You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Wednesday, November 30, 2011

عصرِ حاضر میں خواتین کا کردار


عصرِ حاضر میں خواتین کا کردار
منور سلطانہ
صدر ذی قدر
شریکانِ بزم
وجودز ن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
( علامہ اقبال)
عزیزانِ گرامی !
اس میں دو رائے نہیں کہ وجود کائنات سے لے کر اب تک ہزاروں ، لاکھوں برس کی بوڑھی دنیا کی قدیم ترین تاریخ میں عورت کو دوسرے درجہ کا انسان سمجھا جاتا رہا ہے ۔ کسی زمانہ میں اسے باعث نحوست گردانا گیا تو کبھی اسے زندہ درگور کیا جاتارہا ،کبھی شوہر کی چتا پر ستی بننے پر مجبور کیا گیا، جدید تیکنکی و سائنسی انقلاب نے عورت دشمنوں کا کام مذید آسان کیا اور اب اس صنف نازک کو رحم مادر میں ہی قتل کردیا جاتا ہے۔ ان تمام ظلم و ستم نا انصافیوں اور بد سلوکیوں کے باوجود عورت نے دنیائے انسانیت کے ہر دور میں اپنی اہمیت ، افادیت اور ضرورت کو باوقار انداز میں برقرار رکھا۔
جب تک تیری زلفوں میں پروے نہیں جاتے
پھولوں کو مہکنے کی اد ا بھی نہیں آتی
( قیصر الجعفری)
جہاں تک عصرِ حاضر کی بات ہے تو بتانے کی ضرورت نہیں کہ آج کی دوڑتی ، بھاگتی دنیا میں صنف نازک نے تعلیمی ، سماجی ، سائنسی ، صحافتی ، سیاسی ، ثقافتی ہر شعبۂ حیات میں اپنی پر وقار موجودگی درج کرا رکھی ہے۔ حضرت مریم سے حضرت ہاجرہ تک ، حضرت خدیجہ سے حضرت فاطمہ تک ، ملکہ زبیدہ سے ہندوستان کی بیگم حضرت محل تک ، رضیہ سلطانہ سے جھانسی کی رانی تک ، مدر ٹرسیا سے شریں عبادی تک کتنی پر عزم خواتین کا تذکرہ کروں کہ تاریخ کے صفحات ان خواتین کے کارناموں سے بھرے پڑے ہیں ۔ ابھی زیادہ دن نہیں گذرے ہماری ایک خاتون کلپنا چاولہ آسمان چھو آئی ۔ اور یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ آسمان سیاست پر سونیا گاندھی جیسی پر عزم خاتون کس طرح 120کروڑ آبادی والے ملک پر حکمرانی کررہی ہیں ۔ آج سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ہر دوسری اور تیسری ایجاد کسی نہ کسی خاتون سائنس داں کی مرھون منت ہے۔ آج کے کارپوریٹ سیکڑ میں بڑی بڑی کمپنیوں کی کمان ہماری خواتین ہی سنبھال رہی ہیں ۔ درس و تدریس کی بات کریں تو خواتین نے اس شعبہ میں مردوں کو پچھاڑ رکھا ہے ۔ آج ہر تعلیمی ادارہ میں لیڈی ٹیچرس کو اولیت و فوقیت اس لئے دی جارہی ہے کہ اس طبقہ نے درس و تدریس کو تعلیم و تربیت سے جوڑ کر ایک صالح معاشرہ کی تشکیل میں اہم کردار نبھایا ہے۔ لیکن اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ آزادی نسواں اور حقوق نسواں کے نام پر خواتین کا استحصال بھی خوب ہورہا ہے ۔ اس سنہری نعرے کی آڑ میں عورت کو شمع محفل اور تسکین نفس کا سامان بنا کر فلموں اور اشتہارات کے ذریعے خواتین کی مارکیٹنگ ہورہی ہے ۔ مس ورلڈ اور مس یونیورسٹی جیسے القابات کی آڑ میں عورت کو نمائشی شۂ بنا کر مغربی دنیا نے اس کے اصل مقام و مرتبہ سے کھلواڑ کر رکھا ہے۔ میں خواتین کے اس ناجائز استعمال کی سخت مذمت کرتی ہوں ۔ اور آج بھی ہمارے معاشرہ میں بالخصوص مسلم معاشرہ میں خواتین کی عصری و اعلیٰ تعلیم پر روک لگائی جارہی ہے ۔ جب کہ اقرار کا حکم نامہ پوری انسانیت کیلئے آیا تھا۔ اس میں عورت و مرد کی تمیز نہیں کی گئی ۔ میں پوچھتی ہوں عورت کیوں نہ پڑھے ؟؟
بتائیے ! عورت کیوں نہ پڑھے کہ اسے معاشرے کی تعمیر کرنا ہے۔
عورت کیوں نہ پڑھے کہ اسے سسکتی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنا ہے۔
وہ کیوں نہ پڑھے کہ اسے تعصب کی آندھیوں میں امن و آشتی کے چراغ روشن کرنا ہے۔
وہ کیوں نہ پڑھے کہ اسے باطل کے اندھیروں سے نورِ حق کی طرف سفر کرنا ہے۔
وہ کیوں نہ پڑھے کہ یہی حکم ربی ہے ۔ ’’ اقراء باسم ربی ‘‘ یہی حکم نبی ﷺہے ۔ ’’ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔‘‘ وہ کیوں نہ دعا گو ہو۔ ’’ رب زدنی علما ‘‘
وہ پڑھے ضرور پڑھے کہ علم جہالت کے اندھیرے کو دور کرتا ہے ۔ علم انسانی ذہن کو وسعت دیتا ہے۔ علم زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے ۔ علم بندے کو اللہ سے قریب سے قریب تر کردیتا ہے ۔ علم عورت کیلئے بھی ضروری ہے لیکن شرعی حدود میں رہ کر۔ مغربی تہذیب خا تونِ مشرق کیلئے سمِ قاتل ہے ۔ مغربی تمدن کی شاخِ نازک پر جو آشیانہ بنے گا یقیناًوہ ناپائیدار ہوگا۔ عورت علم کیلئے جستجو کرے لیکن مردوں سے مقابلہ آرائی کیلئے نہیں ، بلکہ ان کی ہم سفر بننے کیلئے ۔ وہ تعلیم کا پرچم لہرائے لیکن علم بغاوت بلند نہ کرے۔ وہ چراغ خانہ ہی رہے۔ سبھا کی پری بننے کی کوشش نہ کرے۔ بے شک عورت پڑھے ضرور پڑھے اور آگے بڑھے ۔
میں اتنا ضرور کہوں گی کہ
وہ بس چند لمحوں کی ہمدم نہیں ہے
کہ عورت فقط شہد و شبنم نہیں ہے
تبسم نہیں صرف تلوار بھی ہے
وہ نغمہ نہیں صرف جھنکار بھی ہے
محبت کی مسند پر حسن وجوانی
شجاعت کے میداں میں جھانسی کی رانی
وہ شمع شبستاں وہ نور سحر
وہ ہر گا م پر مرد کی ہم سفر ہے
(علی سردار جعفری)
***

Abdul Haleem Siddiqui
 Malegaon

Tuesday, November 29, 2011

علامہ اقبال کی دوتہائی شاعری فارسی زبان میں موجود بعنوان "اقبال کی فارسی شاعری کا تعارف"


ڈاکٹر ضیاءالدین احمد شکیب کا خطاب
حیدرآباد (ایاز الشیخ) جامع مسجد عالیہ کانفرنس ہال میں محفل اقبال شناسی کی 640 ویں نشست میں علامہ اقبال کی شخصیت کے عنوان سے متعلق دوسرے لکچر میں ڈاکٹر ضیاءالدین احمد شکیب نے "اقبال کی فارسی شاعری" کا تعارف کرایا۔ اگرچہ اقبال نے پہلے اردو زبان میں مہارت پیدا کی لیکن ابتدائی جماعتوں سے ہی انہوں نے فارسی کی تعلیم بھی حاصل کی ۔ یہاں یہ ذکر بے محل نہ ہوگا کہ انکی فارسی اور عربی کی تعلیم ابتداءسے اعلی درجہ تک انکے قابل استاد سید میر حسن صاحب کی مرہون منت ہے۔ مولوی سید میر حسن صاحب مشن اسکول میں پڑھاتے تھے جسکی وجہ سے انگریزوں کی طرز فکر اور جدید تعلیمی اصولوں سے بھی بخوبی واقف تھے۔ ان کی علمی جستجو کا اندازا اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ان کی نوجوانی میں جب مرزا غالب کا آخری زمانہ تھا دہلی جاکر مرزا غالب سے ملاقات کی پھر وہ سر سید احمد کی تحریک سے بہت متاثر ہوئے اور نہ صرف سر سید احمد سے ربط رکھا بلکہ ان کی ذات پنجاب میں علی گڑھ تحریک کا اہم ادارہ بن گئی۔ چنانچہ انکی شخصیت کے ان پہلووں سے اقبال متاثر ہوئے۔ اردو یا فارسی دونوں زبانوں میں شاعری میں اقبال نے اپنے نئے راستے نکالے۔ ہندوستان کا اقبال داں طبقہ آج بھی اقبال کو محض اردو کا بڑا شاعر مانتا ہے لیکن انکی فارسی شاعری سے بے بہرہ ہے۔ جبکہ علامہ اقبال کی دو تہائی شاعری فارسی زبان میں ہے اور صرف ایک تہائی اردو میں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اقبال کے تصورات پہلے فارسی میں پیش کئے گئے لیکن ایک زمانہ تک انکی اردو شاعری میں ان کا کوئی ذکر ہی نہیں ملتا ۔ جب کہ اقبال نے تصور خودی کو اپنی عظیم الشان مثنویوں اسرار خودی اور رموز بے خودی میں پیش کیا جو علی الترتیب 1915 اور 1916 میں شائع ہوئیں۔ یہ مثنویاں دو کتابی صورتوں میں تھیں۔ ان کی وجہ سے نہ صرف ہندوستان کے اعلی طبقہ میں اقبال کا اہم مقام بنا بلکہ اسکی وجہ سے اقبال کے سینئیر انگریز نکلسن نے اسکا انگریزی میں ترجمہ کیااور 1920 میں یہ ترجمہ انگلینڈ میں شائع ہوا۔ اس وقت اقبال کی اردو شاعری کا کوئی مجموعہ اردو میں شائع نہیں ہوا تھا۔ اردو پڑھنے والے شیدائیان اقبال کے ہاتھوں میں صرف شکوہ اور جواب شکوہ تھے اور ا سی سے اردو والوںمیں انکی شہرت تھی۔ جبکہ انکی فارسی شاعری کے وجہ سے وہ یورپ میں نہ صرف مانے گئے بلکہ ایک فلسفی اور مفکر کی حیثیت سے جانے گئے۔ ان ہی کے معاصر پروفیسربراون نے کئی جلدوں میں فارسی ادبیات کی تعریف لکھی تو اس میں اقبال کا ذکر ایک نوجوان مفکر کی حیثیت سے کیا۔ 1922 میں اقبال کی اہم کتاب پیام مشرق شائع ہوئی جو جرمنی کے عظیم شاعر گوئٹے کے جواب میں لکھی گئی۔ پیام مشرق ایک مہتمم بالشان کارنامہ ہے جس میں ایک مشرقی شاعر نے اعتماد کے ساتھاپنے تصورات مغرب کو پیش کئے۔ اس وقت تک بھی اردو میں صرف شکوہ اور جواب شکوہ ہی مروج تھا۔ 1924 میں کہیں جاکر اردو کا پہلا شعری مجموعہ بانگ درا شائع ہوا۔ بانگ درا اردو کی نہایت خوبصورت شاعری کا مجموعہ ہے۔ لیکن اس میں اقبال کے فلسفہ خودی کے بارے میں چند اشعار ہیں۔ اسی طرح 1924 میں فارسی کا چوتھا شعری مجموعہ عجم فلسفہ خودی، فلسفہ بے خودی، مغربی تہذیب و افکار پر انکی تنقید ، فنون لطیفہ کے بارے میں اقبال کے تصورات اور اقبال کے روانی مسلک پوری طرح واضح ہو چکے تھے۔ 1931 میں فارسی شاعری سے ہٹ کر علامہ اقبال نے اپنے تصورات کو اپنی شہرہ آفاق انگریزی تصنیف The Reconstruction of Religious thoughts in Islam پیش کیں ، جسمیں مشرق اور مغرب کے درمیان سونچ کا ایک پل تعمیر کیا ۔ اس وقت اردو میں صرف بانگ درا چھپی تھی۔ 1932 میں اقبال کا ایک عظیم کارنامہ جاوید نامہ سامنے آیا ۔ یہ کتاب بھی جو مغربی شاعر دانتے کی Devine Comdedy کے جواب میں لکھی گئی ہے۔ اس کے بعد کہیں جاکر 1935 میں بال جبرئیل اور 1936 میں ضرب کلیم شائع ہوئی جن میں پہلی دفعہ اقبال کے تصور خودی اور دوسرے اہم تصورات کو پیش کیا گیا۔لیکن اپنی ساری دلکشی کے باوجود ان نظموں میں وہ گہرائی نہیں ہے جو فارسی شاعری کی نظموں میں ہے۔ مثال کے طور پر بال جبرئیل کی نظم روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے ، ایک پوری طرح دلکش اور سادہ ہے۔ اس کی جگہ پیام مشرق می میلاد آدم ایک عظیم الشان فکری اور شعری کارنامہ ہے۔ 1939 میں اقبال کی ایک اور فارسی مثنوی پس چہ باید کرد ، اقوام شرق مع مثنوی مسافرشائع ہوئی جس میں مشرق وسطی کی سیاست کا نہایت بالغ نظری کے ساتھ مشاہدہ کیا گیا ہے۔ اور آخری تصنیف ارمغان حجاز جو آدھی اردو اور آدھی فارسی میں ہے1938 میں شائع ہوئی۔ اس گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ محظ اردو شاعری کے ذریعہ اقبال کے تصورات اور پیام کو سمجھنا ممکن نہیںہے۔ یہ ضروری ہے کہ جو لوگ اقبال کو سمجھنا چاہتے ہوں وہ انکا فارسی کلام ضرور پڑھیں۔ اگر راست طور پر فارسی کلام پڑھنے کی توفیق نہ ہو تو اس کے تراجم پڑھیں ۔ ماہر اقبال مضطر مجاز اور ڈاکٹر سید سراج الدین نے اقبال کے اہم فارسی کارناموں کا اردو ترجمہ کردیا ہے جو بہ سہولت اقبال اکیڈیمی سے حاصلہ کئے جاسکتے ہیں۔
جناب غلام یزدانی سینیر ایڈوکیت و کنوئنیر محافل جامع مسجد عالیہ نے واضح کیا کہ سامعین میں زبان فارسی سیکھنے کا شوق بدرجہ اتم موجود ہے، فارسی درس و تدریس کے لئے بھی ضروری تعاون کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے سامعین سے مقرر کے مشوروں پر عمل کو ضروری قرار دیا۔ مقرر کی درخواست پر نشست برخواست ہوئی۔

Sunday, November 27, 2011

رسم اجراء







video
نیڈس اور کتاب دار کے زیر اہتمام  بروز سنیچر مورخہ 26 نومبر 2011ء کو شام میں5 بجے انجمن اسلام  سی ایس ٹی ، احمد ذکریا ہال میں ساجد رشید کا آخری افسانوی مجموعہ "ایک مردہ سر کی حکایت''کی رسم اجراء کی تقریب مغعقد کی گئی تھی ۔جس کی نطامت اردو ادب کی جانی مانی شخصیت گل بوٹے کے مالک و مدیر فاروق سیّد صاحب نے کیں ۔ صدر صاحب   مشہور ٹی وی سیریئل ''گل گلشن گلفام اور کتھا ساگر کے رائٹر'' وید راہی '' رہے ۔مہمان خصوصی جاوید صدیقی ،شمع زیدی ، ریحانہ اندرے، سلام بن رزاق، ساگر سرحدی ، وجۓ کمار ، سلیم عارف صاحب لبنہ سلیم، آصف خان، انور کنول، م ناگ ، عرفان فقیہہ، غلام مومن صاحب ، قمر صدیقی، اقبال نیازی ، ڈاکٹر قاسم امام، یاسین مومن ،  شاعر کے ایڈیٹر نعمان صدیقی، صادقہ نواب سحر جاوید ڈاکٹر روپیش سریواستو اسرار کامریڈ ،مقدر حمید ، ظہیر انصاری ، عزیز شریفی، ریاض منصف ، منور سلطانہ ،اسلم خان اور شہر و اطراف کی اہم  شخصیات موجود تھیں ۔کسی وجہ سے نکھیل واگھے  اس تقریب میں پہنچ نہ سکے ۔ اس لۓ  ساجد رشید صاحب کی اہلیہ مسسز شاہدہ (بھابھی )کے ہاتھوں ان کی کتاب کا اجراء کیا گیا ۔ سلام بن رزاق ۔وجۓ کمار اور جاوید نے تاّثرات پیش کۓ  ۔ سلام بن رزیق نے اپنے خیالات کے اظہار کے وقت یہ باتیں بتائیں کہ ساجد رشید اچھے جنرلسٹ اچھے صحافی کرٹونیسٹ ،ڈرامہ نگار اور اچھے صحافی تھے ۔کیوں کہ ان کے افسانے قاری کے ذہن میں مختلف قسم کے سوالات  پیدا کرتے تھے ۔یہ ان کا احتجاجی  نظریہ ہوتا تھا ۔ جاوید صدیقی نے کہا کہ ساجد رشید کی یہ کہانی ( مردہ سر کی حکایات) شئہ پارہ کی حیّثیت رکھتی ہے ۔مجھے اس بات کی چوشی ہے کل اس مجموعہ کا نام میرے پسندیدہ افسانے پر رکھا گیا ۔انھوں نے کہا کہ جو افسانہ قاری کی نیند حرام کردے ۔اور سوال کرتا رہے وہی ایک قابل افسانہ ہے اس افسانہ کو عالمی ادب میں جگہ ملنی چاہیے ۔ ا نھوں نے  ایک واقع بیان کیا کہ شمع زیدی اور جاوید صدیقی آگرہ کۓ تھے ۔ جب بھی کوئی آگرہ جاتا ہے تو وہ تاج محل دیکھنے ضرور جاتا ہے اور پیٹھا ضرور لیتا ہے ۔مگر یہ لوگ آگرہ میں مشہور ومعروف شاعر وادیب نظیر اکبر آبادی کی مزار پر گۓ وہاں دیکھا کہ ایک قبرستان میں بے نور اور چراغ ایک قبر تھی جس پر تختی پر لکھا تھا میاں نظیر اکبر آبادی جوکہ بر صغیر کے سب سے پہلے ادیب و شاعر کا درجہ رکھتے ہیں ۔ساجد رشید کا کام ایک جہاد کی طرح ہے انھوں نے چھوٹے چھوٹے مسئلوں کو لے کر کہانیاں لکھی تھیں ۔جو واقئی جہاد ہے ۔ان کے نام اور کام کو زندہ رکھنا ہے ۔  شاداب رشید نے رسم شکریہ ادا کیا ۔ رنگ باز تھیٹر کی طرف سے افسانے کی ڈرامائ انداز  میں ریڈنگ کی گئ۔ اس طرح سے ساجد رشید کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔اور اس کے ساتھ ہی اس تقریب کا اختتام ہوا ۔ 

Saturday, November 26, 2011

اردو کی کہانی اردو کی زبانیمیں اردو ہوں

میری داستانِ حیات اتنی طویل نہیں کہ اسکو پڑھنے یا سمجھنے میں کسی کو دیر لگے کیونکہ بڑی آزاد مزاج اور ملنسار واقع ہوئی ہوں، اس لئے جو مجھے اپنانا چاہتا ہے میں اس کی ہو جاتی ہوں، جو مجھے پناہ دیتا ہے میں اس سے محبت کرتی ہوں، جو مجھے پڑھتا ہے میں اس کو آگہی بخشتی ہوں، جو مجھے سمجھتا ہے میں اسے رازِ حیات بتاتی ہوں، میرا کہیں قیام نہیں، میری کو ئی حد نہیں، ہر قوم سے میری دوستی ہے، ہر ملّت سے میرا ناطہ ہے، ہر زبان سے میرا رشتہ ہے، انسانیت میرا مذہب ہے، مٹھاس میری شرست ہے، اتحاد میرا نعرہ ہے اوریگانگت میری کوشش ہے۔میرا دامن عربی کی طلاقت ،جامعیت اور قادر الکلامی سے ، فارسی کی شیرینی اور حلاوت سے ،ہندی کے پیار اور انسیت سے دکنی کی نغمگی سے ، پنجابی کے جوش اور ولولوں سے، ترکی کی وسیع القلبی سے اور انگریزی، فرانسیسی و اطا لوی زبانوں کی اصطلاحوں سے بھرا پڑا ہے-  میری طرف سے بے توجہی برتنے والے بھی میری توجہ کے محتاج رہتے ہیں، مجھ سے پیار کرنے والے میرے ہوکر رہ جاتے ہیں، میں جنگ کے میدانوں میں ترانہ بن کر گونجتی ہوں اور علم و ادب کی کی محفلوں میں گنگناتی ہوں، اجنتا اور الورا پر لکھے جانے والے گیتوں اور تاج محل پر لکھی جانے والی پاکیزہ نظموں کو میں نے جنم دیا ہے، آزادی کے متوالوں کو نعرے  دئے ہیںاور امن کے نقیبوں کو پروان چڑھایا ہے۔   حضرت امیر خسروؔ کو مجھ پر فخر تھا، ولیؔ دکنی میرے شریک ِ بزم تھے ، میر تقی میرؔ میرے مرہون منت، اور میر انیسؔ میرے عظیم مداحوں کی فہرست میں شامل ہیں، میں  برصغیر کی دھرتی کو سیراب کرنے والے دریاؤں کے کناروں  پر آباد شہروں اور بستیوں میں قرنوں سے پنپنے اور ان علاقوں سے نکل کر ہر سو پھیلنے والی عظیم برصغیر کی عظیم تر تہذیب و ثقافت کا پس منظر ہوں، اس لئے میں سارے برصغیر کو ایک ہی نظر سے دیکھتی ہوں، میں راجپوتوں کی شجاعت ، پٹھانوں کے عظمت اور مغلوں کی فراست و ثفاقت کی امین ہوں، پورا برصغیر ہر قسم کی حد بندیوں کے باوجود میرا وطن ہے اور میری نظر میں ایک ہے، کیونکہ میرا دستر خوان وسیع تر ہے اور سب کے لئے ہے۔میرؔ، غالبؔ، نظیرؔانیس ؔ،سرشارؔاور چکبستؔ سے لیکر، فراقؔ ،فیضؔ، ، شکیلؔ ، ساحرؔ، فرازؔ، مجروحؔ، خمارؔ، پھر حالی ؔاور ذکاہ اللہ سے کرشن چندر، راجندربیدی ِِ پطرس بخاری ،انتظار حسین اور شمس الرحمن فاروقی تک کون ہے جس کو میرے دستر خوان کا خوشہ چیں ہونے پر ناز نہیں؟ہندؤں کے شنکھوں، مسلمانوں کی اذانوں، سکھوں کی گربا نیوں اور مسیحوںکی عبادتوں کا گدازمیرے اندر جذب ہے، اگر ایک طرف مسلمان برصغیر میں اپنے اثاثوں کا واحد امین مجھے قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف ہند و مجھے اپنی سبھیتااور ثقا فت کے من موہ لینے والے کرداروں کا محافظ مانتے ہیں، ترکوں افغانوں اورمغلوں نے میری سرپرستی کی تو انگریزوں نے مجھے انتظامی امور کا ذریعہ بنایا ۔مجھے جاننے اور سمجھنے والے کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی انکی بولی ہو کوئی بھی انکی زبان ہوجب اپنے اپنے لہجوں میں مجھے بولتے ہیں تو میں انکی بولی میں گنگناتی ہوں انکے گیتوں میں گاتی ہوں اس لئے میرے ان گنت لہجے ہیں ، بنگالی لہجہ کی چاشنی، دکنی لہجہ کا رچاؤ، پنجابی لہجہ کی کھنک ،بلوچی اور سندھی لہجوں کی غنائیت،گجراتی اور مراٹھی لہجوں کی شفا فیت اور ملیالم اورتامل لہجوں کی گونج میں مجھے اپنا ئیت کا احساس ہوتا ہے۔        جی ہاں میں اردو ہوں وہی اردو جسے دِلّی کے گلی کوچوں میں حضرت امیر خسرو نے پروان چڑھا یا،لکھنوء کی علمی و ادبی محفلوں میں جس نے ہوش سنبھالا، حیدر آباد کے ایوانوں میں ہر سو دیکھنے والی نظر پائی، عظیم آباد کلکتہ اور پنجاب کے ادب نوازوں نے  جسے آراستہ کیا اور لاہور کے چھا پہ خانوں اور کتب خانوں نے جسے دور دور تک پہنچا یا اور اب میرے چاہنے والے میری شمع فروزاں کو تھامے ہوئے یورپ و امریکہ کے شہروں کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ کی پھلتی پھولتی بستیوں اور آبادیوں تک جاپہنچے ہیں۔ میں سب کو ساتھ لئے چل رہی ہوں ، میں نے کسی کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑامیں سب کا دل رکھتی چلی آرہی ہوں، میں نے کبھی کسی کی وراثت پر حریصانہ نظر نہیں ڈالی بلکہ ہرایک کی اچھائی کو اپنے اندرجذب کیا ہے اوراس کو دوام بخشا ہے۔

محمد سلیمان دہلوی
                                بانی صدر انڈو قطر اردو مرکز(دوحہ دہلی) ۸۹۷۵، کوچہ رحمن، دہلی ۔

علامہ اقبال: تجدیدِ فکر اسلامی کے نقیب : پروفیسر خورشید احمد

بیسویں صدی میں جن شخصیات نے اسلامی فکرو تہذیب پر ٹھوس علمی لٹریچر پیش کیا، جنھوں نے فکرِاسلامی کی تشکیلِ نو کے احساس اور جذباتی رجحان کو تبدیل کرنے میں اہم کردار اداکیا، ان میں ایک نمایاں ترین شخصیت علامہ محمد اقبال (۱۸۷۷ء۔۱۹۳۸ء) کی ہے۔ اس بنا پر ہم ان کو دورِ جدید میں تجدیدِ فکر اسلامی کی روایت کا بانی اور بیسویں صدی میں ملّت اسلامیہ پاک و ہند کے ذہن کا اوّلین معمار قرار دیتے ہیں۔
علامہ محمد اقبال کی علمی اور ادبی زندگی کا آغاز انیسویں صدی کے آخری عشرے میں ہوگیا تھا، فروری ۱۹۰۰ء سے وہ انجمن حمایت اسلام لاہور کے جلسوں میں شریک ہونے لگے تھے۔ لیکن قومی زندگی پر ان کے اثرات یورپ سے واپسی (۱۹۰۸ء) کے بعد مرتب ہونا شروع ہوئے۔ ۱۹۱۵ء میں انھوں نے اسرارِخودی شائع کی، جس نے مسلم تصوف سے منسوب جامد سوچ میں ایک تحرک پیدا کیا، اور افرادِ اُمت کو ’اپنی دنیا آپ پیدا کر۔۔۔‘‘ کا زریں نکتہ سمجھایا۔ اس سے ہماری ملّی زندگی کے نئے باب کا افتتاح ہوا۔ پھر انھوں نے ۲۰جولائی ۱۹۲۶ء کو مجلس قانون ساز پنجاب کے انتخاب میں حصہ لے کر اور اس طرح عملی سیاست میں شریک ہوکر تغیر اور تعمیر کے عمل میں مؤثر کردار ادا کیا۔ ان کی مساعی کا ثمرہ اسلامی فکر کی تشکیلِ نو، ملّت کی مزاجی کیفیت کی نئی تعمیر، ایک آزاد قوم کے احیا اور ایک عظیم مسلم مملکت کے قیام کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے۔۱؂
ساتویں صدی ہجری (تیرہویں صدی عیسوی) میں جو کام مولانا جلال الدین رومیؒ (۱۲۰۷ء۔۱۲۷۳ء) نے مثنوی کے ذریعے انجام دیا تھا، اسے بیسویں صدی عیسوی میں علامہ محمد اقبالؒ نے اوّلاً اسرارِخودی (۱۹۱۵ء) اور رموزِ بے خودی (۱۹۱۸ء) اور پھر جاویدنامہ (۱۹۳۲ء) اور پس چہ باید کرد اے اقوام شرق (۱۹۳۶ء) کے ذریعے انجام دیا۔ اسرارِخودی میں جمود اور انحطاط کے اصل اسباب کی نشان دہی کی گئی، تصوف پر یونانی اور عجمی اثرات کی وجہ سے جو حیات کُش تصور مسلمانوں پر مسلط ہوگیا تھا، اس کی تباہ کاریوں کو واضح کیا۔ اسرارِ خودی کا مرکزی تصور: ایمان کی یافت اور اس کی قوت سے ایک نئے انسان (مرد مومن) کی تشکیل ہے۔ رموز بے خودی میں اس اجتماعی، اداراتی اور تاریخی تناظر کو بیان کیا گیا ہے، جس میں یہ انسان اپنا تعمیری کردار ادا کرتا ہے۔ فرد اور ملّت کا تعلق، اجتماعی نصب العین، خلافتِ الٰہی کی تشریح و توضیح، اجتماعی نظم اور ادارات (خاندان، قانون، شریعت وغیرہ) کی نوعیت اور خودی کی پرورش اور ملّی شخصیت کے نمو میں تاریخ کے حصے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
جاوید نامہ علامہ محمد اقبال کے روحانی سفر کی داستان ہے، جس میں وہ عالمِ افلاک کی سیر کرتے ہیں، دنیا اور اس کے ماورا پر بصیرت کی نظر ڈالتے ہیں اور مشرق و مغرب کی نمایندہ شخصیات کی زبان سے آج کی دنیا کے حالات، مسائل و افکار اور مسلمانوں کے ماضی، حال اور مستقبل کے نقوش کو نمایاں کرتے ہیں۔ پس چہ باید کرد اے اقوام شرق میں مغربی تہذیب کے چیلنج کا مطالعہ کرکے بتایا گیا ہے کہ یورپ کی ترقی کا اصل سبب کیا ہے اور مغربی تہذیب کے روشن اور تاریک پہلو کیا ہیں۔ مغرب کی اندھی تقلید سے قوم کو متنبہ کیا گیا ہے، اور ترقی کے راستے کی نشان دہی کی گئی ہے۔ پیامِ مشرق اور ارمغانِ حجاز میں یہی پیغام دوسرے انداز میں بیان کیا گیا ہے، اور اس کا اظہار اُردو کلام میں بھی ہوا ہے۔ خصوصیت سے بانگِ درا کی قومی نظموں میں اور بال جبریل کی ولولہ انگیز غزلوں میں۔ ضربِ کلیم کے بے باک رجز کو خود اقبال نے: ’دورِحاضر کے خلاف اعلانِ جنگ ‘ قرار دیا ہے۔
علامہ محمد اقبال کی نثر کا بہترین حصہ انگریزی میں ہے۔ ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ انھوں نے The Development of Metaphysics in Persiaکے نام سے پیش کیا ہے۔ یہ محض ایک فکری تاریخ نہیں ہے، بلکہ اس کے آئینے میں اسلام پر عجمی اثرات کی پوری تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ اقبال نے تصوف کا جو تنقیدی جائزہ لیا ہے، وہ اصل مآخذ کے وسیع مطالعے پر مبنی ہے۔
علامہ محمد اقبال نے اسلام کے تصورِ مذہب کی علمی اور فلسفیانہ تعبیر اپنے معروف انگریزی خطبات The Reconstruction of Religious Thoughts in Islam(تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ) میں پیش کی ہے۔ اس کتاب میں بنیادی طور پر مغرب کے فکری رجحانات کو سامنے رکھ کر انسان، کائنات اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں اسلامی تصور کی وضاحت کی گئی ہے، مذہب اور سائنس کے تعلق سے بحث کی گئی ہے اور ذرائع علم کا تنقیدی جائزہ لے کر بتایا گیا ہے کہ عصرِحاضر کے یک رُخے پن کے مقابلے میں اسلام کس طرح عقل، تجربے اور وجدان کی ہم آہنگی قائم کرتا ہے۔ اس بنیادی فکر کی روشنی میں آزادی اور عبادت کے تصور کو واضح کیا گیا ہے، اور ان تصورات کی بنیاد پر قائم ہونے والے تمدن کی خصوصیات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ نیز اسلامی قانون کی مثال دے کر یہ دکھایا گیا ہے کہ اسلامی تمدن میں ثبات اور تغیر کا حسین امتزاج کس طرح قائم ہوتا ہے اور اس کے اندر ہی سے زندگی اور حرکت کے چشمے کس طرح پھوٹتے ہیں۔
مذکورہ بالا انگریزی کتابوں کے علاوہ، وقت کے علمی، تہذیبی، سیاسی اور معاشی مسائل کے بارے میں محمد اقبال نے اپنے خیالات کا اظہار متعدد مضامین، تقاریر، بیانات اور خطوط کے ذریعے بھی کیا ہے۔ یہ سارا نثری ذخیرہ اُردو اور انگریزی مجموعوں کی صورت میں شائع ہوچکا ہے۔۲؂
اگرچہ محمد اقبال کی مخاطب پوری ملت اسلامیہ بلکہ پوری انسانیت ہے، لیکن انھوں نے خصوصیت سے مسلم قوم کے ذہین اور بااثر تعلیم یافتہ طبقے کو خطاب کیا۔ یہ مؤثر اور کارفرما طبقہ، ذہنی اور لسانی روایات سے وابستہ تھا۔ محمد اقبال نے اپنے افکار کے اظہار کے لیے بنیادی طور پر شعر کا پیرایہ اختیار کیا۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک شکست خوردہ قوم کو حرکت اور جدوجہد پر اُبھارنے کے لیے عقلی اپیل کے ساتھ ساتھ جذباتی اپیل کی ضرورت تھی۔ وقت کے چیلنج کا تقاضا محض عقل کو مطمئن کرنا نہیں تھا، بلکہ اہمیت اس امر کو بھی حاصل تھی کہ جذبات میں تموج برپا کرکے اس جمود کو توڑا جائے، جس میں یہ ملّت گرفتار تھی۔ نیز ایک مدت سے برعظیم پاک و ہند کی ملّت اسلامیہ دولخت شخصیت (split personality) کے مرض میں مبتلا تھی، یعنی اس کے عقیدے اور عقل میں یکسانی اور مطابقت باقی نہ رہی تھی۔۳؂
دوسرے لفظوں میں عقیدہ تو موجود تھا، مگر اس میں وہ حرارت نہ تھی جو جذبے کی خنکی یا سردمہری کو دُور کرسکے اور بے عملی اور مایوسی کی برف کو پگھلا دے۔ عقیدے کا چراغ اگر ٹمٹما رہا تھا تو عشق کی روشنی بھی باقی نہ رہی تھی۔ اس کیفیت نے ’روحانی فالج‘ کی صورت اختیار کرلی تھی، جس سے دین داری کی حِس مجروح ہورہی تھی ؂
بُجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے
اس کیفیت میں دیرپا تبدیلی اور دُور رس انقلاب کے لیے صرف عقل کی روشنی کافی نہیں ہوسکتی، بلکہ اس کے لیے جذبے کی تپش بھی درکار تھی (یہی، اقبال کے پیش کردہ تصورِ عشق کا پس منظر ہے)۔ علامہ محمداقبال نے جذبے کو مہمیز لگا کر انقلاب پیدا کرنے کے لیے شعر کا جادو جگایا (دوسری جانب اسی زمانے میں مولانا ابوالکلام آزاد نے اس کام کو انجام دینے کے لیے خطابت کا طوفانی راستہ اختیار کیا تھا)۔
مسلم فکر کے زندہ موضوعات، لوازمے اور مباحث میں اقبال کا جو منفرد حصہ ہے، ذیل میں اس کے چند اہم پہلوؤں کی طرف مختصراً اشارہ کیا جاتا ہے:
lتقلید نھیں ، تخلیقی اجتھاد: قدیم و جدید کے درمیان کش مکش کو علامہ محمداقبال نے ’دلیل کم نظری‘ قرار دیا ہے۔ اگرچہ انھوں نے خود ان دونوں مآخذ سے پورا پورا استفادہ کیا، مگر کسی ایک کے سامنے آنکھیں بند کرکے سپر نہیں ڈالی۔ علامہ محمد اقبال کی نگاہ میں زندگی ایک ناقابلِ تقسیم وحدت ہے جس میں ثبات اور تغیر دونوں کا اپنا اپنا فطری مقام ہے۔ اسلام کا اصل کارنامہ ہی یہ ہے کہ اس نے فطرت کے اس اصول کو تسلیم کرتے ہوئے اعتدال کے راستے کو نمایاں کیا۔ علامہ اقبال نے بتایا کہ صحت مند ارتقا اسی وقت ممکن ہے، جب تمدن کی جڑیں ایک جانب ماضی کی روایت میں مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہوں، اور دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ وہ حال کے مسائل اور مستقبل کے رجحانات سے پوری طرح مربوط ہوں۔ اقبال کی نگاہ میں فدویانہ تقلید، خواہ وہ ماضی کی ہو یا اپنے ہی زمانے کے چلتے ہوئے نظاموں کی، فرد اور قوم دونوں کے لیے تباہ کن ہے۔ صرف تعمیری اور تخلیقی اجتہاد ہی کے ذریعے ترقی کی منزلیں طے کی جاسکتی ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے، جو علامہ محمد اقبال نے اختیار کیا۔۴؂
lتصوف نھیں، حرکت و عمل: علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کے ماضی اور حال دونوں پر تنقیدی نگاہ ڈالی۔ ان کے خیال میں مسلمانوں کے زوال کا بنیادی سبب یہ تھا کہ انھوں نے غیر اسلامی اثرات کے تحت ایک ایسے تصورِ حیات کو شعوری طور پر اختیار کرلیا جو اسلام کی کھلم کھلا ضدپر مبنی تھا۔ اس سے ان کی صلاحیتیں زنگ آلودہ ہوگئیں، اس طرح وہ تاریخ اور زمانے کی اہم ترین قوت ہوتے ہوئے بھی تمدنی زوال، سیاسی غلامی اور فکری انتشار کا شکار ہوگئے۔ اس سلسلے میں یونانی اور عجمی مآخذ سے حاصل کیا ہوا تصوف اور اشراق، حددرجہ مہلک اور حیات کُش ثابت ہوا، جس نے مسلمانوں میں زندگی کا غیرحرکی اور جمود زدہ تصور رائج کر دیا۔۵؂ نفی ذات کے فلسفے نے یہاں بھی گھر کرلیا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے ترکِ دنیا، ترکِ آرزو اور ترکِ عمل کی بنیاد پر جمود اور انحطاط کے مہیب سایے مسلط ہوگئے۔
lمرد مومن کے لیے لائحہ عمل: بگاڑ کے اسباب کی تشخیص کے بعد، علامہ محمد اقبال نے اسلام کے تصورِ حیات اور اس کی بنیادی اقدار کو ان کی اصل شکل میں پیش کیا۔ اسلام کی جو تشریح و توضیح اقبال نے کی ہے، اس کی امتیازی خصوصیت اس کا حرکی (dynamic) اور انقلابی (revolutionary) پہلو ہے۔ کائنات کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تخلیقی عمل اور ارتقا جاری ہے۔ کائنات کسی تخلیقی حادثے کا مظہر نہیں ہے، بلکہ اس میں خالق کائنات کی جانب سے کن اور فیکون کا سلسلہ جاری و ساری ہے، گویا جاوداں، پیہم رواں، ہر دم جواں ہے زندگی‘۔ پھر کائنات کی حقیقت کو ’خلق‘ اور ’امر‘ کی نوعیت پر غور کرکے ہی سمجھا جاسکتا ہے۔۶؂ اگر ’خلق‘ میں پیدایش اور وجود کی طرف اشارہ ہے تو ’امر‘ میں سمت اور منزل کی طرف رہنمائی ہے۔
ہر چیز ایک مقصد کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ وجود کا اساسی پہلو بھی احساسِ سمت، مقصدیت، حرکت اور مطلوب کی طرف سعیِمراجعت ہے۔ کائنات، انسان اور تاریخ، ہر ایک میں یہی حرکی اصول کارفرما ہے۔ جسم اگر خلقت کا مظہر ہے، تو روح امن کی آئینہ دار ہے۔ خودی اور اس کی تعمیر اس حرکی اصول کا لازمی تقاضا ہے۔ ترقی اور بلندی کی راہ نفیِ ذات نہیں، اثباتِ خودی ہے، جو خود ایک ارتقائی (evolutionary) اور حرکی عمل ہے۔ روح کی معراج، ذاتِ باری تعالیٰ میں فنا ہوجانا نہیں، بلکہ خالقِ حقیقی سے صحیح تعلق استوار کرنا ہے۔ ایمان اس کا نقطۂ آغاز ہے، عمل اس کا میدانِ کار ہے، اور عشق اس کی ترقی کا راستہ۔
یہی اصولِ حرکت تاریخ میں بھی کارفرما ہے۔ تاریخی اِحیا محض ماضی کے صحت مند رجحانات کے بقا و استحکام کا نام نہیں ہے، بلکہ ابدی اقدار اور تمدّنی نصب العین کی روشنی میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کے میدانوں میں تخلیقی اظہار اور تعمیر اور تشکیلِ نو سے عبارت ہے۔ انسان ہی اس ارتقائی عمل کا اصل کارندہ ہے۔ اگرچہ کائنات کی ہر شے اس کی مدد کے لیے فراہم کی گئی ہے، لیکن انسانی زندگی کے کچھ اعلیٰ ترین مقاصد کے حصول کے لیے ہے، اور یہ مقصد ہے منصبِ نیابتِ الٰہی۔۷؂
اسلام وہ طریق زندگی ہے، جو انسان کو اس کام کے لائق بناتا ہے اور تاریخ میں اس حرکت کو صحیح سمت دیتا ہے۔ مردِ مومن اور ملتِ اسلامیہ، کائنات کی اصلی معمار قوتیں ہیں۔ اگر وہ اپنی ذمہ داری صحیح طور پر انجام نہ دیں تو بگاڑ رونما ہوگا، خود ان کے درمیان بھی اور کائنات میں بھی۔
lعقل اور وجدان کا تعلّق: علامہ محمد اقبال نے مذہب کی بنیاد عقل یا سائنس پر نہیں رکھی، بلکہ انھوں نے عقل، تجربے، سائنس اور وجدان، ہر ایک کی اصل حقیقت کو واضح کیا، اور ان کی مجبوریوں اور دقتوں پر روشنی ڈالی۔ اقبال نے بتایا کہ جبلت، عقل اور وجدان کے نقائص کو وحی کی روشنی اور تربیت کے ذریعے ہی دُور کیا جاسکتا ہے۔ ان تینوں کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کر کے انسان کی خدمت اور رہنمائی کے صحیح مقام پر فائز کیا جاسکتا ہے۔۸؂ نومعتزلائی عقلیت اور مغرب کی بے جان سائنس کے مقابلے میں یہ عقلِ سلیم کی فتح تھی۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تجربہ اور مشاہدہ مذہبی فکر میں ایک اساسی حیثیت قرار پایا۔ روحانی اور مادی تقسیم کا باطل نظریہ ترک ہوا، اور دونوں کے امتزاج (synthesis) سے متوازن اسلامی زندگی کی تعمیر کی راہ روشن ہوئی۔
lحرکی تصور میں خودی کا مقام:ایمان اور عمل کا باہمی تعلق واضح کرنے کے لیے علامہ محمداقبال نے غیرمعمولی ندرت (innovation) کا ثبوت دیا۔ اقبال کے نظامِ فکر کے مطابق زندگی کا حرکی تصور آپ سے آپ عمل کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔ پھر مذہبی تجربے کی اساسی اہمیت بھی اس سمت میں اشارہ کرتی ہے۔ اثباتِ خودی اور تعمیر شخصیت ایک مسلسل عمل ہے، جس کے بغیر انسان مقامِ انسانیت کو حاصل نہیں کرسکتا۔ نیابتِ الٰہی کے تقاضے صرف تسخیرکائنات اور اصلاحِ تمدّن ہی کے ذریعے انجام دیے جاسکتے ہیں۔ ’خودی‘ ایک بے لگام قوت کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ خداپرستی اور اخلاقی تربیت سے ترقی پاتی ہے۔ عشق اس کی قوتِ محرکہ ہے، جب کہ مادی قوت کو دین کی حفاظت اور پوری دنیا میں نظامِ حق کے قیام کے لیے استعمال کرنا اس کی اصل منزل ہے۔ یہی خلافتِ الٰہی ہے، اور یہی انسان کا مشن ہے۔۹؂ اقبال نے مذہب کا یہ انقلابی تصور دیا، جس نے ملّتِ اسلامیہ میں حرکت اور ہلچل پیداکر دی۔
lاسلامی ریاست، بنیادی تقاضا: اس تصورِ حیات اور اس مشن کا لازمی تقاضا ہے کہ خود سیاسی اقتدار اسلام کے تابع ہو۔ نہ صرف یہ کہ اسلام میں دین و دنیا کی کوئی تقسیم نہیں ہے، بلکہ مذہب اور ریاست ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔ اگر دین اور سیاست جدا ہوجائیں تو دین صرف رہبانیت بن جاتا ہے اور سیاست چنگیزیت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ مسلمانوں کی ذہنیت ان کے دین اور دین سے ذہنی وابستگی ہی سے تشکیل پاتی ہے۔ ان کی ریاست، معاشرت اور معیشت، دین کے مقاصد ہی کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسلام اپنے اظہار کے لیے ریاست اور تمدن کے روپ میں ظاہر ہو۔ مسلمانوں کو ایسے خطۂ زمین کی ضرورت ہے، جہاں وہ اغیار کے اثرات سے آزاد ہوکر اپنے تمدنی وجود کا مکمل اظہار کرسکیں، اور پھر اس روشنی کو باقی دنیا میں پھیلا سکیں۔ اسی عمل کو اقبال نے اسلام کی مرکزیت کہا ہے، اور اسی کے لیے انھوں نے ایک آزاد خطۂ زمین کا مطالبہ کیا۔ آزاد اسلامی ریاست صرف مسلمانوں کی سیاسی ضرورت ہی نہیں بلکہ خود اسلام کا بنیادی تقاضا ہے۔۱۰؂
lتھذیبی غلامی، ایک زھر قاتل: علامہ اقبال نے مغربیت اور اس کے بطن سے رونما ہونے والی مختلف تحریکوں، خصوصیت سے لادینیت، مادّیت پسندی، قومیت پرستی، سرمایہ داری، اشتراکیت اور اباحیّت پسندی پر کڑی تنقید کی۔ انھوں نے بتایا کہ ان باطل افکار و نظریات کے لیے اسلام میں کوئی گنجایش نہیں ہے، نیز یہ کہ فی الحقیقت یہی تحریکیں انسان کے دکھوں اور پریشانیوں کا سبب ہیں۔۱۱؂ مسلمانوں کی نجات ان کی پیروی میں نہیں، بلکہ اپنی خودی کی یافت اور دین اسلام کے احیا میں ہے۔ اقبال نے بار بار خبردار کیا کہ اگر انھوں نے مغرب کی تقلید کی روش کو اختیار کیا، تو یہ راستہ ان کی خودی کے لیے زہرقاتل ہوگا۔ زندگی اور ترقی کا راستہ نہ تو ماضی کی اندھی تقلید میں ہے اور نہ وقت کے نظاموں کی فدویانہ پیروی اور جاہلانہ غلامی میں۔۔۔ یہ راستہ اسلامی تعمیرنو کا راستہ ہے، جو اثباتِ خودی، احیاے ایمان، تعمیراخلاق، اجتماعی اصلاح اور سیاسی انقلاب کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف سیاسی غلامی سے بھی نجات حاصل ہوسکے گی، بلکہ اس سے زیادہ خطرناک ذہنی، تمدنی اور تہذیبی غلامی سے بھی رہائی مل جائے گی۔ پھر وہ جو ’زمانے کے غلام‘ بننے پر قناعت کر رہے ہیں وہ آگے بڑھ کر ’زمانے کی امامت‘ کا فریضہ انجام دے سکیں گے، اور یہی ملت اسلامیہ کے کرنے کا اصل کام ہے۔
علامہ محمد اقبال نے ایک طرف دینی فکر کی تشکیلِ نو کی اور اسلامی قومیت کے تصور کو نکھارا، دوسری طرف ملّی غیرت اور جذبۂ عمل کو بیدار کیا۔ مغربی افکار کے طلسم کو توڑا اور قوم کو تمدنی اور سیاسی اعتبار سے اسلام کی راہ پر گامزن کرنے میں رہنمائی دی۔ یہی اقبال کا اصل کارنامہ ہے اور اسی بنا پر وہ بیسویں صدی کی اسلامی فکر کے امام اور اس میں تجدید کی روایت کے بانی اور رہبر ہیں۔
_______________
حواشی
۱۔ یہاں علامہ اقبال کی فکربلند کا تجزیہ پیش نظر نہیں۔ تاہم اختصار کے ساتھ اس امر کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے کہ فکرِاقبال نے ادبی اور فکری روایت پر کس کس پہلو سے اثر ڈالا۔(دیکھیے: جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال: زندہ رود۔ سید علی گیلانی: اقبال، روح دین کا شناسا۔ ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی:عروجِ اقبال، پروفیسر محمد منور: میزانِ اقبال، ایقانِ اقبال۔پروفیسر رفیع الدین ہاشمی: علامہ اقبال، شخصیت، فکراور فن۔ ڈاکٹر خالد علوی: اقبال اور احیاے دین۔ حیران خٹک: اقبال اور دعوتِ دین)
۲۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: رفیع الدین ہاشمی: تصانیف اقبال کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ۔
۳۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی: برعظیم پاک و ہند کی ملّت اسلامیہ، ص ۴۳ ٭ڈاکٹر سید عبداللہ: میرامن سے عبدالحق، ص ۲۳۷۔۲۴۶۔
۴۔ The Reconstruction، باب ششم ٭سید ابوالحسن علی ندوی: نقوشِ اقبال۔ ٭پروفیسر خورشیداحمد، اقبال اور اسلامی قانون کی تشکیلِ جدید، مشمولہ چراغ راہ، اسلامی قانون نمبر، ج۲، ۱۹۵۸ء۔
۵۔ علامہ اقبال مکتوب بنام محمد اسلم جیراج پوری (۱۷؍مئی ۱۹۱۹ء) میں لکھتے ہیں: ’’تصوف سے اگر اخلاص فی العمل مراد ہے (اور یہی مفہوم قرونِ اولیٰ میں اس سے لیا جاتا تھا) تو کسی مسلمان کو اس پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔ ہاں، جب تصوف فلسفہ بننے کی کوشش کرتا ہے اور عجمی اثرات کی وجہ سے نظامِ عالم کے حقائق اور باری تعالیٰ کی ذات کے متعلق موشگافیاں کرکے کشفی نظریہ پیش کرتا ہے، تو میری روح اس کے خلاف بغاوت کرتی ہے‘‘۔ (اقبال نامہ [یک جا] مرتبہ: شیخ عطا محمد، اقبال اکادمی پاکستان، طبع نو و تصحیح شدہ،ص ۱۰۰)۔ سید سلیمان ندوی کے نام (۱۹۱۷ء) لکھتے ہیں: ’’تصوف کا وجود ہی سرزمینِ اسلام میں ایک اجنبی پودا ہے، جس نے عجمیوں کی دماغی آب و ہوا میں پرورش پائی ہے‘‘ (ایضاً)۔ بنام اکبر الٰہ آبادی: (۲۵؍اکتوبر ۱۹۱۵ء): ’’صوفیا کی دکانیں ہیں ، مگر وہاں سیرتِ اسلام کی متاع نہیں بکتی‘‘۔ (اقبال نامہ[یک جا]، ص۳۸۱۔۳۸۲) بنام اکبرالٰہ آبادی (۱۱؍جون ۱۹۱۸ء): ’’عجمی تصوف سے لٹریچر میں دل فریبی اور حسن و چمک پیدا ہوتا ہے۔ مگر ایسا کہ طبائع کو پست کرنے والا ہے‘‘ (ایضاً، ص ۳۸۷)۔ ٭پروفیسر حمیداحمد خاں: اقبال کی شخصیت اور شاعری lڈاکٹر صابر کلوروی: تاریخ تصوف۔
۶۔ اشارہ ہے قرآنی آیت اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ (اعراف۷:۵۴) کی طرف۔
۷۔ ڈاکٹر محمد اقبال : The Reconstruction، باب اوّل، دوم، سوم۔٭اسرارِ خودی٭رموزبے خودی ٭خضرراہ، در بانگِ درا٭ساقی نامہ اور زمانہ، دربال جبریل، نوائے وقت، درپیامِ مشرق۔
۸۔ The Reconstruction، باب دوم و ہفتم۔
۹۔ اسرارِ خودی اور رموز بے خودی۔
۱۰۔ ڈاکٹر محمداقبال: خطبۂ صدارت ۱۹۳۰ء۔ ٭نیز ملاحظہ ہو: The Reconstruction، باب ششم و ہفتم ٭رموز بے خودی۔ ٭پروفیسر محمدسلیم: علامہ اقبال کی سیاسی زندگی٭محمد احمد خاں: اقبال کا سیاسی کارنامہ ٭محمد حمزہ فاروقی: اقبال کا سیاسی سفر۔
۱۱۔ پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق ٭ضربِ کلیم ٭جاوید نامہ ٭پیامِ مشرق۔ اس سلسلے میں دیکھیے: جنوری ۱۹۳۸ء کا سالِ نو کا پیغام، جو اقبال کی آخری تحریروں میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
--      

Friday, November 25, 2011

" جان کرمن جملہ خاصانہء میخانہ مجھے......مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے. "

آداب و تسلیماتآپ تمام  حضرات کا بے حد شکریہ جنہوں  نے لفظ "جان کاری"  پر بر محل تبصرہ فرمایا اور قارئین کرام کے علم میں اضافہ فرمایا. فی الحقیقت ایسی علمی بحث اردو زبان کی ترویج و ترسیل کے لئے بے حد ضروری ہے اور بحث معیاری ہو تو کیا کہنے.  
اول بات یہ کہ، اس بحث کا اختتام شاید اس نقطہ پر ہو سکتا ہے کہ جان کاری اور اس طرح کے دیگر  الفاظ عام بول چال میں بھلے استعمال ہوں یا نہ ہوں لیکن اسے ادب میں مستعمل کرنا اور خاص کر  اردو ترقی کے متعلق کام کرنے والے کسی ادارہ کے خط و کتابت میں پایا جانا معیوب بات ہے. ایسے الفاظ شاید اردو ادب کی  فصاحت اور سلاست سے میل نہیں کھاتے . ایسے ہزاروں الفاظ لغت میں موجود ہیں اور ہر دور میں مستعمل بھی رہے ہیں جبکہ انکے متبادل فصیح  الفاظ بھی موجود ہیں جو  ذو معنی بھی ہیں اور مفرد بھی . کسی صاحب لغت کی علمیت پر بحث کرنا انکی عمر بھر کی عرق ریزی سے انکار کرنا  ہے اور ہم جیسے کسی طالب علم کو یہ نا زیبا ہے .
دوم یہ کہ، محترم جناب اعجاز شاہین صاحب سے التماس ہے کہ وہ اردو لغت، الفاظ اور  صرف و نحو  پر اپنا سابقہ سلسلہ پھر سے جاری کریں.  ہم جیسے کئی طالب علم ہیں جو ان سے  استفادہ کرتے رہے ہیں.  ہاں اس بات کا اقرار  کرنا بھی ضروری ہے کہ ہم جیسے قارئین ایسی کسی کوششوں کی تعریف یا شکریہ تو کیا ادا کرتے کبھی ہمت افزائی تک نہیں کرتے.  آخرکار   ایسے سلسلے بند کر دیے جاتے ہیں.
سوم یہ کہ، محبان اردو کو یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ اردو کے کئی متخصص ہیں جنہوں نے فارسی،  عربی، سنسکرت زبانوں میں سے کسی ایک  زبان کو اردو  پر  مسلط  نہ کرنے  پر ہمیشہ زور دیا ہے،  تاکہ اردو زبان میں توازن برقرار رہے اور اردو کی اپنی انفرادیت ختم نہ ہو . معتبر اردو ادبا کا یہ بھی قول ہے کہ بول چال کی زبان اور محاورے اصل قواعد اور صرف ونحو پر بھاری رہے ہیں اور ادب نے اکثر و پیشتر اسے خوشدلی سے قبول کیا ہے۔ لیکن چلن اکثریت کے ساتھ ثابت ہونا ضروری ہے.
اردو زبان کی انفرادیت قائم رکھنے میں بہت سے عناصر کارفرما رہے ہیں جن میں مرکب الفاظ کی اپنی خاصیت ہے. زیادہ تر مرکب الفاظ کسی بھی دو  داخلی یا خارجی الفاظ سے ملکر بنے ہیں.  تبصرہ میں صحیح فرمایا گیا کہ لفظ "جان" ہندی، سنسکرت لفظ سے اخذ کیا گیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ "جن"  یا " گیان" دونوں سے اخذ کیا گیا ہو،  جس میں جن سے جان  بمعنی انسان کے  اور گیان سے جان  بمعنی سمجھ کے شاید لیا گیا ہو. اردو لغت میں جاننا اور جاننا بوجھنا، جان بوجھ کر وغیرہ  محاورے درج ہیں اور  بمعنی واقفیت کے لیے گئے ہیں. بعد میں بطور مترادف الفاظ  جیسے  جان پہچان یا جان بوجھ  جو سمجھ بوجھ  کا متبادل ہے رائج ہوئے ہونگے. اردو و فارسی کے شعرائے کرام جیسے غالب و  اقبال کے اشعار میں لفظ جان فارسی قواعد کے اضافی کے ساتھ بمعنی انسانی جان کے بھی مستعمل رہا ہے اس لئے یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لفظ فارسی زبان میں بھی مستعمل ہو یا اخذ کیا گیا ہو۔           
" لفظ کاری "کار" سے اخذ کیا گیا ہے جو فارسی زبان کا لفظ ہے. لفظ کار  امر ہے کاشتن کا. مصدر کاشتن کے معنی ہیں بونا یا کھیتی باڑی یا زراعت یا کسی قسم کا کام.  اسی طرح مرکب لفظ  "جان کار" رائج ہوا ہوگا. لغت میں جان کار اور جان کاری دونوں الفاظ درج کیے گئے ہیں.
جگر صاحب کے اس شعر سے لفظ جان کا بمعنی سمجھ کے  مستعمل ہونا ثابت  ہے.
"جان کر من جملہ خاصانہء میخانہ مجھے......مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے".
خاکسارزبیر

Public release of Taryaq calendar








Friday, November 18, 2011

اہالیان مالیگاؤں








اہالیان مالیگاؤں نے ہم مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرکے اپنی سماجی و ملی بیداری کا ثبوت دیا 

( سات محروسین اور ان کے اہل خانہ سے عبدالحلیم صدیقی کی خصوصی ملاقات کے اقتباسات پیش ہیں ) 


(۱) ہمارا ساتھ بہت ظلم ہوا (شبیر احمد مسیح اللہ)

شبیر احمد مسیح اللہ کے گھر آج ملاقاتیوں کا تانتا بندھا ہوا ہے ۔ ان میں ان کے کاروباری احباب ، تاجر، تعلیم کے زمانے کے دوست اور رشتہ دار و پڑوسی سبھی ہیں ۔ جمعتہ علماء مالیگاؤں کا ایک وفد بھی گلدستہ اور مٹھائیاں لئے ہوئے مفتی آصف انجم کی قیادت میں براجمان ہے اور شبیر احمد انکے بھائی جمیل احمد کا خیر مقدم کیا جارہا ہے ۔
شبیر احمد کے مطابق رات ۳؍ بجے جب ہمارا قافلہ شہر میں داخل ہوا تو ہم یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے کہ پورا شہر جاگ رہا ہے ۔ جگہ جگہ روشنی ہے ، اور خوشی کا ماحول ہے واقعی یہ شہر بیدار شہر ہے ۔ ہم اس کی بیداری کو سلام کرتے ہیں ۔ مشاورت چوک میں جس طرح سے ہمارا استقبال کیا گیا ہم کبھی خواب میں بھی یہ نہیں سوچ سکتے تھے ۔ گھر پہنچتے پہنچتے رات کے چار بج گئے پانچ سال کے بعد اپنے اہل و عیال سے ملنے کی خوشی کیا ہوگی ہم بیان نہیں کرسکتے ۔ میرے بچے اسریٰ ، مجاہد عالم ، ذکرٰی ، معاذ ارقم ، پوری رات جاگتے جاگتے میرا انتظار کررہے تھے ۔ میں سب سے پہلے اپنے والد بزرگوار سے ملا فرط جذبات سے ان کی آنکھیں نم تھیں اور وہ اپنی زبان سے کچھ بھی کہنے سے قاصر تھے ۔ جب مالیگاؤں بلاسٹ ہوا تو میں خود ٹرین بلاسٹ میں جیل میں بند تھا مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مجھے اس دھماکے کا ماسٹر مائنڈ بنا کر پیش کیا گیا ہے جیل کے اندر ابتدائی دنوں میں پوچھ تاچھ اور تحقیقات کے نام پر ہم لوگوں پر جو ظلم کے پہاڑ توڑے گئے وہ ناقابلِ بیان ہے۔ میں ان تلخ یادوں سے آج ان مسرت آگیں لمحات کو برباد کرنا نہیں چاہتا۔ لیکن اللہ نے مجھے صبر دیا اور میں اس مصیبت کو جھیل گیا خدا کا شکر ہے کہ چارج شیٹ کے تمام الزامات کو میں نے دوسرے ہی دن جج کے سامنے مسترد کرتے ہوئے انھیں باور کردیا کہ اعترافی بیان پر دستخط دباؤ اور ظلم کے ذریعے لئے گئے ہیں ۔ جیل جانے سے پہلے کنگ آف بیٹری کہلانے والے شبیر احمد کی معثیت پوری طرح تباہ ہوچکی ہے ۔ میں جلد از جلد اپنے کاروبار کو پھر سے کھڑا کرنا چاہتا ہوں ۔ 
(۲) مالیگاؤں کی عوام نے ثابت کردیا کہ وہ بیدار شہری ہیں (ڈاکٹر سلمان فارسی) 

مضبوط قوت ارادی کے مالک ڈاکٹر سلمان فارسی جیل سے رہا ہونے کے دوسرے ہی دن اپنی بیگم ڈاکٹر نفیسہ کے مطب میں آبیٹھے کل سے وہ باقائدہ مریضوں کی تشخیص اور علاج و معالج کا سلسلہ شروع کررہے ہیں۔ ان کی گود میں اس وقت مطؤنہ موجود ہے ۔ مطۂنہ یہاں کے جے اے ٹی اسکول میں جماعت پنجم کی طالبہ ہے اور بیٹا عدی مقاتر بھی اے ٹی ٹی ہائی اسکول میں پانچویں پڑھ رہا ہے ۔ بڑ ابیٹا تمیم سالک پروگریسیو انگلش اسکول میں آٹھویں کا طالب علم ہے ۔ مالیگاؤں دھماکوں میں پھنسائے گئے ملزمین میں سب سے زیادہ پر جوش انداز ڈاکٹر سلمان فارسی کا نظر آیا انھوں نے جیل سے نکلتے وقت خالص اسلامی حلیہ بنایا تھا ۔ اس نے جمعتہ علماء مہاراشٹر کی ممبئی پریس کانفرنس میں بھی میڈیا کو مخاطب کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم اپنی رہائی کا کریڈیٹ اللہ رب العزت کو دینا چاہتے ہیں ۔ اسکے بعد اس نے کل جماعتی تنظیم ، جمعتہ علماء مہاراشٹر اور ممبئی و مالیگاؤں کی عوام سبھی چھوٹی بڑی تنظیموں کا شکریہ ادا کیا تھا۔ جیل سے نکلتے ہی انھوں نے سب سے پہلے مالیگاؤں میں نہال احمد سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم لوگ رات دیر گئے مالیگاؤں پہنچیں گے ۔ لیکن سب سے پہلے آپ کے دھرنا پنڈال میں مشاورت چوک پہنچ کر آپ لوگوں کا شکریہ ادا کریں گے اور واقعہ یہی ہے کہ پورا کارواں مشاور ت چوک پہنچا اور سبھی ملزمین کی طرف سے ڈاکٹر فارسی نے مالیگاؤں کی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر فارسی نے کہا کہ انھیں جیل میں رہتے ہوئے مالیگاؤں بلاسٹ کیس کی پوری پیش رفت سے اردوٹائمز نے باخبر رکھا۔ ہم نے بہت سارے خطوط جیل سے لکھے ۔ ہمارے ساتھیوں کے خطوط اس میں شائع بھی ہوئے ۔ اردو ٹائمز نے ہمارا درد پوری دنیا تک پہنچانے کا صحافتی فریضہ انجام دیا ہے ۔ ڈاکٹر فارسی نے کہا کہ ہم سب بے گناہ اور پھنسائے گئے لوگ تھے ۔ اگر مالیگاؤں کی عوام کی مخلصانہ جدوجہد اور تعاون نہ ہوتا تو ہم ٹوٹ جاتے ۔ موصوف نے اپنی پر عزم بیگم ڈاکٹر نفیسہ کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے شوہر کی غیر موجودگی کے باوجود گھر کے حالات کو سنبھالے رکھا۔ بچوں کی پڑھائی جاری رہی اور باعزت زندگی گذرتی رہی ۔ آپ نے تمام وکلاء حضرات کا بھی شکریہ ادا کیا۔ مالیگاؤں کی عوام نے ثابت کردیا کہ وہ بیدار شہری ہیں ۔ 
(۳) کیا ہمیں اسلامی تشخص کی سزا مل رہی ہے ؟؟(نورالہدی شمس الضحیٰ )

میں پانچ سال پہلے ایک مزدو تھا لیکن جیل میں پانچ سال گذارنے کے دوران میں نے عربی و اردو زبان کی در س وتدریس کے جو تجربات حاصل کئے ہیں میری خواہش ہے کہ میں اپنی بی اے کی ادھوری تعلیم مکمل کرلوں اور جلد از جلد ایک معلم کی حیثیت سے اپنا کیرئیر شروع کروں ۔یہ باتیں ہیں نورالہدی کی جس نے آج اردو ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے میڈیا والے پوچھتے ہیں کہ کیوں اور کس نے پھنسایا ۔ لیکن میں جواب دیتا ہوں کہ یہ سوال تو ان ظالم افسران سے پوچھا جائے جنھوں نے ہم کوپھنسایا۔ اور پوچھا جائے کہ کیوں پھنسایا گیا کیوں اس لئے کہ ہم مسلمان ہیں اور شریعت کے مطابق زندگی گذارنے میں یقین رکھتے ہیں نورالہدی نے اپنی بے گناہی پر دو ٹوک کہاکہ میں کسی بھی معاوضہ و ہر جانے سے بہلنے پھسلنے والا نہیں ہوں ۔ انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اصل سازش کو بے نقاب کرکے ان کو جیل بھیجا جائے جو قصور وار ہیں۔ 
نورالہدی کے مکان واقع جعفر نگر جھوپڑپٹی میں آج جشن کا سماں ہے اس کے مکان پر پھیکا گلابی آئیل پینٹ کیا گیا ہے ۔ اور پوری گلی میں اور مکان پر چھوٹے بڑے قمقمے گلی محلے کے لوگوں نے اپنی خوشی سے آراستہ کئے ہیں۔ ملنے جلنے والوں کا تانتا لگا ہوا ہے اسی لئے آج گھر کا ہر فرد موجود ہے ۔ بوڑھا باپ شمس الضحیٰ اور دیگر برادران بھی آج یہ خاندان پاورلوم مزدوری کیلئے ڈیوٹی پر نہیں گیا۔ خوشی کا عالم یہ ہے کہ گھر کے سارے بچے اور خواتین نے عید کے اٹھا رکھے گئے نئے کپڑے پہن رکھے ہیں ۔ نورالہدی کے والدنے کہا کہ ہمیں آج ادھوری خوشی ملی ہے سچی اور مکمل خوشی تو اس وقت ملتی جب حکومت سچائی جان لینے کے بعد مقدمہ واپس لے لیتی اور باعزت بری کرنے کا فیصلہ آتا۔ 
(۴) ’’ صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آیا‘‘ ( ابرار احمد غلام احمد )

’’ صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آیا‘‘ ابرار کی اپنے والدین کے گھر واپسی کا سماں اسی قول کی ترجمانی کررہا ہے ۔ 80سالہ بوڑھا باپ فرط مسرت سے روتے ہوئے اپنے لاڈلے بیٹے کو گلے لگا رہا ہے ۔ ایک دن وہ تھا جب اسی غیرت مند باپ نے اعلان کردیاتھا کہ اگر ابرار سرکاری گواہ بن گیا ہے تو اس کا ہمارے خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہم اس کا نام سننا بھی پسند نہیں کرتے ۔ آج وہ دن ہے جب ابرار سب کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا ہے ایک دن وہ تھا جب اس کے سرکاری گواہ بننے کی خبر سے پورے محلے میں غصے کی لہر پھیلی تھی اور اس عمارت کو لوگ نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے ۔ جہاں آج ابرار سے ملنے جلنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے ۔ ابرار کے بھائی فرید نے بتایا کہ پورا محلہ رات بھر جاگتا رہا۔ ابرار گھر پہنچا سبھوں نے اسکا استقبال کرلیا۔ تب لوگ کچھ دیر کیلئے سوگئے صبح سے پھر ملاقاتیوں کا تانتا ہے۔ ابرار نے اپنی بے گناہی کے سلسلے میں کہا کہ جب مجھے چارج شیٹ کے متعلق معلوم ہوا تو میں حیرت زدہ رہہ گیا۔ جن لوگوں کو میرے نام پر پھنسایا جارہا تھا ان میں سے اکثر کو میں تو جانتا تک نہیں تھا۔ سبھی ملزمین سے میری واقفیت کورٹ کی تاریخوں پر ہوئی۔ شبیر مسیح اللہ سے انورٹر کی خریدی کرتا تھا۔ اسی لئے تھوڑا تجارتی تعلق تھا ۔ باقی لوگوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ ابرا ر نے بتایا کہ میری حماقت کی وجہ سے میرے گھر والوں نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور بم دھماکوں کے بعد 30جنوری 2009والے دن میرے بھائی جلیل احمد پہلی بار جیل میں ملاقات کیلئے پہنچے تھے ۔ اس سے قبل تو بالکل اکیلا تھا۔ جیل میں میرا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ ابتدائی مہینوں میں اے ٹی ایس کے سدا نند پاٹل اور انسپکٹر سچن کدم کی جانب سے مجھے جیب خرچی کیلئے منی آرڈر ملا کرتے تھے یہ رقم دو ہزار سے لے کر پندرہ سو یا کبھی ایک ہزار بھی رہا کرتی تھی۔ ابرا رکے مطابق مجھے سرکاری گواہ بنانے کیلئے میرے سالے اور میری بیوی نے پولس سے ساز باز کی تھی اور مجھے تھپتھپائے رکھتے تھے ۔ جس وقت مجھے اپنے بھائی کی ہیبس کارپس رٹ پیٹشن کے عوض ممبئی ہائی کورٹ میں پیش کیا گیا تھا تب میں پولس والوں کی گھیرا بندی اور دباؤ میں تھا ۔ مجھے سچ بولنے سے روکا گیا تھا۔ لیکن جب میں نے سچ بولنے کی ٹھانی اور اپنے گھر پر خطوط لکھے تو کوئی سال دیڑھ سال تک جواب نہیں آیا میرے گھر والے سخت ناراض تھے ۔ میں نے تقریباً 65خطوط لکھے اور معافیاں مانگیں تب 30جنوری 2009کو میرے بھائی پہلی بار جیل میں آئے اور تلقین کی کہ جو بات سچ ہے وہی کہو گے تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے پھر میں نے اپریل مہینے میں نیا حلف نامہ لکھوایا اس سے قبل چار سال تک کیا چلتا رہا مجھے کچھ پتہ نہیں ۔ باہر کی دنیا سے مجھے لاعلم رکھا گیا ۔ بائیکلہ جیل میں مجھے اردو ٹائمز اخبار جون 2010سے ملنا شروع ہوا جس کیلئے میں نے باقاعدہ عریضہ دیا تھا کہ مجھے روز اخبار چاہئے ۔

میں نہ صرف اخبار والوں بلکہ سبھی علماء کرام اور مسلم تنظیمیوں کا کل جماعتی تنظیم و جمعتہ علماء کا شکر گذار ہوں ۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ جلیل انصاری نے جمعتہ علماء کے ذمہ داران ارشد مدنی ، محمود مدنی اور شفیق قاسمی وغیرہ کے خصوصی تعاون اور مستقل رابطہ کا ذکر بھی کیا اور سبھی مسلم تنظیموں کا شکریہ اداکیا۔ 
(۵) میں نے زندگی میں کبھی ابرار سے ملاقات نہیں کی تھی ( مولانا زاہد عبدالمجید) 

مولانا زاہدیوں تو جیل سے رہا ہوچکے ہیں لیکن ڈر ، خوف ، مصیبت ان کا پیچھا نہیں چھوڑرہی ہے اس با عمل صالح فکر انسان پر ابھی اور آزمائشوں کا دور باقی ہے آج شام جب ہم نے اس سے عائشہ نگر کے ایک مکان میں ملاقات کی تو وہ اپنی والدہ کا انتطار کرتے بیٹھا تھا۔ جو رہائی ملنے کے بعد اب تک اس سے نہیں مل سکی تھی مولانا زاہد کی سیمی سے وابستگی سے سخت نالاں والد عبدالمجید ماسٹر تو اس قدر ناراض ہیں کہ جیل سے آئے بچے کو اپنے گھر میں داخل ہونے تک کی اجازت نہیں دی۔ مجبوراً زاہد اپنی خالہ کے گھر چلا گیا اور وہیں مقیم ہے ۔ زاہد کو لینے کیلئے ممبئی تک اس کی ساس مونسہ اور بیوی سلمی بھی آئیں تھیں ۔ جو چار پانچ دن تک مفتی اسمعیل کے ایم ایل اے ہاسٹل میں رہائی کی منتظر تھیں ۔ بہرحال ان دونوں مونسہ اور سلمی کا اب اس دنیا میں زاہد کے علاوہ دوسرا سہارا نہیں ہے پانچ برس تک دوسروں کے گھر کے جھوٹے برتن مانجھ کر گذر بسر کرنے اور بہت مرتبہ فاقہ کشی کرنے والی یہ پرعزم خواتین آج بھی سچی خوشی کو ترس رہی ہیں ۔ زاہد کے والد عبدالمجید کو غلط فہمی ہے کہ اس کے سیمی سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ہی ان کے خاندان پر مصیبت کے پہاڑ ٹوٹے ۔ اسلحہ ضبطی کیس کے دوران زاہد کو تلاش کرنے والی پولس نے زاہد کی جگہ چھوٹے بھائی جاوید کو پکڑ لیا۔ لیکن اس غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے زاہد کہتے ہیں کہ پولس نے جان بوجھ کر جاوید کو پھنسایا وہ میرے ساتھ آرتھر روڈ جیل میں ایک ہی کمرے میں بند تھا اسی لئے میں سارے حقائق جانتا ہوں۔ ہم دونوں بھائیوں میں آپسی محبت و اخلاص ہے اور کہیں کوئی غلط فہمی نہیں ہے ۔ زاہد کو آج ساڑھے سات سال کے بعد مالیگاؤں میں داخلہ نصیب ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بار بار کی پولس چھان بین سے وہ 2004میں ہی ہجرت کرکے خاموشی سے پوسد کے قریب ایک گاؤں میں امامت کرنے لگا تھا۔ تب سے اس نے مالیگاؤں کا رخ کرنا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن اے ٹی ایس نے اس کو جھوٹے الزام میں جب پھنسایا تو اردو ٹائمز کی ٹیم نے ہی سب سے پہلے پوسد پہنچ کر حقائق کا پتہ لگایا اور گاؤں والوں سے معلوم کرنے پر یہ انکشاف ہوا کہ زاہد مولانا تو بم دھماکے والے دن مسجد میں ہی موجود تھے جس کی گواہی کل جماعتی تنظیم کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کو اجتماعی حلف نامہ کی صورت میں دی گئی۔ جب کہ اے ٹی ایس نے الزام رکھا کہ ابرار کے ساتھ مل کر زاہد نے مشاورت چوک میں بم رکھا۔ آج زاہد نے کہا کہ میں نے زندگی میں کبھی ابرار سے ملاقات نہیں کی تھی ۔ نہ ہی میں اسے نام و شکل سے جانتا تھا۔
پانچ سالہ قید و بند کے دوران زاہد نے حفظ قرآن مکمل کرلیا اور جیل میں گذشتہ دو سال سے ماہِ رمضان میں تراویح کی امامت بھی فرمائی ۔ اب مستقبل میں وہ مالیگاؤں کی ہی کسی مسجد میں امامت و معلمی کا پیشہ اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔ 
(۶) پوری ملت کی ترجمانی اردو ٹائمز کے ذریعے ہورہی تھی (رئیس احمد رجب علی) 

انورٹر کے کاروبار میں اپنے بہنوی شبیر احمد مسیح اللہ کا ہاتھ بٹانے کی سزا پانے والے رئیس احمد آج اپنی رہائی پر بہت خوش و خرم ہیں اپنے بچوں کی تعلیمی پیش رفت کو جان کر ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں اور ساتھ ہی ان کے جیل جانے کے چند دنوں بعد ہی ولادت پانے والی معصو م عائشہ اب پانچ سال کی ہوگئی ۔ اور جے اے ٹی اسکول کی جونئیر کے جی میں زیر تعلیم ہے ۔ اس بچی کو پہلی بار اپنے باپ کی گود نصیب ہوئی۔ ان کے دیگر بچوں میں بڑی بیٹی فرحین بارہویں جماعت میں نمایاں نمبرات حاصل کرنے کے بعد ڈی ایڈ کورس میں زیر تعلیم ہے اور معلمہ بننے کی تیاری کررہی ہے۔ بڑا بیٹا دانش بارہویں میں زیر تعلیم ہے ۔ اس نے باپ کی جدائی کے صدمہ کے باوجود SSCمیں اچھی پوزیشن حاصل کی ۔ اور کئی مقابلوں میں حصہ لے کر انعامات حاصل کئے ۔ فائزہ گیارہویں اور اسامہ ساتویں جماعت میں پڑھ رہے ہیں ۔ سارے بچے باپ کو گھیرے ہوئے ہیں اور گھر کے باہر برقی قمقموں کی لڑیاں یہ ظاہر کررہی ہیں کہ رئیس رجب کی رہائی میں پورا محلہ خوش دشرسار ہے ۔ کثیر العیال خاندان کی کفالت کرنے والے رئیس کے خاندان کو اس کے سالے خلیل احمد نے خوب کوب سہارا دیا۔ اور جمیل مسیح اللہ کی مسیحائی بھی رنگ لائی ۔ جنھوں نے تمام قانونی معاملات کو دیکھا۔ جیل کے اندر موقع ملنے پر رئیس نے پہلی بار ناظرۂ ختم قرآن کی سعادت حاصل کی ۔ اور اسلحہ ضبطی کیس کے ملزم بلال کاتب ان کے عربی کے استاذ تھے۔ اس کامیابی میں اردو اخبارات کے کردار پر بات کرتے ہوئے رئیس احمدرجب علی نے تمام اردو اخبارات سمیت اردو ٹائمز کی جم کر تعریف کی اور کہا کہ یہی اخبار ہمیں جیل میں میسر تھا اور ہم اس کی خبروں سے انداز لگا رہے تھے کہ ہماری بے گناہی پر ہم اکیلے آنسو نہیں بہارہے ہیں ۔ بلکہ پوری ملت کی ترجمانی اردو ٹائمز کے ذریعے ہورہی تھی ۔
(۷) قید و بند نے ڈاکٹر فروغ مخدومی کو ایڈوکیٹ کا کردار نبھانے پر مجبور کیا 

اس ساز ش کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پھنسائے گئے سبھی ملزمین میرے لئے انجان تھے سوائے شبیر احمد مسیح اللہ کے میں کسی کو نہیں جانتا تھا۔ا ور شبیر احمد سے بھی معمولی تعلقات تھے اور7مئی 2006کونورالہدی کی شادی کی تقریب میں جس سازشی میٹنگ کا تذکرہ چارج شیٹ میں لگایا گیا ہے اسی دن تو میرے بیٹے حسن کی پیدائش کی خوشی میں تقریب عقیقہ تھی سارے دوست احباب میرے گھر دعوت پر تھے ۔ ڈاکٹر مخدومی نے دعوی کیا کہ اگر سی بی آئی غیر معمولی تاخیر نہ کرتی اور مکوکا پر سپریم کورٹ میں میں دائر جمعتہ علماء کی پٹیشن کے سبب سماعت پر اسٹے آرڈر نہیں ملتا تب میں اپنی ذاتی جرح کی بدولت کیس سے باعزت بری ہوجاتا ۔ لیکن حالات نے ساتھ نہیں دیا اور جمعتہ علماء نے جن وکلاء کی خدمات حاصل کررکھی تھیں ان کو ہمارے مقدمہ پر توجہ دینے کی زیادہ فرصت نہیں تھی اسی لئے میں نے جج کو ڈسچارج عریضہ دے کر خود بحث کا آغاز کیا جو 3ماہ کے دوران پوری ہوئی میری اٹھارہ گھنٹہ کی بحث مجھے بے قصور ثابت کرنے کیلئے کافی تھی ۔ پیشے سے ڈاکٹر رہنے کے باوجود 2003میں LLBمیں داخلہ لینے والے ڈاکٹر مخدومی کو وکالت اور قانون کی تعلیم سے دلچسپی جیل میں خوب کام آئی اس نے جیل کے اندر اسے اپنا مشغلہ بنا لیا۔ بہت سارے ملزمین کیلئے عریضہ تیار کرنا۔ پٹیشن لکھنا اور عدالت سے انصاف دلانا اس کا معمول تھا۔ آرتھر روڈ میں ڈاکٹر فروغ مخدومی ، ایڈوکیٹ مخدومی کے نام سے مشہور ہوئے اپنے ساتھی ملزمین کی خوب مدد کی۔ ڈاکٹر مخدومی نے خود بتایا کہ پہلے ایک سال میں نے اے ٹی ایس کی چارج شیٹ کا مطالعہ کیا اور دوسرے سال اس کا اردو ترجمہ کرکے اپنے دیگر بے قصور ساتھیوں کو بتلایا ۔ میں نے فارغ اوقات میں RTIقانون کا فائدہ لیتے ہوئے اپنے لئے اور دیگر ہندو مسلم ملزمین کیلئے عریضے تیار کرکے ان کی قانونی مدد کی۔
فروغ مخدومی کے والد اقبا ل مخدومی نے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں اپنے ساتھی جمیل مسیح اللہ کے ساتھ مل کر غیر معمولی جدوجہد کی ہے جس کا اعتراف سبھی ملزمین کے رشتہ دار کرتے ہیں۔ اقبال مخدموی نے بتایا کہ میرا بیٹا تصویر کشی نہیں چاہتا اسی لئے جیل سے نکلنے کے بعد ہم لوگ سیدھے اس کے قریبی دوست کے گھر گئے پھر دفتر جمعیت علماء ( امام باڑہ) پہنچے اور وہاں سے مسجد اہلحدیث مومن پورہ گئے پھر مالیگاؤں پہنچ کر مشاورت چوک اور دفتر جمعتہ علماء تک گئے ۔ ہم نے سب سے مل کر شکریہ ادا کیا۔ ہمیں ہر طبقہ کا تعاون ملا ہے۔ 
***
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP