ساٹھ،
چوتھے کو پچاس،
پانچویں کو پچیس،
چھٹے کو دس،
ساتویں کو پانچ،
اور جس لڑکے نے سوال پوچھا تھا اسے فقط ایک درہم دیا۔

سوال کرنے والا لڑکا بلاشبہ استاد کی اس حرکت پر دل گرفتہ اور ملول تھا، اسے  اپنی توہین محسوس ہو رہی تھی کہ استاد نے آخر اسے سب سے کمتر اور کم مستحق کیونکر جانا؟

استاد نے مسکراتے ہوئے سب کو دیکھتے ہوئے کہا: سب لڑکوں کو چھٹی، تم سب لوگ جا کر ان پیسوں کو پورا پورا خرچ کرو، اب ہماری ملاقات ہفتے والے دن بستی کے نانبائی کے تنور پر ہوگی۔

ہفتے والے دن سارے طالبعلم نانبائی کے تنور پر پہنچ گئے، جہاں استاد پہلے سے ہی موجود سب کا انتظار کر رہے تھے۔ سب لڑکوں کے آجانے کے بعد استاد نے انہیں بتایا کہ تم میں ہر ایک اس تنور پر چڑھ کر مجھے حساب دے گاکہ اپنے اپنے پیسوں کو کہاں خرچ کیا ہے۔

پہلے والے لڑکے، جسے ایک سو درہم ملے تھے، کو دہکتے تنور کی منڈیر پر چڑھا کر استاد نے  پوچھا؛ بتاؤ، میرے دیئے ہوئے سو دہم کیسے خرچ کئے تھے۔

جلتے تنور سے نکلتے شعلوں کی تپش اور گرم منڈیر کی حدت سے پریشان لڑکا ایک پیر رکھتا اور دوسرا اٹھاتا، خرچ کئے ہوئے پیسوں کو یاد کرتا اور بتاتا کہ: پانچ کا گڑ لیا تھا، دس کی چائے، بیس کے انگور، پاچ درہم کی روٹیاں۔۔۔۔ اور اسی طرح باقی کے خرچے۔ لڑکے کے پاؤں حدت سے جل رہے تھے تو باقی جسم تنور سے نکلتے شعلوں سے جھلس رہا تھا حتیٰ کہ اتنی سی دیر میں اسے شدید پیاس بھی لگ گئی تھی اور الفاظ بھی لڑکھڑانا شروع۔ بمشکل تمام حساب دیکر نیچے اترا۔

اس کے بعد دوسرا لڑکا، پھر تیسرا اور پھر اسی طرح باقی لڑکے،
حتی کہ اس لڑکے کی باری آن پہنچی جسے ایک درہم ملا تھا۔

استاد نے اسے بھی کہا کہ تم بھی تنور پر چھڑھ جاؤ اور اپنا حساب دو۔ لڑکا جلدی سے تنور پر چڑھا، بغیر کسی توقف کے بولا کہ میں نے ایک درہم کی گھر کیلئے دھنیا کی گڈی خریدی تھی، اور ساتھ ہی مسکراتا ہوا نیچے اتر کر استاد کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا، جبکہ باقی کے لڑکے ابھی تک نڈھال بیٹھے اپنے پیروں پر پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رہے تھے۔

استاد نے سب لڑکوں کو متوجہ کر کے اس لڑکے کو خاص طور پر سناتے ہوئے کہا جس نے سوال کیاتھا.. بچو! یہ قیامت والے دن کے حساب کتاب کا ایک چھوٹا سا منظر نامہ تھا۔ ہر انسان سے، اس کو جس قدر عطا کیا گیا، کے برابر حساب ہوگا۔

لڑکے نے استاد کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ: آپ نے جتنا کم مجھے دیا، اس پر مجھے رشک اور آپ کی عطا پر پیار آ رہا ہے۔ *تاہم الله تبارک و تعالیٰ کی مثال تو بہت اعلٰی و ارفع ہے*۔

الله تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے حساب کی شدت سے بچائے اور ہمارے ساتھ معافی اور درگزر والا معاملہ فرمائے۔
آمین

(عرب میڈیا سے لیکر آپ کے نفیس ذوق کیلئے ترجمہ کیا گیا)
انتخاب

Tuesday, March 14, 2017

نتائج پر چرچے

     یو پی اسمبلی الیکشن کے نتائیج آ گئے - پورے ملک میں نتائیج پر چرچے ہیں - ہاں برسوں پہلے ، کانگریس کی لیڈر اندرا گاندھی کے ہوتے ہوئے ، کانگریس کو الیکشن میں غیر معمولی کامیابی ملی تھی - تب یہ کہا گیا تھا - '' بائ کا کمال ہے ،سیاہی کا کمال ہے -'' اب خاطر خواہ لوگوں کو حالیہ یوپی الیکشن میں بی جے پی کی کامیابی حیرت انگیز لگ رہی ہے - وہ اس کے لئے الیکٹرانک ووٹینگ مشین میں گڑ بڑی کو اسکی وجہ بتلا رہے ہیں -
      مسلمانوں کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ مودی کی سرکار آئے یا کسی اور کی ! بائ کا کمال ہوکہ سیاہی کا کمال یا پھر موجودہ الیکٹرک ووٹینگ میں گڑبڑی کا کمال ، اس سے مسلمانوں کی ترقی بقاء تعمیر پر خاطر خواہ اثر پڑتا دکھاہی نہیں دیتا -
     ہم  میں سے اکثر لوگ ، ہماری ترقی و تنزلی کے لئے سیاست اور ووٹ ہی پر حد سے زیادہ تکیہ کرتے ہیں - بے شک  سیاست ہمارے لئے لازم وملزوم ہو کر رہ گئ ہے - سیاست ہی کو ہم کلی طور انتہای اہمیت و افادیت کا ماننے لگے ہیں -
ہم ہمارے وجود ترقی بقاء کے لئے ، سیاست ہی  کو سب کچھ ماننے لگ جایں تو ، پھر ہمارے مذہب ، مذہب اسلام کا وجود ہی بے معنی رہ جائے گا -
کانگریس کہتی آئ ہمارے ہاتھ مضبوط کرو ، کبھی کہتے آئ مرکز میں ہماری سرکار کے ساتھ صوبوں میں بھی ہمیں مضبوط کرو - ایسا بھی ہوا - کانگریس کو راجیو گاندھی کی قیادت میں ملک کے صوبوں اور مرکز میں بے پناہ مضبوط کیا - مرکز کے دہلی کے پایہ تخت پر انتہاہی مضبوطی کے ساتھ بٹھا دیا - بالخصوص مسلمانوں کی کون سی تقدیر بدل گئ - بابری مسجد کا دروازہ کھول دیا گیا - شیلانیاس ہوئ - پوجا ہوئ - کانگریسی وزیراعظم راجیو گاندھی نے بہ نفس نفیس شرکت کی - کانگریسی وزیراعظم راجیو گاندھی نے اپنی انتخابی کا آغاز ایودھیا سے ،ملک میں  رام راج  لانے سے کیا - کیا اپنے آپ کو قومی یکجہیتی اور سیکولر ازم پر جلنے والی کانگریس پارٹی اس کے لیڈر راجیو گاندھی کو ، یہ زیب دیتا تھا کہ ان کے راج میں ایودھیا میں ، کانگریس سرکار کی مدد سے بابری مسجد کا تالا کھلوا کر وہاں مذہبی تقریب شیلا نیاس میں کانگریسی وزیراعظم راجیو گاندھی شرکت کریں - کس نے انہیں یہ سب کچھ کرنے پر مجبور کیا ؟ ملک اور پارلیمینٹ میں ان کی طاقت مضبوط تھی - چار سو سے زائید ان کے ممبران پارلیمینٹ تھے - ان کے نانا اور ماں اندرا گاندھی کے وقت بھی اتنے نہ تھے - کانگریسی وزیراعظم اور کانگریس چاہتی تو کتنے ہی ویرینہ مسلم مسائیل کو حل کر سکتی تھی - کانگریس تو کہتی تھی ہمارے ہاتھ مضبوط کرو - ان ہاتھوں کو مضبوط کرنے میں ، مسلمانوں نے بھی تاریخی سطح پر مدد و تعاون دیا - جس کی اک مستند تاریخ اور ری کارڈ ہے - آر ، ایس ، کی نور نظر بی جے پی کے وزیراعظم واجپئ کی چودہ روزہ مرکزی سرکار ہند کو ،کشمیر کے اک مسلم ممبر پارلیمینٹ سیف الدین سوز کے اک ووٹ کی  بناء پر شکست فاش  ہوہی انہیں سرکار چھوڑنا پڑا - اگے چل کر پھر بے پنا شہرت پبلیسٹی پرچار '' شاہینیگ انڈیا '' ہونے کے باوجود بی جے پی کی مرکزی سرکار کو پارلیمانی الیکشن میں شکست فاش ہوئ - کس قدر مولوی ، ملا ،شاہی امام بخاری اور اردو کے نمایاں شعراء کی حمایت  اور منبر و محراب سے حق وصداقتوں کے ڈنکے پیٹنے والوں کی طرف سے واجپئ جی کو عمامے ، صافحے ، پہنانے اور  واجپائ کی جانب سے درگاہوں پر چادریں پیش کرنے والوں نے کیا کچھ نہ کیا - نتیجہ بالکل الٹا نکلا - پارلیمانی الیکشن میں واجپائ کی بی جے پی سرکار کو ، سونیا گاندھی کی کانگریس کے ہاتھوں بری طرح سے کراری ہار کا سامنا کرنا پڑا - منمو ہن سنگھ کانگریس کے ملک کے وزیراعظم بنے - پارلیمانی الیکشن میں مسلمانوں نے بے پناہ کانگریس کا ساتھ دیا - جس کا اقرار بذات خود سونیا گاندھی اور کانگریسی وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی کیا -
اک سے دو بار  کانگریس کے منموہن سنگھ  کی بطور وزیراعطم ، مرکز میں سرکار بنی ، واضح اور مثبت و مستند  طور پر جواز ہونے کے باوجود کئ اہم مسلم معاملات و مسائیل ، صرف اور صرف کانگریس کی عدم توجہ سے حل نہ ہو سکے - سپریم کورٹ میں کئ سالوں سے مسلمانوں کی جانب سے اپیل داخل ہے کہ ہندووں کے انتہائ سماجی ، پسماندہ طبقات اور ذاتوں کی طرح سرکاری مراعات اور سہولیات مسلمانوں کو بھی  ملیں ، سپریم کورٹ میں کیس کی پیشی کے دوران کانگریسی حکومت ،سال ہا سال سے اپنا موقف پیش نہیں کرتی رہی - مسلمانوں کے لئے '' شیڈول کاسٹ '' کا ریزرویشن ، ان کا آئینی و دستوری حق  ہی تو ہے - کئ سرکاری کمیشنوں نے بھی اس کی سفارش کی ہے - مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے دستوری حق پر اور متعدد مسلم مسائیل کے تدارک پر  کانگریس  سرد مہری دکھلاتی رہی - آزادی کے بعد سے آج تک ، ملک میں ہزاروں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے - جس میں مسلمانوں کا بے پناہ جانی ومالی نقصانات اور عزت و آبرو پر حملے ہوئے - آخر یہ سب کچھ کب تک ؟ لسانی اور فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کے لئے کانگریس ہی کی ایماء پر ماہرین نے ، کانگریسی حکومت کو مشاورتی مسودہ بھی تیار کر کے  دیا - اس تعلق سے بنائے گئے بل کو قانون بنانے کے لئے کانگریس ہی نہیں متعدد سیکولر پارٹیوں کا رویہ بھی ، پاریمینٹ میں بل پر مباحثہ پر سرد مہری پر مبنی رہا - یہاں تک کہ کانگریس کی سرکار بھی چلی گئ - جس کے قائیم کرنے میں ، ملک کے مسلم رائے دہندگان کا نمایاں مثبت رول تھا - جس کا اعتراف کانگریسی وزیراعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی بھی کرتی آئیں - آتنگ واد اور دہشت کے نام پر سالہا سال سے مسلمان پریشان ہیں - دراصل دہشت پسندی اک انتہائ خطرناک بات ہے - چاہے جو کوئ بھی دہشت گرد ہو اس کی سخت سزا ہونا ضروری ہے - برہمن وادی اور ہندوتواوادی سوچ و فکر میں ملک کا ہر مسلمان غدار اور دیس دروہی ہے - اچھے برے ہر جگہ ہوتے ہیں - محض شک وشبہ کی بنیاد پر ، یہاں کوئ دہشت پسندی کا واقعہ ہوا اور خاص طور الیکٹرک میڈیا بناء ٹھوس ثبوت کے دہشت پسندی مسلمانوں کے سر مونڈھ دیتی جا رہی ہے - کتنے ہی معاملات میں مسلمان ، سالوں سال کی انتہائ جسمانی ذہنی اذیتوں کے بعد عدالتوں سے رہا ہو رہے ہیں - دہشت پسندی کے نام پر مسلمان ہی نہیں بڑی تعداد میں  ملک کے غیر مسلم دانشوران ، سماجی اصلاح کار بھی آواز اٹھاتے آرہے ہیں - پولیس کے اک اعلی افیسر ہیمنت کرکرے کی مکہ مسجد ، سمجھوتہ ایکسپریس ، اجمیر درگاہ و دیگر بم دھماکوں پر انتہائ عرق ریزی جانفشانی کے ساتھ تیار کی گئ رپورٹ گویا کانگریسی سرکار نے ردی کی ٹوکری میں ڈال دی کہ جس سے ملک میں آتنگ ، دہشت واد ، بم دھماکوں کی قلعئ کھول جاتی - جب تک کرکرے نے  زعفرانی ہندوتواوادیوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار نہ کیا تھا - ہندوتواوادی بڑھ چڑھ کر بول رہے تھے - کہ '' اسلام آتنک ، دہشت کی تعلیم وتلقین نہیں کرتا مگر دہشت گردی کی الزام میں پکڑے جانے والے سبھی مسلمان ہیں '' کرکرے کی آتنک واد پر رپورٹ نے ہندوتواوادیوں کے منہ پر تالے لگادئیے -  مرکزی کانگریسی سرکار کے لئے موقع غنیمت تھا کہ کرکرے کی رپورٹ پر ہندوتواوادی آتنک وادیوں کے خلاف ، بیخ کنی کرے - ملک کے عوام کا بھی آتنک واد اور ہندوتواواد پر موڈ بنا تھا  مگر کانگریس نے موقع سے فائیدہ اٹھا کر دہشت پسندی جیسے ، انتہاہی سنگین معاملہ پر ،  اک آئینی دستوری عملی قدم نہ اٹھا سکی - گویا وہ نرم ہندوتوا پر چل رہی تھی  اور آج تک دہشت کے نام پر ، معصوم مسلمانوں پر  دہشت کا نام پر ، ظلم ، بربریت ستم کی تلوار لٹک رہی ہے - لاتعداد مسلمان ، سالہا سال سے جیلوں میں ، ان کی زندگی برباد ہو رہی ہے - اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ یہ کانگریس کی دین ہے - کہ مسلمانوں ہی کے نہیں دلتوں ،بپسماندہ طبقات درج فہرست قبائیل ، ادی واسیوں چھوٹے کسانوں ، ہنر مندوں ، دبے کچلے عوام کے ساتھ ملک کی آزادی کے بعد سے آج تک کھلواڑ ہی ہوتا آیا ہے - اس پاپ میں صرف کانگریس ہی نہیں ملک کی اکثر و بیشتر، کم و بیش سیکولر پارٹیاں شامل رہی ہیں - ہاں کچھ سیلولر پارٹیوں اور سیکولر سیاسی شخصیتوں کا کردار کسی حد تک قابل اطمینان رہا - جن میں ارویند کیجریوال عام آدمی پارٹی ، ممتا بنر جی ترنمول کانگریس پارٹی ، کمیونسٹ پارٹیاں اور لالو پرساد یادو جیسے شامل ہیں -
  ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ملک میں اس پارٹی کی حکومت آ جائے تو بہیتر ہے اس پارٹی کی آ جائے تو بہیتر ہے - ہم سیاسی اعتبار سے اپنی ابتری دور کرنے اور سماجی ترقی و بقاء کے لئے ملک کی متعدد سیاسی پارٹیوں کے سیاسی کردار کو جانتے آئے ہیں - کس نے کیا کیا سمجھ رہے ہیں - اب اس نتیجہ پر پہونچے ہیں کہ بناء سماجی آب یاری کے ہمیں ہمارے دستوری آئینی حقوق بھی نہیں مل سکتے - کم از کم یہ تو حاصل ہوں -  اب تو اس کے خطرات پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئے ہیں - کیوں کہ آر ایس ایس کی نور نظر بی جے پی کی مرکز میں حکومت ہے ، متعدد صوبوں میں تھی ہی اب یوپی جیسی ملک کی انتہاہی افادیت کی ریاست میں بھی حکومت بنا لی - آ ایس ایس کا وجود 1924 کو ہوا - یہ برہمن وادی ، ہندوتواوادی جماعت  تنظیم ہے - اپنے روز قیام سے ہی یہ ہمارے ملک کا سینکڑوں سال پرانا ورثہ قومی یکجہیتی سے کھلواڑ کرتی آئ ہے - ملک کی آزادی کے بعد ،  انتہاہی مطالعہ و عرق ریزی کے ساتھ ملک کا دستور ، آئین ننایا گیا - جو ملک کے ہر شہری کو بناء امتیاز مذہب و کسی بھی بھید بھاو کی بناء پر ، ملک میں رہنے کا یکساں طور پر ، برابری کا حق دیتا ہے - سبھی کو اک جیسی مذہبی سماجی آزادی دیتا ہے - ہمارے ملک کا دستور جمہریت پر مبنی ہے - آگے چلکر اسے سیکولر ازم سے منسلک کر دیا - آر ایس ایس  کو دستور ہند سے نفرت ہے - جو ملک کو ہندو راشٹر بنانے پر تلے ہیں - جنہیں مسلمانوں ، دلتوں ، پچھڑوں ، اقلیتوں ، ادی واسیوں ، درج فہرست قبائیل ،کمزوروں سے عداوت ہے - یہ سب کچھ اک مفرو ضہ نہیں - اس کی  مستند ٹھوس حقیقت ہے - کسی بھی جماعت ، تنظیم ، ادارے کو جاننے کے لئے اس کے بانیان ، لیڈران کی تحریریں تقاریر کو ہڑھنا سمجھنا ضروری ہے - آر ایس ایس کے لیڈران  ہیگڈے وار ، ساورکر ، ڈاکٹر مولجے ، بالا صاحب دیورس ،وغیرہ کے خیالات نظریات کتابوں میں محفوظ ہیں - انہیں پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ انسانیت اور ملک کے لئے کس قدر خطرناک ہیں - ملک کی اکثیرتی آبادی کے خلاف یہ لوگ سوچتے سمجھتے اور عمل کرتے آئے ہیں - سالہاسال سے آر ایس ایس اک منظم سازش اور انتہاہی مشقت کے ساتھ ملک میں سماج میں متعدد طبقات گروہوں میں گھس پیٹ بنا لی ہے -  ملک کے شہریوں کے دلوں میں اک دوسر ےکے خلاف دوریاں پیدا کرتی آئ ہے -  دلتوں ،انتہاہی پسماندہ طبقات ، جن کی بھلاہی یہاں تک کہ جن کے وجود سے بھی آر ایس ایس کے فلسفہ میں کوئ جگہ نہیں ، انسانیت سماجی کار گذاری کا نقاب اوڑھ کر ان میں گھس آئ ہے -طان کی ہمدرد بنی ہے -
کہتے ہیں کہ کوئ بھی فلم پکچر اک کامیاب ویلن کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی - آر ایس ایس کی بنائ گئ فلم میں مسلمانوں کو ویلن کا رول دیا گیا ہے - وہ ڈاکو ہے - ملیچھ ہے - ملک میں مسلمانوں کا دور حکومت ہندووں پر ظلم وستم سے بھرا پڑا ہے  - وہ مندروں کو مسمار اور لوٹتے تھے - ہندووں کو زبردستی مار کر مسلمان بناتے تھے - ہندووں میں ذات پات کو انہوں نے ہی جاری کیا - وہ آتنک وادی ہیں - وغیرہ وغیرہ  اس طرح آر ایس ایس  ملک کی اکثیرتی آبادی کو مسلمانوں سے بدظن کرتی آئ ہے -
آج وہ تمام افراد جماعتیں طبقات جو آر ایس ایس اور اس کی ذیلی شاخوں کے شکار ہیں - ان کو متحد ہو کر اپنے دستوری حقوق کی باز یابی کے لئے کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کی ضرورت ہے - جو تنظیمیں ادارے افراد آر ، ایس ، ایس کے شکار طبقات ، گروہوں کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر  لے کر اپنے دستوری حقوق کے تحفظ کے لئے ساتھ ساتھ ہیں - ان کا ساتھ دینا ہمارا فرض منصبی ہے - دستوری آزادی وقت کی اہم ضرورت ہے -
مولانا سجاد نعمانی ، ولی رحمانی ، مولانا سلمان ندوی ، وامن میشرام ، پرکاش امبیڈکر وغیرہ وغیرہ کا ساتھ دیا جائے - جو اقلتوں ، دلتوں  مسلمانوں اور جو سارے مظلوموں کو دستوری حقوق کی خاطر ، دستوری آزادی کے لئے میدان عمل میں ہیں - برہمن وادی  آر، ایس ،ایس اس کی نور نظر بی جے پی کو لگام دینے کے لئے صرف سیاست ہی نہیں سماجیات کی ضرورت ہے - صرف سیاست ہی سے کام نہیں چلے گا -

Monday, March 13, 2017

غزل

دیپ بن جائیں گے جو پاؤں کے چھالے ہوں گے
ہم جو پہنچیں گے تو منزل پہ اجالے ہوں گے

جب جنوں ساز نگاہیں تری اٹھیں ہوں گی
ہاتھ لوگوں نے گریبان میں ڈالے ہوں گے

مدّتوں خون رگِ گُل سے بہے گا یارو
پھر کہیں جا کے خزاؤں کے ازالے ہوں گے

ہم سفر دشتِ وفا کے تو مجھے یاد تو کر
میں نے کانٹے ترے پیروں سے نکالے ہوں گے

میں نے پلکوں سے چُنیں چاند کی ٹوٹی کرنیں
میری آنکھوں میں ابھی شب کے حوالے ہوں گے

چُپ کے موسم میں جو اظہار کی تہمت لے لے
اُس نے جذبوں کے تقاضے تو نہ ٹالے ہوں گے

جرم چہرے سے کھرچ دے گا مگر دیکھ سلیمؔ
آنکھ میلی ہے تو پھر ہاتھ بھی کالے ہوں گے

: سلیم کوثر

Thursday, March 02, 2017

3 مارچ 1982  اردو کے عظیم شاعر فراق گورکھپوری کی تاریخ وفات ہے

نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا
حجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیا

جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی
چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا

دو چار برق تجلی سے رہنے والوں نے
فریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا

دلوں پہ کرتے ہوئے آج آتی جاتی چوٹ
تری نگاہ نے پہلو بچائے ہیں کیا کیا

نثار نرگس مے گوں کہ آج پیمانے
لبوں تک آئے ہوئے تھرتھرائے ہیں کیا کیا

وہ اک ذرا سی جھلک برق کم نگاہی کی
جگر کے زخم نہاں مسکرائے ہیں کیا کیا

چراغ طور جلے آئینہ در آئینہ
حجاب برق ادا نے اٹھائے ہیں کیا کیا

بقدر ذوق نظر دید حسن کیا ہو مگر
نگاہ شوق میں جلوے سمائے ہیں کیا کیا

کہیں چراغ کہیں گل کہیں دل برباد
خرام ناز نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا

تغافل اور بڑھا اس غزال رعنا کا
فسون غم نے بھی جادو جگائے ہیں کیا کیا

ہزار فتنۂ بیدار خواب رنگیں میں
چمن میں غنچۂ گل رنگ لائے ہیں کیا کیا

ترے خلوص نہاں کا تو آہ کیا کہنا
سلوک اچٹے بھی دل میں سمائے ہیں کیا کیا

نظر بچا کے ترے عشوہ ہائے پنہاں نے
دلوں میں درد محبت اٹھائے ہیں کیا کیا

پیام حسن پیام جنوں پیام فنا
تری نگہ نے فسانے سنائے ہیں کیا کیا

تمام حسن کے جلوے تمام محرومی
بھرم نگاہ نے اپنے گنوائے ہیں کیا کیا

فراقؔ راہ وفا میں سبک روی تیری
بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا

Sunday, February 26, 2017

امام الہند مولانا ابولکلام آزاد کا یوم وفات 22 فروری

22فروری امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کا یوم وفات ہے
امام الہند کی وفات پہ شورش کاشمیری سے زیادہ اچھا کسی نے نہیں لکھا ہو گا اگر اس سے بہتر لکھنا ممکن ہوتا تو ضرور لکھتا لیکن کچھ مضامین سدا بہار ہوتے ہیں دیکھ ل یجئے شورش کے سحر انگیز قلم کا کارنامہ_

مولانا آزاد (رحمۃ اللہ علیہ) محض سیاست داں ہوتے تو ممکن تھا حالات سے سمجھوتہ کر لیتے ، لیکن شدید احساسات کے انسان تھے ، اپنے دور کے سب سے بڑے ادیب، ایک عصری خطیب، ایک عظیم مفکر اور عالم متجر، ان لوگوں میں سے نہیں تھے ، جو اپنے لئے سوچتے ہیں ، وہ انسان کے مستقبل پر سوچتے تھے ، انہیں غلام ہندوستان نے پیدا کیا اور آزاد ہندوستان کیلئے جی رہے تھے ، ایک عمر آزادی کی جدوجہد میں بسر کی اور جب ہندوستان آزاد ہوا تو اس کا نقشہ ان کی منشا کے مطابق نہ تھا، وہ دیکھ رہے تھے کہ ان کے سامنے خون کا ایک سمندر ہے ، اور وہ اس کے کنارے پر کھڑے ہیں ، ان کا دل بیگانوں سے زیادہ یگانوں کے چرکوں سے مجروح تھا، انہیں مسلمانوں نے سالہا سال اپنی زبان درازیوں سے زخم لگائے اور ان تمام حادثوں کو اپنے دل پر گذارتے رہے ۔

آزادی کے بعد یہی سانچے دس سال کی مسافت میں ان کیلئے جان لیوا ہو گئے ، 12/فروری 1958ء کو آل انڈیا ریڈیو نے خبر دی کہ مولانا آزاد علیل ہو گئے ہیں ، اس رات کابینہ سے فارغ ہو کر غسل خانے میں گئے ، یکایک فالج نے حملہ کیا اور اس کا شکار ہو گئے ، پنڈت جواہر لال نہرو اور رادھا کرشنن فوراً پہنچے ڈاکٹروں کی ڈار لگ گئی، مولانا بے ہوشی کے عالم میں تھے ، ڈاکٹروں نے کہاکہ 48 گھنٹے گذرنے کے بعد وہ رائے دے سکتیں گے کہ مولاناخطرے سے باہر ہیں یا خطرے میں ہیں ۔
ادھر آل انڈیا ریڈیو نے براعظم میں تشویش پیدا کر دی اور یہ تاثر عام ہو گیا کہ مولانا کی حالت خطرہ سے خالی نہیں ہے ہر کوئی ریڈیو پر کان لگائے بیٹھا اور مضطرب تھا، مولانا کے بنگلہ میں ڈاکٹر راجندرپرساد (صدر جمہوریہ ہند)، پنڈت جواہرلال نہرو وزیراعظم، مرکزی کابینہ کے ارکان، بعض صوبائی وزرائے اعلیٰ اور اکابر علماء کے علاوہ ہزا رہا انسان جمع ہو گئے ، سبھی پریشان تھے 19!فروری کو موت کا خدشہ یقینی ہو گیا۔
کسی کے حواس قائم نہ تھے ، پنڈت جواہر لال نہرو رفقاء سمیت اشکبار چہرے سے پھر رہے تھے ، ہر کوئی حزن و ملال کی تصویر تھا۔ ہندوستان بھر کی مختلف شخصیتیں آ چکی تھیں ۔
جب شام ہوئی ہر امید ٹوٹ گئی۔ عشاء کے وقت سے قرآن خوانی شروع ہو گئی، مولانا حفیظ الرحمن سیوہارویؒ، مولانا محمد میاں ؒ، مفتی عتیق الرحمنؒ، سید صبیح الحسنؒ، مولانا شاہد فاخریؒ اور بیسیوں علماء وحفاظ تلاوت کلام الہیٰ میں مشغول تھے ۔

آخر ایک بجے شب سورہ یٰسین کی تلاوت شروع ہو گئی اور 22/فروری کو 2:15 بجے شب مولانا کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔
(انا ﷲ وانا الیہ راجعون)

اس وقت بھی سینکڑوں لوگ اضطراب میں کھڑے تھے ، جوں ہی رحلت کا اعلان ہوا تمام سناٹا چیخ و پکار سے تھرا گیا۔
دن چڑھے تقریباً 2 لاکھ انسان کوٹھی کے باہر جمع ہو گئے ۔ تمام ہندوستان میں سرکاری وغیر سرکاری عمارتوں کے پرچم سرنگوں کر دئیے گئے ، ملک کے بڑے بڑے شہروں میں لمبی ہڑتال ہو گئی، دہلی میں ہو کا عالم تھا حتی کہ بینکوں نے بھی چھٹی کر دی ایک ہی شخص تھا جس کیلئے ہر مذہب کی آنکھ میں آنسو تھے ، بالفاظ دیگر مولانا تاریخ انسانی کے تنہا مسلمان تھے ، جن کے ماتم میں کعبہ و بت خانہ ایک ساتھ سینہ کوب تھے ، پنڈت جواہر لال نہرو موت کی خبر سنتے ہی دس منٹ میں پہنچ گئے اور بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے انہیں یاد آ گیا کہ مولانا نے آج ہی صبح انہیں "اچھا بھائی خدا حافظ "کہا تھا۔

ڈاکٹروں نے 21 کی صبح کو ان کے جسم کی موت کا اعلان کر دیا اور حیران تھے کہ جسم کی موت کے بعد ان کا دماغ کیونکر 24 گھنٹے زندہ رہا۔
ڈاکٹر بدھان چندر رائے (وزیراعلیٰ بنگال) نے انجکشن دینا چاہا تو مولانا نے آخری سہارا لے کر آنکھیں کھولیں اور فرمایا "ڈاکٹر صاحب اﷲ پر چھوڑئیے " ۔ اس سے پہلے معالجین کے آکسیجن گیس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "مجھے اس پنجرہ میں کیوں قید کر رکھا ہے ؟ اب معاملہ اﷲ کے سپرد ہے "۔
میجر جنرل شاہ نواز راوی تھے کہ تینوں دن بے ہوش رہے ، ایک آدھ منٹ کیلئے ہوش میں آئے ، کبھی کبھار ہونٹ جنبش کرتے تو ہم کان لگاتے کہ شاید کچھ کہنا چاہتے ہیں ، معلوم ہوتا ہے کہ آیات قرآنی کا ورد کر رہے ہیں ، پنڈت نہرو کے دو منٹ بعد ڈاکٹر راجندر پرساد آ گئے ان کی آنکھوں میں آنسو ہی آنسو تھے ، آن واحد میں ہندوستانی کابنیہ کے شہ دماغ پہنچ گئے ، ہر ایک کا چہرہ آنسوؤں کے پھوار سے تر تھا اور ادھر ادھر ہچکیاں سنائی دے رہی تھیں ۔
مسٹر مہابیر تیاگی سراپا درد تھے ، ڈاکٹر رادھا کرشنن نے آبدیدہ ہو کر کہا :
"ہندوستان کا آخری مسلمان اٹھ گیا، وہ علم کے شہنشاہ تھے " ۔
کرشن مین سکتے میں تھے ، پنڈت پنٹ یاس کے عالم میں تھے ، مرار جی دیسائی بے حال تھے ، لال بہادر شاستری بلک رہے تھے ڈاکٹر ذا کرحسین کے حواس معطل تھے ۔ مولانا قاری طیب غم سے نڈھال تھے ، مولانا حفظ الرحمن کی حالت دیگر گوں تھی، ادھر زنانہ میں مولانا کی بہن آرزو بیگم تڑپ رہی تھیں ....
اب کوئی آرزو نہیں باقی

ان کے گرد اندرا گاندھی، بیگم ارونا آصف علی اور سینکڑوں دوسری عورتیں جمع تھیں ۔ اندرا کہہ رہی تھیں "ہندوستان کا نور بجھ گیا"
اور ارونا رورہی تھیں "ہم ایک عظمت سے محروم ہو گئے "۔

پنڈت نہرو کا خیال تھا کہ مولانا تمام عمر عوام سے کھینچے رہے ان کے جنازہ میں عوام کے بجائے خواص کی بھیڑ ہو گئی۔ لیکن جنازہ اٹھا تو کنگ ایڈورڈ روڈ کے بنگلہ نمبر 4 کے باہر 2 لاکھ سے زائد عوام کھڑے تھے اور جب جنازہ انڈیا گیٹ اور ہارڈنگ برج سے ہوتا ہوا دریا گنج کے علاقہ میں پہنچا تو 5 لاکھ افراد ہو چکے تھے ، صبح 4 بجے میت کو غسل دیا گیا اور کفنا کر 9 بجے صبح کوٹھی کے پورٹیکو میں پلنگ پر ڈال دیا گیا۔

سب سے پہلے صدر جمہوریہ نے پھول چڑھائے ، پھر وزیراعظم نے اس کے بعد غیر ملکی سفراء نے کئی ہزار برقعہ پوش عورتیں مولانا کی میت کو دیکھتے ہی دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں ، ان کے ہونٹوں پر ایک ہی بول تھا
"مولانا آپ بھی چلے گئے ، ہمیں کس کے سپرد کیا ہے ؟"۔
ہندو دیویاں اور کنیائیں مولانا کی نعش کو ہاتھ باندھ کر پرنام کرتی رہیں ۔ ایک عجیب عالم تھا چاروں طرف غم و اندوہ اور رنج و گریہ کی لہریں پھیلی ہوئی تھیں ۔

پنڈت جواہر لال نہرو کی بے چینی کا یہ حال تھا کہ ایک رضا کار کی طرح عوام کے ہجوم میں گھس جاتے اور انہیں بے ضبط ہجوم کرنے سے روکتے ، پنڈت جی نے یمین ویسار سکیورٹی افسروں کو دیکھا تو ان سے پوچھا :
"آپ کون ہیں ؟"
"سکیورٹی افسر"۔
"کیوں "۔
"آپ کی حفاظت کیلئے "۔
"کیسی حفاظت؟ موت تو اپنے وقت پر آکے رہتی ہے، بچا سکتے ہو تو مولانا کو بچا لیتے ؟"

شری پربودھ چندر راوری تھے کہ پنڈت جی نے یہ کہا اور بلک بلک کر رونے لگے ، ان کے سکیورٹی افسر بھی اشکبار ہو گئے ، ٹھیک پون بجے میت اٹھائی گئی، پہلا کندھا عرب ملکوں کے سفراء نے دیا، جب کلمہ شہادت کی صداؤں میں جنازہ اٹھا تو عربی سفراء بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ، جوں ہی بنگلہ سے باہر کھلی توپ پر جنازہ رکھا گیا تو کہرام مچ گیا، معلوم ہوتا تھا پورا ہندوستان روہا ہے مولانا کی بہن نے کوٹھی کی چھت سے کہا :
"اچھا بھائی خدا حافظ"۔

پنڈت پنٹ نے ڈاکٹر راجندر پرساد کا سہارا لیتے ہوئے کہا :
"مولانا جیسے لوگ پھر کبھی پیدا نہ ہوں گے اور ہم تو کبھی نہ دیکھ سکیں گے "۔

مولانا کی نعش کو کوٹھی کے دروازہ تک چارپائی پر لایا گیا، کفن کھدر کا تھا، جسم ہندوستان کے قومی پرچم میں لپٹا ہوا تھا، اس پر کشمیری شال پڑا تھا اور جنازہ پر نیچے دہلی کی روایت کے مطابق غلاف کعبہ ڈالا گیا تھا۔ پنڈت نہرو، مسٹر دھیبر صدر کانگریس، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، جنرل شاہ نواز، پروفیسر ہمایوں کبیر، بخشی غلام محمد اور مولانا کے ایک عزیز جنازہ گاڑی میں سوار تھے ۔
ان کے پیچھے دوسری گاڑی میں صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر راجندر پرساد اور ڈاکٹر رادھا کرشنن نائب صدر کی موٹر تھی۔ ان کے بعد کاروں کی ایک لمبی قطار تھی جس میں مرکزی وزراء، صوبائی وزرائے اعلیٰ، گورنر اور غیر ملکی سفراء بیٹھے تھے ۔
ہندوستانی فوج کے تینوں چیفس جنازے کے دائیں بائیں تھے ۔ تمام راستہ پھولوں کی موسلادھار بارش ہوتی رہی۔ دریا گنج سے جامع مسجد تک ایک میل کا راستہ پھولوں سے اٹ گیا۔ جب لاش لحدتک پہنچی تو ایک طرف علماء و حفاظ قرآن مجید پڑھ رہے تھے دوسری طرف اکابر فضلاء سرجھکائے کھڑے تھے ۔

اس وقت میت کو بری فوج کے ایک ہزار نوجوانوں ، ہوائی جہاز کے تین سو جانبازوں اور بحری فوج کے پانچ سو بہادروں نے اپنے عسکری بانکپن کے ساتھ آخری سلام کیا، مولانا احمد سیعد دہلوی صدر جمعیت علماء ہند نے 2:50 پر نماز جنازہ پڑھائی، پھر لحد میں اتارا، کوئی تابوت نہ تھا اور اس طرح روئے کہ ساری فضاء اشکبار ہو گئی، تمام لوگ رو رہے تھے اور آنسو تھمتے ہی نہ تھے ، مولانا کے مزار کا حدود اربعہ "بوند ماند" کے تحت درج ہے ۔

مختصر ... یہ کہ جامع مسجد اور لال قلعہ کے درمیان میں دفن کئے گئے ، مزار کھلا ہے ، اس کے اوپر سنگی گنبد کا طرہ ہے اور چاروں طرف پانی کی جدولیں اور سبزے کی روشیں ہیں ۔ راقم جنازہ میں شرکت کیلئے اسی روز دہلی پہنچا، مولانا کو دفنا کر ہم ان کی کوٹھی میں گئے کچھ دیر بعد پنڈت جواہر لال نہرو آ گئے اور سیدھا مولانا کے کمرے میں چلے گئے پھر پھولوں کی اس روش پر گئے ، جہاں مولانا ٹہلا کرتے تھے ، ایک گچھے سے سوال کیا:
"کیا مولانا کے بعد بھی مسکراؤ گے ؟"۔
راقم آگے بڑھ کر آداب بجا لایا کہنے لگے : "شورش تم آ گئے ؟ مولانا سے ملے ؟"
راقم کی چیخیں نکل گئیں ۔
مولانا ہمیشہ کیلئے رخصت ہو چکے تھے اور ملاقات صبح محشر تک موقوف ہو چکی تھی_
بشکریہ عامر ہزاروی

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP