You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Friday, December 25, 2015

کوکن ٹیلنٹ فورم کے بین المدارس تعلیمی مقابلے حلقہ تھانہ و پالگھر اضلاع





        تصویر الگ سے بھیج رہا ہوں
        آئیڈیل فاؤنڈیشن کا تعلیمی شعبہ کوکن ٹیلنٹ فورم 1997 ء سے کوکن پٹی کے مختلف اضلاع میں طلبہ و طالبات میں تعلیمی مسابقت کی نشوونما کے لیے اپنے سالانہ  دس مقابلوں  اور جلسۂ تقسیم انعامات کا انعقادکامیابی کے ساتھ کرتا آرہا ہے۔
        امسال کے تین روزہ سلسلہ وار مقابلوں کی پہلی کڑی تھانہ اور پالگھر اضلاع کے مقابلے تھے جو  رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج بھیونڈی کے ہال میں 15 دسمبر  2015 کے روز منعقد ہوئے۔اس پروگرام کی سرپرستی محترم ثناء اللہ عبدالرحمٰن ( مروڈ  جنجیرہ)نے کی۔ اس پروگرام کی جزوی کفالت  محترم لائن سمیر شاہنواز فقہی نے کی۔
         K.T.F  کے اس پروگرام میں  اردو،  مراٹھی اور انگریزی مضمون نویسی، انگلش گرامر ٹسٹ، انگلش ورڈ فورمیشن، ذہنی آزمائش تحریری امتحان برائے پرائمری اور سیکنڈری، جنرل نالج کوئیز مقابلہ، تقاریر مقابلہ اور جونئیر کالج کے لیے DEBATE مباحثہ  بعنوان  ”ریزرویشن ختم کرنا چاہیے یا نہیں؟“ جیسے کل 10 مقابلے منعقد کیے گیے ساتھ ہی ساتھ اول دوم سوم مقام پانے والے طلبہ و طالبات کو دلکش اور جاذب نظر ٹرافی اور نقد انعامات سے نوازا گیا۔ تمام مقابلوں میں نمایاں کارکردگی پیش کرنے والی  K.M.E.S  ہائی اسکول پڑگہ کو کیپٹن فقیر محمد مستری گشتی ٹرافی سے نوازہ گیا۔









        جلسہ تقسیم انعامات کی صدارت ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر محترم جان عالم رہبرنے فرمائی۔آئیڈیل فاونڈیشن کے جنرل سیکریٹری محترم داود چوگلے صاحب نے مہمانان کا تعارف اور شکریہ ادا کیا۔ محترم دلاور چوگلے نے KTF  ٹیم کا تعارف کرایا الطاف ناٹوسکر اور محمد عارف مہمطولے نے نظامت سنبھالی۔ مہمانان میں رئیس ہائی اسکول کے پرنسپل محترم  ضیاء الرحمٰن انصاری،اسی اسکول کے چیئرمین محترم شفیع مقری صاحب، لا ئن سمیر فقہی، پروفیسر محترمہ وحیدہ اورپرنسپل حسنہ انصاری،نے طلباء کی کاوشوں کو سراہا۔K.T.F  صدر (تھانہ و پالگھر) ڈاکٹر سراج الدین چوگلے صاحب نے کارکردگی اور اعداد و شمار پیش کیے۔مہاراشٹرا کالج کے (H.O.D URDU)محترم ماجد قاضی صاحب  نے  نہایت عمدہ انداز میں تقسیم انعامات کے اعلان کی ذمہ داری نبھائی۔پروفیسر اعجاز راؤت صاحب نے جونئیر کالج کے مباحثہ ناظرین کے سامنے پیش کیا۔محترم امان اللہ چھاپیکر،جناب عبدالحمید عرف باوا چوگلے محترم حنیف سرکھوت،جناب مصدر ملّا جی،عارف چوگلے،عادل چوگلے اور نیہا دلاور چوگلے وغیرہ نے انتھک محنت کر کے پروگرام کو کامیابی کی چوٹی تک پہنچایا۔ محترم جاوید مقصود،  جناب ضیاء الدین قمرالدین، عارف مہمطولے اور محترمہ نشاط مانڈلیکر صاحبہ نے جج کے فرائض انجام دیے۔اس مقابلے میں تھانہ و پالگھر کی 20 اسکولوں اور 5 جونیئر کالجوں نے حصہ  لیا۔KTF  کی پوری ٹیم کی کاوشوں اور بے لوث محنت اور اللہ کے فضل کی بناء پر یہ پروگرام کامیاب  ہوا۔

Sunday, December 06, 2015

ماریشس میں منعقدہ عالمی کانفنرس کی رپورٹ ،


ایک غزل



میں اپنی بات پہ گل اپنی جان دیتاہوں 
میں جب کبھی بھی کسی کو زبان دیتا ہوں 

جو ظلم وجبر میں جینے کا حوصلہ رکھیں 
دل غریب میں اُن کو امان دیتا ہوں
اگر جوچاہو کہ تسخیر کر سکو مجھ کو 
فضائے دل! میں برائے اُڑان دیتا ہوں 

مرے وجود کو پیروں تلے کچلتا ہے 
وہ جس کو رہنے کو اپنا مکان دیتا ہوں 

کرے جوبات کوئی گل مرے تقدس کی 
شعورِ ذات میں اُس پر دھیان دیتا ہوں 

        بخشالوی                                             



Wednesday, November 11, 2015

مولانا ابو الکلام آزاد۔ ایک آئینہ کئی عکس ہاجرہ بانو بزرگی عقل است نہ بہ سال تونگری بہ دل است نہ بہ مال مولانا آزاد جیسی شخصیت پر یہ شعر بالکل فٹ بیٹھتا ہے بچپن سے ہی آزاد میں عمر سے کہیں زیادہ اونچے خیالات پائے جاتے تھے جو دوسرے بچوں میں عام طور پر نظر نہیں آتے ہیں۔ آزاد کا بچپن بھی دوسرے بچوں سے بہت مختلف تھا۔ ان کے کھیل دوسرے بچوں سے الگ تھے مثلاً کبھی وہ گھر کے تمام صندوقوں کو ایک لائن میں رکھ کر کہتے تھے کہ یہ ریل گاڑی ہے کبھی والد صاحب کی پگڑی سر پر باندھ کر اپنی بہنوں سے کہتے کہ تم لوگ صندوق پر چلاچلا کر کہو کہ ہٹو ہٹو راستہ دو دہلی کے مولانا آرہے ہیں ان کے بھائی بہن کہتے کہ دہلی کے یہاں تو کوئی آدمی موجود نہیں ہے، ہم کس سے کہیں کہ راستہ دو۔ اس بات پر وہ کہتے کہ یہ تو کھیل ہے۔ تم سمجھو کہ بہت سارے لو گ مجھے لینے ریلوے اسٹیشن پر آئے ہیں۔ پھر آزاد صندوقوں پر سے بہت آہستہ آہستہ قدم اٹھاکر چلتے تھے جیسے کہ بڑی عمر کے لوگ چلتے ہیں پھر کبھی گھر میں کسی اونچی جگہ یا چیز پر کھڑے ہوجاتے اور سب بھائی بہنوں کو اطراف میں جمع کرکے کہتے کہ تالیاں بجاؤ اور سمجھو کہ ہزاروں لوگ میرے چاروں طرف کھڑے ہیں اور میں تقریر کررہا ہوں۔ اس طرح سے ہمیں ان کے بچپن کے کھیلوں کو جاننے کے بعد صاف طور پر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مولانا آزاد نے اپنے بچپن میں ہی یہ بات ٹھان لی تھی کہ وہ مستقبل میں کیا کرنے والے ہیں اور یہ حیرت انگیز صلاحیت والا بچہ آگے چل کر ایک عظیم انسان بنے گا۔ دیکھ لیتی ہے جہاں عزم و یقین کے پیکر رخ بدلتی ہے وہاں گردش دوراں اپنا جب آزاد سولہ سال کے تھے تو ایک چور نے ان کے گھر میں چوری کی اور اسی کمرے میں جہاں آزاد مطالعہ کررہے تھے لیکن وہ اپنے مطالعے میں اتنے غرق تھے کہ انہیں کانوں کان خبر نہ ہوئی دوسری صبح پتہ چلا کہ چوری ہوگئی ہے۔ سب نے چور کو کافی برا بھلا کہا لیکن آزاد نے کہا اس چور کو برا مت کہو پتہ نہیں وہ کس مصیبت میں گرفتار تھا اور اسے کیسی سخت ضرورت تھی جس کی و جہ سے اسے چوری کرنی پڑی۔ اس طرح کے خیالات رکھنے والا یہ لڑکا بڑی تیزی سے اپنی ذہن کی وسعتوں کو دنیا کے سامنے پیش کررہا تھا۔ مولانا آزاد کی والدہ ماجدہ کا نام عالیہ تھا جو شیخ محمد ظاہر وتری کی بھانجی تھیں۔ والد مولانا خیر الدین تھے ماں اور باپ دونوں علم و ادب سے بہت رغبت رکھتے تھے اور عالم و فاضل کہلائے جاتے تھے ماں کا اچھا اثر بچوں کی صحیح تربیت کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے اور عالیہ بیگم مذہب علم و ادب میں اپنے شوہر سے کسی طرح کم نہ تھیں مولانا آزاد کو ماں کی گود ہی میں وہ مدرسہ ملا جہاں عربی فارسی ، اردو اور ترکی زبانیں سکھائی جاتی تھیں اور مذہب سے گہرا مطالعہ کرایا جاتا تھا۔ مولانا آزاد کو ملاکر ان کے کل پانچ بھائی بہن تھے دو لڑکے اور تین لڑکیاں۔ لڑکے ابو النصر غلام یاسین اور ابوالکلام غلام محی الدین احمدتھے۔ لڑکیاں زینب، فاطمہ، اور حنیفہ تھیں۔ یہ سب علمی اور ادبی ماحول میں پلے بڑھے تھے تو ظاہر ہے کہ علم کے جراثیم انہیں کیوں نہ متاثر کرتے یہ سب ادیب اور شاعر تھے آزاد کو بھی بڑے بھائی کی صحبت میں شعر کہنے کی ترغیب ہوئی اور انہوں نے اپنا تخلص آزاد منتخب کیا اور شاعری شروع کی۔ ان کے کلام چھپنے لگے اور اس طرح سے شعر کہنے کا شوق اتنا ہوگیا کہ ۱۹۰۰ء میں ’’نیرنگ عالم‘‘ کے نام سے ایک مجموعہ شائع کیا اس وقت ان کی عمر صرف بارہ سال کی تھی۔ کم سنی میں ہی مولانا آزاد مذہبی بے اطمینانی کے شکنجے میں آگئے۔ ذہین آدمی اکثر غیر مطمئن رہتا ہے کیونکہ جب تک وہ باریکی سے ہر بات اور ہر مسئلے کی جانچ نہیں کرلیتا یا اسے ٹھوس دلائل نہیں میسر آجاتے جب تک وہ کسی بھی بات کو بے چون و چرا مان نہیں سکتا۔ آزاد کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا انہوں نے قرآن کا مطالعہ بہت ہی باریکی کے ساتھ کیا خود ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ۲۳ سال تک قرآن کو اپنا موضوع فکر بنایا۔ ہر پارے، ہر سورہ اور ہر آیت اور ہر لفظ کو گہری فکر و نظر سے دیکھا اور تقریباً فلسفہ قرآن کے سلسلے میں ہر مسئلے کی تحقیق کی۔ وحدت مذاہب کے ایک باب میں آزاد لکھتے ہیں ’’خدا پر اعتقاد ہر مذہب کا بنیادی تصور ہے۔ ہر مذہب کی یہی تعلیم ہے اور آدمی کی فطرت میں یہ بات موجود ہے اس لیے مذاہب میں فرق صرف تین باتوں سے پیدا ہوتا ہے۔ خدا کی صفات میں اختلافات پر جھگڑے، طریقہ ہائے پرستش اور مذہبی قانون میں اختلاف۔ یہ اختلافات وقت ماحول اور حالات اور انسان کے ذہنی ارتقا کی وجہ سے پیداہوئے ۔ اللہ تعالیٰ کے وجود کے اختلاف کے باوجود کسی کو شک و شبہ نہیں انسان کو جو ایک منظم نیکی کے قانون کے مطابق رہنا چاہتے ہیں ہدایت پیغمبران خدا کے ذریعے ملتی ہے۔‘‘ مولاناآزاد نے جب صحافت کے میدان میں اپنا قدم جمایا تو جیسے صحافت کے وسیع و عریض سمندر میں ایک طوفان آگیا۔ ۱۹۰۱ء میں نیرنگ عالم کے بعد آزاد کی ادارت میں ’’الصباح‘‘ شروع کیا گیا اس کا اداریہ ’’عید‘‘ تھا اس ادارئیے نے ایک دھوم مچادی۔ اس وقت کے جاری بہت سے اخباروں نے اس کی نقل کی اس کے بعد ۱۹۰۲ء میں ’’لسان الصادق‘‘ جاری ہوا اس میں چھپنے والے تبصرے لاجواب ہوا کرتے تھے لوگوں کو بڑی مشکل سے یقین آیا کرتا تھا کہ ان پختہ تحریروں کے بیچھے کم سن نوجوان مصنف کادماغ ہے۔ آزاد کی تحریروں کا مقصد علم و ادب کی خدمت کرنا تو تھا ہی لیکن وہ مسلم معاشرہ کی اصلاح کرنا بھی چاہتے تھے وہ اپنی قوم کو ایک ایسی دنیا میں لے جانا چاہتے تھے جہاں توہم پرستی اور اندھے عقائد نہ ہوں۔ صرف علم کا ہی بولا بالا ہو۔ صحافت کے میدان سے ہی انہوں نے تحریک آزادی ہند میں آگے قدم بڑھانا شروع کیا۔ قوم سے دلچسپی کے ساتھ ساتھ اب ان میں وطن سے الفت کا ایک لطیف جذبہ پیدا ہوگیا تھاجس کو انہوں نے آخر وقت تک قائم رکھا اور جس کے لیے انہیں کئی مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا شاید انہوں نے ٹھان لیا تھا کہ: حالات کے طوفاں میں سنبھلنے کی ادا سیکھ پروا نہ کر اگر تو ہے جلنے کی ادا سیکھ بحیثیت وزیر تعلیم آزاد نے ہن

Saturday, October 17, 2015

*آج 17 اکتوبر یوم ولادت سر سید احمد خان*

سرسید احمد خان 17 اکتوبر 1817ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ آباؤ اجداد شاہ جہاں کے عہد میں ہرات سے ہندوستان آئے۔ دستور زمانہ کے مطابق عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے نانا خواجہ فرید الدین احمد خان سے حاصل كی. ابتدائی تعلیم میں آپ نے قرآن پاك كا مطالعہ كیا اور عربی اور فارسی ادب كا مطالعہ بھی كیا۔ اس كے علاوہ آپ نے حساب، طب اور تاریخ میں بھی مہارت حاصل كی.جریدے Sayyad القرآن اکبر کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں ان کے بڑے بھائی نے شہر کے سب سے پہلے پرنٹنگ پریس کی بنیاد رکھی. [ورژن کی ضرورت] سر سید نے کئی سال کے لئے ادویات کا مطالعہ کی پیروی کی لیکن اس نے کورس مکمل نہیں ہے.

ابتدائی تعلیم حاصل كرنے كے بعد آپ نے اپنے خالو مولوی خلیل اللہ سے عدالتی كام سیكھا۔ 1837ء میں آگرہ میں كمیشنر كے دفتر میں بطور نائب منشی فرائض سنبھالے۔ 1841ئ اور 1842ئ میں مین پوری اور 1842ء اور1846ء تك فتح پور سیكری میں سركاری خدمات سر انجام دیں۔ محنت اور ایمانداری سے ترقی كرتے ہوئے 1846ء میں دہلی میں صدر امین مقرر ہوئے۔ دہلی میں قیام كے دوران آپ نے اپنی مشہور كتاب " آثار الصنادید" 1847ء میں لكھی۔ 1857ئ میں آپ كا تبادلہ ضلع بجنور ہو گیا۔ ضلع بجنور میں قیام كے دوران آپ نے اپنی " كتاب سركشی ضلع بجنور" لكھی۔ جنگ آزادی كے دوران آپ بجنور میں قیام پذیر تھے۔ اس كٹھن وقت میں آپ نے بہت سے انگریز مردوں، عورتوں اوربچوں كی جانیں بچائیں۔آپ نے یہ كام انسانی ہمدردی كیلئے ادا كیا۔ جنگ آزادی كے بعد آپ كو آپ كی خدمات كے عوض انعام دینے كیلئے ایك جاگیر كی پیشكش ہوئی جسے آپ نے قبول كرنے سے انكار كر دیا۔

1857ء میں آپ كو ترقی دے كر صدر الصدور بنا دیا گیا اور آپ كی تعیناتی مراد آباد كر دی گئی۔ 1862ء میں آپ كا تبادلہ غازی پور ہو گیا اور 1867ء میں آپ بنارس میں تعینات ہوئے۔

1877ء میں آپ كو امپریل كونسل كاركن نامزد كیا گیا۔ 1888ء میں آپ كو سر كا خطاب دیا گیا اور 1889ء میں انگلستان كی یونیورسٹی اڈنبرا نے آپ كو ایل ایل ڈی كی اعزازی ڈگری دی۔ 1864ء میں غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی قائم کی۔ علی گڑھ گئے تو علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ نکالا۔ انگلستان سے واپسی پر 1870ء میں رسالہ تہذیب الاخلاق جاری کیا۔ اس میں مضامین سرسید نے مسلمانان ہند کے خیالات میں انقلاب عظیم پیدا کر دیا۔ اورادب میں علی گڑھ تحریک کی بنیاد پڑی۔ سرسید کا کارنامہ علی گڑھ کالج ہے۔ 1887ء میں ستر سال کی عمر میں پینش لے لی اوراپنے کالج کی ترقی اور ملکی مفاد کے لیے وقف کریا۔

۔ 1859 ء میں وہ اپنے بیٹے سید محمود کے ساتھ انگلستان گیے تو وہاں انھیں دو مشہور رسالوں Tatler اور Spectator کے مطالعے کا موقع ملا۔ یہ دونوں رسالے اخلاق اور مزاح کے خوبصورت امتزاج سے اصلاح معاشرہ کے علم بردار تھے۔ آپ نے مسلمانوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔ (علیگڑھ تحریک)۔۔۔۔ ظرافت اور خوش طبعی فطری طور پر شخصیت کا حصہ تھی۔

آپ نے 81 سال کی عمر میں 27 مارچ 1898ء میں وفات پائی اور اپنے محبوب کالج کی مسجد میں دفن ہوئے۔ سرسید کی تمام زندگی قوم و ادب کی خدمت میں گزری۔
آخر میں سر سید خاں کی اس کسک پر بات کو ختم کرتا ہوں "جب کبھی عالموں اور مہذب آدمیوں کو دیکھا، جہاں کہیں عمدہ مکانات دیکھے، جب کبھی عمدہ پھول دیکھے ۔۔۔ مجھ کو ہمیشہ اپنا ملک اور اپنی قوم یاد آئی اور نہایت رنج ہوا کہ ہائے ہماری قوم ایسی کیوں نہیں"
سرسید احمد خان
پیشکش-طارق اسلم

Monday, October 12, 2015

...
تقریب رسم اجراء ماہ نامہ  بانگ درا
بروز جمعہ  مورخہ 2 اکتوبر گاندھی جینتی کے  موقع پر ماہ نامہ  بانگ درا  کی تقریب رسم اجراء  کا جشن  برلاماتوشری ہال ممبئی میں بڑے تزک و احتشام سے منایا گیا ۔اور اس موقع پر کل ہند مشاعرہ کا انعقاد بھی کیا گیا۔اس رسالہ کے مدیر ایڈوکیٹ سیّد جلال الدین  ہے۔رسم اجراء بدست پدم شری ڈاکٹر محمودالرحمن( آئی اے ایس رٹائرڈ)صدارت پروفیسر ڈی ترپاٹھی صاحب اور مہمان خصوصی  جناب سنیل تٹکرے  اور اشوک چوہان  صدر ایم پی  تھے ۔اس موقع پر  خطیب الہند حضرت مولانا عبیداللہ خان اعظمی ،مولانا مستقیم احسن اعظمی اور مولاناسیّد    عباس رضوی صاحب  ( اسلامیک   سکالر) نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔  مہمان اعزازی  شری کرپا شنکر ۔صابرہ  سکوانی  ڈاکٹر اندرے تھے ۔تمام مہمانان کی گل پوشی کی گئی ۔
کل ہند مشاعرہ کی صدارت  جناب پنڈت موہن زی تشی گلزار دہلوی نے کی اور نطامت کے فرائض   انور  جلال پوری  نے ادا کۓ  منور رانا ،  نصرت مہدی ،  جناب  حق کانپوری ، نعیم اختر ، جناب ملک زادہ جاوید  ڈاکٹر نسیم نکہت ، اور جناب حبیب ہاشمی و عبدالحمید سا حل نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ۔ پورا ہال بھرا ہوا تھا ۔تمام نے مدیر  ایڈوکیٹ سیّد جلال الدین اور ان کی ٹیم کو مبارک  باد پیش کیں۔




Sunday, October 11, 2015

Friday, October 09, 2015

ایک غزل

غزل
عبيد اعظم اعظمى
جو تہہ میں اس کی اتر سکو تو یہ راز بھی آشکار ہوگا
بجز نفاست دماغ و دل میں جو ہوگا گرد و غبار ہوگا
رہِ وفا سے رہِ طلب سے ہر اک سلیقہ ہر ایک ڈھب سے
جو بے تعلق رہے گا سب سے وہ آپ اپنا شکار ہوگا
زہے مقدر بہ فیضِِ قسمت سہارا اب تک ہے تیری رحمت 
یہی اثاثہ ہے کل کی دولت اسی پہ دار و مدار ہوگا
گھرا ہوا ہوں میں کشمکش میں رکوں کہ جاؤں مری طلب میں
تڑپتی صحرا کی دھوپ ہوگی سفر میں دورِ بہار ہوگا
کئی ہیں ساحل کئی سہارے نہیں ہے کچھ بھی یہ تیز دھارے
سفینے اوروں کے لا کنارے ترا سفینہ بھی پار ہوگا
ہے ہر ستم کی سزا مقرر مثال اس کی ملے گی گھر گھر 
کرو گے حملہ اگر کسی پر کہیں سے تم پر بھی وار ہوگا
کرو بھلائی کے کام ہر دم گذشتنی ہے بہارِ عالم 
نہ تم رہوگے عبید اعظم نہ تو نشانِ مزار ہوگا
( عبید اعظم اعظمی)

Wednesday, September 30, 2015



Thursday, September 24, 2015

Eid Mubarak


Sunday, September 13, 2015

کیا ہم اپنی خطرناک سے خطرناک بیماری پرنیوٹریشن اور ڈائٹ کے ذریعہ قابو نہیں پا سکتے؟

  
عطا ء اللہ خاں ۔9920342743
ہم اپنی روز مرہ کے اس بھاگ دوڈ والی زندگی میں اتنے مشغول ہو گئے ہیں کی ہمیں اپنی صحت کے بارے میں سوچنے کا وقت ہمارے پاس نہیں ہے ہم اپنی ضروریات کی ہر چیز خریدنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لئے وقت بھی نکال لیتے ہیں لیکن ہمارے پاس اس صیحت کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں ہے کہ اگر یہ صیحت نہ ہو توہمای یہ بھاگ دوڈ یہ آرائیش کہاں سے مہیا ہونگے جب آپ کی صیحت ہی مکمل نہیں ہوگی اگر ہمیں کوئی تکلیف ہوتی ہے تو جلدی سے ہم انگریزی دواؤں کا استعمال بغیر سوچے سمجھے شروع کر دیتے ہیں اگر ہم میں سے کسی کو ،زیابطیس،فشارخون،مائگرین،تھائرائڈ، وغیرہ ہو جائے تو ہم بلا ناغہ دواؤں کا استعمال کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہئے لیکن کیا ان دواؤں کا استعمال ہی کافی ہو جاتا ہے اگر ہاں تو ہمیں اکثرو بیشتر یہ الفاظ سننے کو کیوں ملتے ہیں کی فلاں شخص کو یا فلاں عورت کو فلاں بیماری تھی لیکن کھانے پینے پر توجہ نہیں دیتے تھے نتیجہ یہ نکلا کے بیماری بڑھ گئی اور موت واقع ہوگئی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ شخص دوا کا تو وقت پر استعمال کرتا تھا لیکن پر ہیز کے معاملے میں لا پرواہی اس کی موت کا باعث بنی اس بات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کی اگر آپ نے اپنی بیماری کا واحد حل دوا سمجھا تو یہ آپ کی نادانی یا غلط فہمی سمجھ لیجئے دوسری بات یہ کے آج کل کی نئی بیماری جیسے ذیابطیس،فشارخون ،امراض قلب وغیرہ میں دواؤں کے ساتھ ساتھ نیوٹریشن ،اور ڈایئٹ بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ دوامثال کے طور پر اگر ہم اپنی نیوٹریشن کا استعمال اپنے کھانے میں نہیں کرینگے تو ہو سکتا ہے کے ہمیں اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑ جائے جیسے اگر کوئی شخص ذیابطیس،یا امراض قلب کی بیماری سے جوجھ رہاہے تو اس کے لئے سب سے بہتر یہ ہوگا کے وہ اپنے کھانے میں کم پروٹین والی چیزوں کا استعمال بٹرھا دیں ہری سبزیوں اور پھلوں کا استعمال جتنا ہو سکے کریں خاص کر انگور ،سنترے،موسمبی وغیرہ جہاں تک ہو سکے کاربو ہائڈریڈ والی اشیاء ،جیسے شکر یا شکر سے بنی اشیاء کم مقدار میں لیں رات کا کھانا کھانے کے بعد دھیرے دھیرے چہل قدمی کریں اس سے یہ فائدہ ہوگا کی اگر خون میں کاربو ہائڈریڈ کی مقدار زیادہ ہوگی تو وہ چہل قدمی کی وجہ سے کم ہوجایئگی اور آنے والے خطرے سے نمٹنے میں مدد ملے گی اسی طرح اگر فشارخون یا ہائی بلڈ پریشر ہو تو ڈائٹ کے ساتھ ساتھ چہل قدمی کرنا نہ بھولیں آپ اپنے بلڈ پریشر کی گولی کھائے اور اگر کہیں صفر میں یا دوا دستیاب نہ ہو تو ایسی صورت میں گھبرانے کے ضرورت نہیں ہے آپ کو دو باتوں کا دھیان رکھنا ہوگا ایک تو ڈائٹ کا دوسرا چہل قدمی کا آپ اس کے ذریعہ اپنے بلڈ پریشر پر قابو پا سکتے ہیں اگر آپ کھانے میں گوشت وغیرہ لے رہے ہو تو جہا نتک ہو سکے گوشت کا استعمال کم مقدار میں کریں اور اگر آپ امراض قلب،یا بلڈ پریشر جیسی بیماری میں مبتلا ہیں تو گوشت استعمال کرتے وقت اس بات کا خاص دھیان رکھنا چایئے کے خالص گوشت نہ ہو بلکہ سبزی کے ساتھ ملا کر بنایا جائے اس سے گوشت میں پروٹین کی مقدار کم ہو جائیگی اور ہونے والے خطرے سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے عام طور پر ہم اگر کسی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کے ہماری یہ غذا چھوٹ جائیگی لیکن ایسا نہیں ہے آپ کو اپنی غذا کو اپنی بیماری کے حساب سے لینا پڑیگا اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہم اپنی صحت کو نقصان کے دلدل میں خود لے جاتے ہیں اگر ہمیں بیماری کے اس دلدل سے محفوظ رہنا ہے تو چاہے آپ جس بیماری میں مبتلا ہوں یہ بات طے ہے کے اگر آپ اپنی نیوٹریشن اور ڈایئٹ کا خیال رکھیں گے تو آپ خود اپنے آپ کو بیماری سے محفوظ محسوس کریں گے کیونکہ اب ثابت ہو گیا ہے کہ دواؤں کے ساتھ ساتھ ڈایئٹ اور نیوٹریشن بھی اتنی ہے ضروری ہے جتنی کے دوااور اگر آیندہ آنے والے دنوں میں ہمیں اگر دواؤں کے نقصانات سے بچنا ہے تو ہمیں نیوٹریشن اور ڈایئٹ کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں شامل کرنا ہوگا ورنہ ہماری زندگی میں اور مزید بیماریئاں جنم لے سکتی ہیں۔


Tuesday, September 08, 2015

ایوانِ اقبال کے زیرِ اہتمام مشاعرہ


ازقلم: حسیب اعجاز عاشرؔ
شارجہ، متحدہ عرب امارات
          ایوانِ اقبال کے زیرِاہتمام پاکستان سوشل سنٹر شارجہ میں ’’ جشنِ آزادی مشاعرہ۵۱۰۲‘‘ کا انعقادکیا گیا،پاکستان سے آئے معروف شاعرسید سلمان گیلانی نے مہمان خصوصی جبکہ حسن عباسی اور رخشندہ نوید نے مہمانان اعزازی کی حیثیت سے شرکت کر کے محفل کو چار چاند لگا دیئے ۔تقریب کے منتظم اعلی اور چیئرمین ایوان اقبال جناب پرنس اقبال نے تمام مہمانان کو سٹیج پر خوش آمدید کہا ۔سٹیج پر پاکستان سوشل سنٹر شارجہ کے صدر خالد حسین چوہدری اور متحرک سماجی و سیاسی شخصیت اور ایوان اقبال کے سینئر وائس پریذیڈنٹ عبدالوحیدپال ،وائس پریذیڈنٹ ایوان اقبال رانا محمد اقبال، جنرل سیکریٹری ایوان اقبال عرفان اقبال طوربھی رونق بڑھا رہے تھے جبکہ مسند صدارت 
پر پرنس اقبال گورایا جلوہ افروز تھی۔

Sunday, September 06, 2015

Happy Teacher's Day


Thursday, August 27, 2015

شاعر احمد فراز


         آج اردو کے نامور شاعر احمد فراز کی ساتویں برسی ہے ۔احمد فراز کا اصل نام سید احمد شاہ تھا ۔ وہ 12 جنوری 1931ءکو نوشہرہ میں پیدا ہوئے ان کے والد سید محمد شاہ برق کوہائی فارسی کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے تھے۔ احمد فراز نے اردو، فارسی اور انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور ریڈیو پاکستان سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ بعدازاں وہ پشاور یونیورسٹی سے بطور لیکچرار منسلک ہوگئے۔ وہ پاکستان نیشنل سینٹر پشاور کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر، اکادمی ادبیات پاکستان کے اولین ڈائریکٹر جنرل اور پاکستان نیشنل بک فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔احمد فراز عہد حاضر کے مقبول ترین شاعروں میں شمار ہوتے تھے۔ انہیں بالعموم رومان کا شاعر کہا جاتا ہے مگر وہ معاشرے کی ناانصافیوں کے خلاف ہر دور میں احتجاج کا پرچم بلند کرتے رہے جس کی پاداش میں انہیں مختلف پابندیاں بھی جھیلنی پڑیں اور جلاوطنی بھی اختیار کرنی پڑی۔احمد فراز کے مجموعہ ہائے کلام میں تنہا تنہا، درد آشوب، نایافت، شب خون، مرے خواب ریزہ ریزہ، جاناں جاناں، بے آواز گلی کوچوں میں، نابینا شہر میں آئینہ، سب آوازیں میری ہیں، پس انداز موسم، بودلک، غزل بہانہ کروں اور اے عشق جنوں پیشہ کے نام شامل ہیں۔ ان کے کلام کی کلیات بھی شہر سخن آراستہ ہے کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔احمد فراز کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں آدم جی ادبی انعام، کمال فن ایوارڈ، سرارہ امتیاز اور ہلال امتیاز کے نام سرفہرست ہیں۔انہیں جامعہ کراچی نے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بھی عطا کی تھیاحمد فراز 25 اگست 2008ء کو اسلام آباد میں وفات پاگئے



Tuesday, August 25, 2015

گلشن زبیدہ میں جشن آزادی
          آج بروز سنیچر ۵۱ اگست ۵۱۰۲؁ء کو گلشن زبیدہ شکاری پور شیموگہ ضلع کرناٹک میں عالیشان جشن آزادی کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں گلشن زبیدہ کیمپس کے نرسری سے لے کر ڈگری کالج اور ڈی ایڈ کالج کے طلباو اساتذہ اور ان کے سرپرستوں نے نہایت جوش و خروش سے حصّہ لیا ، اس جلسے کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر حافظ کرناٹکی چیرمین کرناٹکا اردو چلڈرنس اکادمی نے ادا کےی۔ جب کہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے جناب نعیم اللہ خان صاحب سیل ٹیکس کمیشنر بنگلور نے شرکت کی۔ پرچم کشائی کی رسم محترمہ سورتی ڈی ایس پی نے ادا کی۔ اس موقع سے اسکول و کالج کے طلباو طالبات نے حب الوطنی کے جذبے سے لبریز مختلف قسم کے پروگرام پیش کےی۔ اور باالخصوص حب الوطنی کی حامل حافظ کرناٹکی کی نظمیں ذوق و شوق سے سنائیں اور بچوں کے کئی گروپ نے ان کی نظموں پر ڈرامائی ایکٹ بھی پیش کیا۔ اس موقع سے خطاب کرتے ہوئے صدر جلسہ ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے کہا کہ؛
          اگر ہندوستان کی جنگ آزادی کا سب سے پہلا مجاہد ایک مسلمان تھا جسے ہم سراج الدّولہ کے نام سے جانتے ہیں تو یاد رکھیے کہ ہندوستان کی عظمت پر قربان ہوجانے والا آخری آدمی بھی کوئی مسلمان ہی ہوگا۔ اس لیے جو لوگ مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک کرتے ہیں انہیں سچائی، اور تاریخ کے آئینے میں اپنے آپ کو ضرور دیکھنا چاہےی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آخری تاجدار جس نے حب الوطنی کی سزا کے طور پر رنگون کے قید خانے کی سختی جھیلی اس کا یہ شعر؛
                             کتناہے بد نصیب ظفر دفن کے لےی                 دوگز زمین نہ ملی کوئے یار میں
          مسلمانوں کی حب الوطنی کے جذبے کا شفاف آئینہ ہی۔ حافظ کرناٹکی نے بچوں کو مسلمانوں کی وطن دوستی کی جاں گداز تاریخ سے واقف کراتے ہوئے اپنی نظم کا ایک شعر اپنے جذبات کی عکاسی کے طورپر سنایا اور کہا کہ؛
وطن کے واسطے مٹ جائیں یہ ارمان رکھتے ہیں
بجائے دل کے ہم سینے میں ہندوستان رکھتے ہیں

          انہوں نے بچوں کو بہترین تعلیم کے حصول کی دعوت دی۔ اور آخر میں تمام اہل وطن کی خدمت میں یوم آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ؛
          ہندوستان جنت نشان کی آزادی اور اس کے سیکولر کردار کی تعمیر، اور اس کے جمہوری مزاج کی تربیت اور اس کے ثروت مند تہذیبی روایت کے فروغ میں جن لوگوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں، اور اس کی رگوں میں اپنی محبت، اور حب الوطنی کے سچے جذبے کا گرم اور تازہ لہو دوڑایا ہے اس میں ہندوستان میں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ یہی چیز اس ملک کو ایک پربہار گلستاں بناتی ہی۔ آج اس چمن دل نشین یعنی ہندوستان کی آزادی کا دن ہی۔ اس ہندوستان کی آزادی کا جس کی رگوں میں ہمارے اسلاف اور رہنماؤں کے سنہرے خوابوں کا نور بھرا ہی۔ آئیے آج ہم عہد کریں کہ ہم اپنے اسلاف کے خوابوں کے نور سے روشن ہندوستان کے حسن کو کبھی ماند نہیں پڑنے دیں گی۔ اور اس کی آزادی کو اپنی جان سے عزیز ترجان کر ہر حال میں اس کی حفاظت کریں گی۔ میں تمام اہل وطن کو یوم آزادی کی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
آزادی کی یہ صبح خوشی لائی ہی
سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ ہنسی آئی ہی
ڈی ایس پی محترمہ سورتی نے اس موقع سے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ؛
j        میں نے آپ پوگوں کے اندر حب الوطنی کے جس جذبے کا دیدار کیا ہے اور جس طرح کا جوش و جذبہ دیکھا ہے وہ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہی۔ میں متحیر ہوں کہ اس طرح کے جذبوں اور حب الوطنی کی قدروں سے لبریز مسلمانوں کے اداروں کوکوئی محب وطن کیوں کر مشکوک نظروں سے دیکھ سکتا ہی؟ اور اگر کوئی دیکھتا ہے تو خود اس کی حب الوطنی مشکوک ہے ۔ میں آپ کی مشکور ہوں کہ آپ نے ہمیں اپنے درمیان آنے اور کچھ کہنے کا موقع دیا۔ اس موقع سے سرکل انسپیکٹر جناب منجوناتھ نے بھی مختصر خطاب کیا اور بچوں کے حب الوطنی کے پروگراموں کو دل سے سراہا اور انہیں علم حاصل کرکے وطن کو آگے بڑھانے کا پیغام دیا۔
          مہمان خصوصی جناب نعیم اللہ خان صاحب نے بچوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے لیے اجنبی ہوسکتاو ہوں مگر میں اسی شہر شکاری پور کا فرد ہوں۔ میں یہیں پیدا ہوا اس لیے مجھے اپنے ہی کنبے کا فرد سمجھیں۔ انہوں نے بچوں کو سیکولرزم اور جمہوریت کی اہمیت سے آگاہ کیا ۔ اور کہا کہ تعصب والی باتوں پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں ہی، یہ ہندوستان کے جمہوری اور سیکولرکردار کی ہی دین ہے کہ آج میں اس دیش کے ایک اہم شعبے یعنی سیل ٹیکس ڈیپارٹ منٹ میں خدمات انجام دے رہا ہوں۔ انہوں نے بچوں سے یہ بھی کہا کہ ہمیں اپنے قومی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ ان مسلم قومی رہنماؤں کی خدمات سے بھی آگا ہی حاصل کرنی چاہےی۔ اور ان کے نام اور کارناموں سے واقف ہونا چاہیے جنہوں نے وطن کے لیے جانیں قربان کردیں۔
          زبیدہ کیمپس کے چیرمین جناب محمد حنیف صاحب نے اس موقع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے آج جس خوش اسلوبی سے رنگا رنگ پروگرام پیش کیے ہیں ان کے دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے اندر وطن کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہی۔ اور آپ پڑھنے لکھنے کے ساتھ عملی کاموں کی طرف بھی خوب خوب توجہ دے رہے ہیں۔
          مقامی پریس کلب کے صدر ہوچرایپّا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زبیدہ ایجوکیشنل ٹرسٹ ہند، مسلم اتحاد اور دینی و عصری تعلیم کا ایک خوب صورت سنگم ہے ، دراصل اسی طرح کے ادارے ہندوستان کی رنگا رنگی کو درشاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اس بات کی بھی خوشی ہے کہ زبیدہ ایجوکیشنل ٹرسٹ جیسا ادارہ ہمارے شہر میں ہی۔ ہم اس کی ترقی کے دل سے خواہاں ہیں۔اس طرح یہ پروگرام لوگوں میں آزادی کی عظمت کا احساس دلانے میں پوری طرح کامیاب رہا۔ اور سامعین یہاں سے نیا جوش اور جذبا لیکر لوٹے

Saturday, August 15, 2015

جوش ملیح آبادی

انگریزوں کے خلاف جوش ملیح آبادی کے جذبات کا طوفان آتش فشاں کی طرح پھٹا پڑتا ہے۔ اس سے ، ان کے سینے کے اندر کے طوفان، جلن اور تپش کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
کیوں ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں
اکتائے ہیں شائد کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں
بھوکوں کی نظر میں بجلی ہے توپوں کے دہانے ٹھنڈْےہیں
تقدیر کے لب کو جنبش ہے، دم توڑ رہی ہیں تدبیریں
کیا ان کو خبر تھی سینوں سے جو خون چرایا کرتے تھے
اک روز اسی بے رنگی سے جھلکیں گی ہزاروں تصویریں
سنبھلوکہ و زنداں گونج اٹھا، جھپٹو کہ وہ قیدی چھوٹ گئے
اٹھو کہ وہ بیٹھیں دیواریں، دوڑو کہ وہ ٹوٹی زنجیریں

مبارک باد

کامیابی مبارک ھو.... سٹی کیمپس کے چئرمن الحاج ڈاکٹر منظور حسن ایوبی کے فرزند ایوبی معاذ احمد نے اسال یشونت راؤ چوھان مھاراشٹر اوپن یونیورسٹی سے بی اے فرسٹ ایئر میں پورے مالیگاؤں شھر میں اول مقام حاصل کیا... والدین و اساتذۀ کرام اور اپنے شھر کا نام روشن کیا.. اس شاندار کامیابی پر ھیلپ دی پیویل گروپ کی جانب سے دل کی گھیرايئوں سے مبارک باد ھو.. اللہ پاک زندگی کے ھر صوبے میں کامیابی دے.. آمین

Friday, August 14, 2015

Thursday, August 13, 2015

آہ کالسئکر صاحب



عبدالرزاق اسماعیل کالسیکر مرحوم ساٹھولی، نزد لانجہ تعلقہ راجہ پور، ضلع رتناگیری ،مہاراشٹر کے رہنے والے تھے۔
 ۸۴؍سال عمر پائی۔ ۱۰؍اگست ۲۰۱۵ء؁ بروز پیر اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔
آپ کے گھر والے کوچ کرکے ممبئی میں آباد ہوگئے تھے اور صابن ،صرف وغیرہ کا کاروبار کرتے تھے۔ ابتدائی حالات بہت اچھے نہیں تھے۔ چنانچہ آپ نے دبئی کا رخ کیا۔ وہاں لانڈری کا کاروبار شروع کیا۔ کئی سال محنت و مشقت کرتے رہے لیکن کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی۔ ہمت ہار کر واپس لوٹنے کا منصوبہ بنانے لگے۔ لیکن پھر خیال آیا کہ کچھ دوسرا کاروبار کرکے دیکھنا چاہئے ۔ چنانچہ سارا اثاثہ جمع کرکے اور کچھ قرض لے کر
 ۱۹۷۹ء؁ میں پرفیوم کا کاروبار شروع کیا۔ اللہ نے برکت دی اور اتنی برکت دی کہ ۲۰۱۳ء؁ میں فاربس میگزین کے سروے کے مطابق آپ کاشمار دبئی کے ۵۰؍امیر ترین تاجروں میں پینتیسویںنمبر پر ہوا۔ ''الرصاصی پرفیوم'' کے نام سے دنیا بھر میں ۱۱۵ اسٹور قائم ہیں اور تقریباً ۵۰؍سے زائد ملکوں کو سپلائی کیا جاتاہے۔ اس میں انڈیا، سعودی عرب، لیبیا، زامبیا، افغانستان، یمن وغیرہ بہت سے ممالک شامل ہیں۔
جب آپ نے عطر کا کاروبار شروع کیا تو پہلی ہی ڈیل متحدہ عرب امارات کے شاہی گھرانے سے ہوئی اور تقریباً
 ۵۰؍ہزار روپے کی عطر فروخت ہوئی ۔ آپ نے فوراً ہی اللہ کے اس احسان کا شکرانہ اس طرح ادا کیا کہ اس میں سے پانچ ہزار روپے صدقہ کردئیے۔ اس کے بعد اللہ کافضل ایسا رہا کہ نہ انہیں پیچھے مڑ کر دیکھنا پڑا اور نہ ہی انہوں نے خلق خدا کی خدمت میں کبھی کوئی کوتاہی کی صرف گزشتہ سال کی رپورٹ یہ ہے کہ انہو ںنے اپنی آمدنی سے رفاہی کاموں پر کروڑ وںروپئے خرچ کئے ۔ فجزاہٗ اﷲ احسن الجزاء
وہ تو ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ ''وہ انسان نہیں جو انسان کے کام نہ آئے '' اور وہ ہمیشہ قوم و ملت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ چند سال قبل جب گجرات میں زلزلہ آیا تھا تو وہاں بلا تفریق امدادی کاموں میں انہو ںنے حصہ لیااور ریکارڈ یہ بتایا ہے کہ رفاہی کاموں میں سب سے زیادہ جمعیۃ العلماء ہند کا حصہ تھا۔ دوسرے نمبر پر جماعت اسلامی ہند کا رول تھا اور تیسرے نمبر پر آپ تھے جنہوں نے تنہا ذاتی حیثیت سے اتنی امداد کی تھی کہ دوسرے ادارے ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔
ملک کے بہت سے اداروں کو مختلف شکلوں میں آپ کی امداد پہنچتی تھی۔ جامعۃ الفلاح بلریا گنج اعظم گڑھ یوپی کی مسجد کی توسیع آپ کی مرہون منت ہے ۔ جامعہ عربیہ حسینیہ شری وردھن رائے گڑھ ،مہاراشٹرکی نئی لائبریری کی تعمیر میں آپ کا ہاتھ ہے۔ دارالمصنفین اعظم گڑھ کی تجدید کاری میں بھی آپ کا بڑا تعاون تھا۔ حتی کہ بعض کتب کی اشاعت کا مکمل خرچ آپ نے عطا کیا تھا۔ مولانا سید سلمان حسنی ندوی مدظلہ العالی نے دعاۃ و مبلغین کی تیاری کے لئے لکھنؤ میں سنٹر قائم کیا تو اس کا ایک معتدبہ خرچ آپ ہی فراہم کرتے تھے۔ عصری اداروں کے فارغین اور مدارس کے فارغین کو مختلف جہتوں سے تیار کرکے امت میں قائدانہ و مبلغانہ رول ادا کرنے کے لائق بنانے کے لئے فاران فاؤنڈیشن کے نام سے علی گڑھ میں ایک ادارہ بھی قائم کرایا تھا۔ انجمن اسلام ممبئی کے طلبہ قدیم کو سڈکو کا پلاٹ خریدنے کے لئے کئی سال قبل تقریباً ۴۰؍لاکھ روپے دئیے تھے بعد میں وہاں پالی ٹیکنک کالج، فارمیسی کالج، اور انجینئر نگ کالج کھولنے کا سوال پیدا ہوا تو اس کے لئے بھی انجمن کو تقریباً ۴۵؍کروڑ روپے فراہم کئے ۔ اے ای کالسیکر یونانی طیبہ کالج وہاسپٹل ورسوا ممبئی ، اے ای کالسیکر یونانی طیبہ کالج و ہاسپٹل جلگاؤںاور اے ای کالسیکر ملٹی اسپشلیٹی ہاسپٹل و کالج ممبرا ،تھانہ ۔ کلی طور پر آپ کی دین ہے ۔ بالخصوص علاقہ کوکن میں پچاسوں اسکول و کالج آپ کے عطیہ سے تیار ہوئے ہیں اور قوم نے احسان شناسی کا ثبوت دیتے ہوئے عموماً ان اسکولوں اور کالجوں کو انہیں کے نام سے موسوم کردیاہے۔

Tuesday, July 28, 2015

میزئیل مین



آہ ہمارے درمیان  ابولفاقر زین العابدین عبدالکلام نہیں رہے ۔ میزائیل مین ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہیں گے

آسماں تیری لحد پہ شبنم  افشانی کرے 
سبزہ نور ستہ  اس گھر کی نگہبانی کرے

 
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP