You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Friday, March 25, 2011

اسکالر شپ امتحان

حکومت مہاراشٹر کی طرف سے چہارم اور ہفتم جماعتوں کے بچوں کے لۓ اسکالر شپ کے امتحانات ہوتے ہیں ۔ اس امتحان میں بہت کم یعنی کہ ٪ 10 بھی بچے شریک نہیں ہوتے ہیں ۔اس لۓ زیادہ تر بچوں کو مقابلہ جاتی امتحانات کا طریقہء کار سوالات کے نمونے ، جوابات لکھنے کا طریقہ معلو م نہیں ہوتا ہے ۔ جس کے سبب سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر میں اردو اسکولوں کے طلباء کی نمائندگی 2 سے 4 فی صد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔مقابلہ جاتی امتحان کے طریقہءکار سے واقفیت کے لۓ اور انھیں مستقبل میں ایسے امتحانات میں شرکت کی ترغیب دینے کے لۓ اور غیر محسوس طریقے سے مقابلہ جاتی امتحانات کے لۓ تیار کروانے کے لۓ یہ امتحان لیا جاتاہے یہ امتجان جماعت پنجم سے جماعت نویں جماعت کے طلباء کے لۓ لیا جاتا ہے جو کہ پورے نصاب پر مشتمل ہوتا ہے۔ تمام مضامین میں سے سوالات پوچھے جاتے ہیں ۔مقابلاجاتی امتحان کی طرح ایک سوال کے چار متبادل جوابات ديۓ جاتے ہیں ۔صحیح جواب کا نمبر چوکون میں لکھنا ہوتا ہے ۔ گل بوٹے اسکالر شپ امتحان کا انعقاد پوری ریاست مہاراشٹر ميں بروز سنیچر مورخہ 19 مارچ 2011ء کوکیا گیا ۔ اس امتحان میں پوری ریاست میں videoسولہ ہزار بچوں نے شرکت کیں ۔اس امتحان میں 90فیصد سے زائد نمبرات حاصل کرنے والے طلباء کو 500 ( پانچ سو روپۓ ) کی اسکالر شپ اور سرٹیفکٹ دیا جاۓ گا ۔60 فیصد سے زائد مارکس حاصل کرنے والے طلباء کو گل بوٹے اور مہاراشٹر مائناریٹی کمیشن کی طرف سے سرٹیفکٹ دیا جاتا ہے ۔ ممبئی میں انجمن اسلام بلاسس روڈ گرلس ہائی اسکول و جونیئر کالج میں اس مقابلہ جاتی امتحان کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ مہاراشٹر مائناریٹی کمیشن کے چیئرمین جناب محمد نسیم صدیقی صاحب دوران امتحان وہاں موجود تھے ۔ اور امتحان گاہ کے ہر کمرہ میں جاکر بچوں کی حوصلہ افزائی کررہے تھے ۔ ہر بچے سے مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہے تھے ۔ بچے اور وہاں کا اسٹاف بھی بہت خوش نظر آرہا تھا ۔دوران گفتگو انھوں نے کہا کہ تعلیم ہر کے لۓ ضروری ہے وہ پورا تعاون کریں گۓ

سفیر امن و محبت ، سفیر علم و ہنر

تقدس مآب ڈاکٹر سیّدنا برہان الدین 25 مارچ کو ایک سو سال کے ہو گۓ اس روز وہ حسب معمول پورا دن اپنے معتقدین یعنی کہ دس لاکھ افراد پر مشتمل داؤدی بوہرہ فرقہ کے درمیان گزاریں ۔روحانی پیشوا اخلاقی نگراں حقیقت پسند مشیر اور شفیق باپ کی حیّثیت سے وہ اس قوم کے بصیر قائد رہے ہیں ۔اس سلسلہ میں 100 برس کے دوران 47 سال کے عرصہ میں تاریخ نے وسیع تر پیمانے پر بہت کچھ ظاہر کیا ہے سیّدنا کہتے ہیں کہ مذہب محبت کے سوا کچھ بھی نہیں اور اسی اصول پر ان کی زندگی کے کام مبنی ہیں ہزاروں افراد بلا تفرق مذہب و ملّت ان کے کاموں سے متاثر ہیں ۔اپنے والد کی جانشین کے طور پر قوم کے سربراہ بننے کے بعد 47 برس میں قوم کی سماجی معاشی اور روحانی ترقی کے لۓ موصوف نے پوری ذھنی یکسوئی کے ساتھ کام کیا ۔ بیماروں کے لے سیّدنا نے طبی سہولتوں کے انتظام کی حوصلہ افزائی کی ۔ سیفی اہسپتال ممبئی میں اعلی درجہ کا طبی ادارہ مانا جاتا ہے ۔تعلیم کے سلسلہ میں وہ اسکولوں ۔ کالجوں کی مھھ کرتے ہیں ۔گرانٹ اور تعلیمی امداد کا انتظام کرتے ہیں ۔اور ہر لمحہ وہ خدمت خلق میں مصروف رہتے ہیں ۔ ڈاکٹر سیّدنا محمد برہان الدین ( طعش) کے 100 ویں میلاد مبارک کے موقع پر لنترانی کی ٹیم دل کی عمیق گہرائیوں اور‏عزت و احترام کے ساتھ مبارک باد پیش کرتیں ہیں ۔اور دیا کرتے ہیں اللہ تعالی انہیں اپنی مقدس رحمتوں سے نوازے اور عالمی داؤدی بوہرہ جماعت کی امن ، ترقی اور خوشحالی کے لۓ مسلسل رہبری کے لۓ انہیں اخھی صحت کے ساتھ طویل عمر عطا کرے آمین

بھون ، کا لینہ کیمپس

ممبئی یو نیورسٹی کا لینہ میں رنگا ئن و سنت ڈراما میلہ
اردو ڈراما ’’عصمت آپا کے نام !‘‘ کے علاوہ رنگارنگ ڈراموں کی پیشکش ،داخلہ مفت
رپورٹ: اقبال نیازی
ممبئی یونیورسٹی نے کالینہ کیمپس میں’’ اکاڈمی آف تھیٹر آرٹس ‘‘ کے تحت ایک باقا عدہ مکمل شعبہ قائم کر دیا ہے،جہاں تھیٹر اور ڈرامو ں کی تر بیت دی جاتی ہے، پو سٹ گریجویشن سطح کا یہ شعبہ اب تک متعدد ف
نکار اردو ہندی ، مراٹھی اسٹیج کے لیے فراہم کر چکا ہے۔ اس کے ڈائر یکٹر اور صدر شعبہ مشہور ہدایت کار وامن کیندرے ہیں۔یہ شعبہ ہر سال کالینہ کیمپس میں ایک کل ہندسطح کے ڈرا ما فیسٹول کا انعقاد بھی کرتا ہے جس میں ہندوستان کے اہم ہدایت کاروں کے معیاری ڈرامے پیش کیے جاتے ہیں۔ امسال اکاڈمی آف تھیٹر آرٹس کا یہ سالانہ چھٹا ڈراما فیسٹول جسے ’’رنگائین و سنت ڈراما میلہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ویسٹ زون کلچرل سنٹر اودے پورکے تعاون سے ۲۱ مارچ بروز پیر سے ۲۸ مارچ تک کسما گراج مراٹھی بھاشا بھون اور مکت آکاش رنگ منچ کالینہ کیمپس میں ہونے جا رہا ہے۔ اس انوکھے ڈراما میلہ کا افتتاح شریمی و جیا مہتا کر یں گی اور نامور فلم اور تھیٹر اداکار پریش راول مہمانِ خصوصی
ہو ں گے ۔صدارت ممبئی یو نیورسٹی کے وائس کانسلر ڈاکٹر راجن ویلو کر کریں گے ۔ اس فیسٹول میں اردو ، مراٹھی ، ہندی ، انگریزی اور آسامی کے کل ۹ ڈرامے پیش کیے جا ئیں گے۔ اور مشہور ہدایتکار ان، علیق پدمسی ،نصیرالدین شاہ، فیروزعباّس خان،بنسی کول، ڈاکٹر کنک ریلے، کے ڈراموں میں شبانہ اعظمی ،
پری زاد زورابین، نصیرالدین شاہ، حبّہ شاہ، رتنا پا ٹھک شاہ جیسے فنکار اپنی اداکارانہ جو ہر کے خوبصو رت نمو نے اسٹیج پر پیش کر یں گے۔ اس فیسٹول میں اردو ڈراما ’’عصمت آپا کے نام‘‘ بھی پیش کیا جائے گا جس میں عصمت چغتائی کی تین کہانیاں چھوئی مو ئی، بغل بچہ ، اور گھر والی پیش کی جائیں گی۔ ذیل میں ڈراموں فیسٹول کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔ اس میں داخلہ مفت ہے۔ فری انٹری پاس حاصل کر نے کے لیے ان نمبروں پر رابطہ قا ئم کر یں۔ ڈاکٹر منگیش 9920420388 * ملند انعامدار9820686506
* پیر ۲۱ مارچ شام6.30بجے : فیسٹول کا افتتاح اور مراٹھی ڈراما ’’گھاشی رام کو توال‘‘ ( ہدایت کار وجئے گو وند) مراٹھی بھا شا
* منگل ۲۲ مارچ شام ۷ بجے:’’ڈنر وتھ فرینڈز‘‘ (انگریزی) ہدایت کار فیروز عبّاس خان
* بدھ۲۳ مارچ شام ۷ بجے:رنگ و دوشک کا ہندی ڈراما’’تکّے پہ تکّا ‘‘ (ہدایت کار: بنسی کول ، بھوپال)
* جمعرات۲۴ مارچ شام ۷ بجے:’’بھوائی (گجراتی کے فوک فارم پر مبنی ڈراما) مکت آکاش رنگ منچ
* جمعہ۲۵ مارچ شام ۷ بجے:’’ایک شام عصمت کے نام!‘‘ ( اردو ہدایت کار : نصیرالدین شاہ: مراٹھی بھا شا بھون)
* سنیچر ۲۶ مارچ شام ۷ بجے:’’انیلا ئیٹیڈ ون ۔ ۔ گو تم بدھا‘‘ ڈانس ڈراما (ہدایت کار: ڈاکٹر کنک ریلے)
* اتوار ۲۷ مارچ شام ۴ بجے:گٹی پلھور گموسا( آسامی ڈراما)
* اتوار ۲۷ مارچ شام ۷ بجے:این وسنت اردھیہ راتری (مراٹھی ڈراما شیکسپیر کے مڈ سمر نا ئٹ ڈریم پر مبنی) ہدایت کار : ملند انعامدار
*پیر ۲۸ مارچ شام 6.30 بجے:فیسٹول کا اختتامی پروگرام اور انگریزی ڈراما ’’بروکن امیجیس‘‘ شبانہ اعظمی کا سولو پر فارمنس(ہدایت کار : علیق پدمسی)
اس کے علاوہ ۲۹،۳۰ اور۳۱رمارچ کی شام 6.30بجے اکاڈمی آف تھیٹر آرٹس کے طلبہ ڈرامے ’’ہم رہے نا ہم‘‘اور ’’کورٹ مارشل ‘‘کے شوز مکت آکاش رنگ منچ کا لینہ کیمپس میں ہوں گے۔

ناداں گرپڑے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا

امام الحرمین شریفین کا دورۂ ہند ، اور ایک دینی جماعت کی جانب سے عظمت صحابہ کانفرنس ایک مسرت کن خبر ہے ۔ لیکن جب حالات کا بغور جائزہ لیں تو کچھ ایسی باتیں محسوس ہونے لگتی ہیں جنھیں سوچ کر ہی دل بیٹھا جاتا ہے۔ شروع میں دو ایک اخبارات نے اس کانفرنس ، شیخ کے دور ے کے فوائد اور اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی کوشِش کی لیکن اس کی پاداش میں ان تبصرہ نگاروں کو کافی تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔ صحیح ہے اتنے بڑے اور مبارک موقع پر تبصرہ نگاروں کی اس طرح کی حرکت ہر کسی کو ناگوار ضرور گزرے گی۔ اس پر ذرا غور کریں تو کچھ اور شبہات نظر آنے لگتے ہیں۔ جب لیبیا، بحرین، یمن اور شام سلگ رہے ہیں ایسے میں شیخ کا ہند میں آنا بے مطلب نہیں لگتا۔ کچھ دنوں پہلے ہی ایک اور اسلامی تنظیم نے شیخ صاحب کوایک دعوتی اجتماع میں مدعو کیا ۔ ملک ہی نہیں دنیا بھر میں دعوت نامے تقسیم کیے گئے۔ ٹی۔وی ، اخبارات ،پوسٹرس ،ہورڈنگس اور پمفلٹس غرض تقریباًتمام ذرائع ابلاغ کا استعمال کیا گیا۔ مگر عین وقت جب تیاری مکمل ہوچکی شیخ کے آنے سے ایک دن پہلے بھی اعلانات جاری تھے کہ کل کی نماز شیخ پڑھائینگے، مگرایسا نہ ہوا شاید عرب حکومتوں نے شیخ کو بھیجنا گوارہ نہ کیابالآخر شیخ السدیس کے ایک متبادل کو روانہ کیا جنھوں نے متعلقہ کانفرنس میں شیخ السدیس کے فرائض انجام دیے۔
اب جب کہ سارا وسط ایشاء (عرب مملکتیں) جل رہی ہیں اچانک امام الحرمین کو یہاں آنے کی سوجھی اس پر بھی ظلم کے اس بڑھتی بدامنی کو شیعہ سنی رخ دینے میں مدد گار بننے چلے آئے ۔یہاں آکر شیخ صاحب نے ملک کی تمام بڑی تحریکات کے دفاتر پر حاضری دی ان دوروں میں بھی یہ بات خاص ذہن میں رکھی گئی کہ کسی شیعہ عالم دین یا اہل تشیع کی کسی اسلامی تنظیم سے ملاقات نہ ہو ۔
آج جہاں ملت اسلامیہ کو اتحاد کی ضرورت ہے وہاں پر عظمت صحابہ کانفرنس کے انعقاد میں بھی ہندوستان کی ملت اسلامیہ میں انتشار کے بیج بونے کا ایک ذریعہ بن گئی ۔ افسوس کہ امت کی ان جلیل القدر ہستیوں کی عظمت کے نام پر امت کے انتشار کو ہوا دی گئی۔ بھلا وہ کو ن بد بخت مسلمان ہوگا جسے صحابہ رضوان اللہ علیم اجمعین کی عظمتوں کا اعتراف نہ ہو۔ امام حرم ایک غیر سیاسی شخصیت ہیں لیکن ان سیاسی داؤ پیچ سے وہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ عالمِ اسلام کی موجودہ صورتحال میں امت کے اتحاد پر کوئی کانفرنس ہوتی ۔ جس میں وسط ایشاء میں بدلتے ہوئے سیاسی حالات اور ان پر یوروپی اقوام کی یلغار کا ملت اسلامیہ کسی طرح مقابلہ کرے ۔ اس پر رہنمائی کی جاتی مگر افسوس صد افسوس ایسا کچھ نہ ہوا ، او ر جو کچھ بھی ہوا وہ صرف قابلِ افسوس ہی رہا۔
امام الحرم کا یہ دورہ جو شام ، لبنان، یمن ،بحرین یا کم از کم لیبیا کے بجائے ہند میں ہوا اسکے متعلق علامہ اقبال کے شعر کا یہ مصرعہ ہی بار بار میرے ذہن میں گونج رہا ہے کہ ’’ ناداں گرپڑے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا‘‘

عبدالمقیت عبدالقدیر ، بھوکر
9867368440

Sunday, March 20, 2011

شکوہ جواب شکوہ

کش مکش ''علامہ اقبال کی مشہور نظموں ،شکوہ جواب شکوہ سے ماخوذ نہرو سینٹر کی تیار کردہ تازہ تمثیل ہے ۔جسے داستان گوئی ، شاعری ، موسیقی اور گائکی کے منفرد اور انوکھے اندازو امتزاج کے ساتھ تشکیل دیا گیا یہ پروگرام نہرو سینٹر کے آڈیئوریم ورلی میں بروز منگل 15 مارچ 2011ء کو شام 6 بجے پیش کیا گیا ۔شکوہ جواب شکوہ کے کئی منتخب حصوں کے ساتھ اس تمثیل کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ از تخلیق آدم تا ایں دم خیروشر کی کش مکش اجاگر ہوتی جاتی ہے اور بالاخرخیر کی فوقیت خداۓ واحدکی کلیّت آفاقی ۔ عالمی اور ہندوستانی سیاق میں ابھر آتی ہے ۔اس خوبصورت پیش کش کا تصور اور ہدایت کاری جناب لطافت قاضی ڈائریکٹر کلچرنہرو سینٹر کی تھی ۔اسکرپٹ خود لطافت قاضی اور شاعر سہیل وارثی کی محنت کا ثمر تھا ۔اور کئی مرحلوں پر ارتباط اور گیت مشہور شاعر عبدالاحد ساز کے تخلیق کردہ تھے ۔مشہور و معروف موسیقار و گلوکار سراج خان کے ساتھ سروج سمن ، پنکج جنوارا ، اجۓ بھاٹیہ ، تاجدار خان نے موسیقی و گلوکاری سے ایک خوابوں جیسا سماں باندھ دیا۔نہرو سینٹر کی اس اچھوتی پیش کس کو دیکھ کر سامعین عش عش کہ اٹھے ۔یہ پیش کش بہت کامیاب رہی ۔

میں غزل ہوں





Thursday, March 17, 2011

ایوارڈس کی تقسیم

اردو علمی و ادبی حلقے میں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کے تقسیم ایوارڈس کے اعلان سے خوشی کی لہر دوڑ پڑی ۔اور یہ مبارک اور خوشیوں بھرا لمحہ بروز پیر مورخہ 14 مارچ 2011ء شام کو 6 بجےبمقام وائی بی چوان پرتشٹھان، نزد منترالیہ میں آیا ۔ جہاں پر اردو ادب کے بے شمار ستارے اپنی آب وتاب کے ساتھ چمک رہے تھے ۔ اس تقریب کا افتتاح ممبر سیکریٹری اردو اکادمی ڈاکٹر قاسم امام صا حب نے

خوبصورت انداز میں کیا اس تقریب کے موقع پر مہاراشٹر کے وزیر اعلی عزت مآب پرتھوی راج چوہان صاحب کے ہاتھوں ،وزیر اقلیتی ترقیات اکادمی عالی جناب عارف نسیم خان اور محترمہ فوزیہ خان جو وزیر مملکت اقلیتی ترقیات و نائـب صدر اکادمی کے ہاتھوں ایوارڈس یافتگان کو ایوا رڈس سے نوازا گیا ۔اس موقع پر پوری ریاست سے اہم شخصیات موجود تھیں ۔ ادب کے گیارہ شعبوں میں ایوارڈس دیۓ گۓ۔سنت گیانیشوری قومی انعام یوسف ناظم ( بعد از مرگ ) ولی دکنی قومی انعام ساگر سرحدی ،سراج اورنگ آبادی ریاستی انعام ،عبدالاحد ساز،سیتو مادھو راؤ پگڑی انعام بشیر احمد انصاری ساحر لدھیانوی ایوارڈ عرفان جعفری ،خصوصی انعام ڈاکٹر کلیم ضیاء مبارک کاپڑی محمد ایوب واقف ،اور انصاری محمود پرویز اس کے علاوہ صحافتی ایوارڈس ، فکشن ،

بچوں کا ادب شاعری تنقید و تحقیق، ترجمہ وطنز ومزاح کے لۓ بہت ساری شخصیات کو 2004 سے2008 تک کے لۓ ایوارڈس دیۓ گۓ اس موقع پر وزیر اعلی نے یہ وعدہ کیا کہ اردو کے فروغ کے لۓ سرکار ہر طرح کا تعاون دے گی اور جلد ہی ریاست میں تین اردو گھر بناۓ جائيں گے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اردو زبان صرف شعر و شاعری ۔مشاعرے اور غزلیات میں نہ رہے بلکہ اس سے روزی روٹی بھی جوڑی جاسکے ۔ یہ پروگرام کافی کامیاب رہا اس پروگرام کو انجام دینے کا سہرا اکادمی کے ممبر سیکریٹری جناب قاسم امام صاحب اور خورشید صدیقی ، فاروق انصاری ، انواراعظمی ،محمد شکیل شیخ رہے۔ ‎


ایک غزل

جستجومیں قیس کی اک دن جو صحراآۓ گا
لیلی محمل کو پھر ذوق تماشا آۓ گآ
تا فلک پھیلا ہوا ہے پھر غبار ناتواں
دیکھنا ہے اس گلی سے کب بلاوا آۓ گآ
اے جنوں ! پھر دیکھیو ہم کو کبھی مستے وجود
آسماں پھر آنکھ میں ، مٹھی میں صحرا آۓ گا
سطح دریا پر تو کتنے نقش بن کر مٹ چکے
آئنہ بھی دیکھنا ،اب مّثل دریا آۓ گا
پھر بکھرتی ، ٹوٹی جاتی ہے ۔یہ تسبیح زیست
کیا پرونے اس کے دانوں کو وہ دھاگا آۓ گآ
( محمد مجاہد سیّد ، جدّہ)

نمائش







ستاروں کی آکاش گنگا نے '' کینسر ایڈ اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے ذریعے ایک نایاب مصّوری کی نمائش و سیل بہ اشتراک
کینسر ا
یڈ اینڈ ریسرچ فاؤڈیشن اور ایراوت کے ( آرٹ آف لیوینگ )آرٹ اور مصوری ( پینٹنگ ) کا اہتمام پہلے پرنس آف ویلس میوزیم ، کمار سوامی ہال کالا گھوڑا ممبئی میں منعقد کی گئی ۔بروز جمعرات مورخہ 10 مارچ 2011ء کو
بالی ووڈ کی جانی مانی ہستیوں کے ہاتھوں سے ہوا ۔اس نمائش کا افتتاح فلم پروڈیوسر جناب ساجد نڈیاڈوالا نے شمع روشن ک
ر کے کیا ۔ اس موقع پر جناب سریش شیٹی ،
جناب ک
رن شانتارام ،سنگتا اہیر ، ساجد خان اور فلم ایکٹریس زرین خان ،نریندرورما اور تمام آرٹیسٹ موجود تھے ۔اس نمائش کا خاص مقصد تھا کہ اس سے جو بھی انکم ہوگی وہ کینسر کے مریضوں کے لۓ خرچ کی جاۓ گی ۔ یہ نمائش 10 مارچ سے 15 مارچ تک لگائی گئی تھیں ۔ اس میں 130 پینٹنگس اور 30 اسکلپٹرس رکھے گۓ تھے ۔سب سے قیمتی مصوری کی قیمت 7 لاکھ تھیں ۔

Wednesday, March 16, 2011

مشاعرہ کھڑکی میں : تصویروں کے زبانی

Tuesday, March 15, 2011

بنت ہند

انجمن اسلام سی ایس ٹی میں واقع کریمی لائبریری میں منگل 8مارچ کو 100 ویں عالمی خواتین کے موقع پر پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں مختلف مقامات پر عوامی خدمات انجام دینے والی اور مختلف شعبوں میں کارہاۓ انجام دینے والی 10 خواتین کو ''بنت ہند''نامی ایوارڈ سے نواز کر خراج تحسین پیش کیا گیا ۔اس پروگرام کا انعقاد ''نیڈس ''نامی غیر سرکاری تنظیم نے کیا تھا ۔نیڈس نے لگاتار یہ پروگرام چوتھے برس عالمی یوم خواتین کے موقع پر منعقد کیا تھا ۔ جس میں ایسی خواتین کو ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ جو سماج میں دیگر خواتین کے لۓ مشعل راہ ثابت ہو سکتی ہے ۔اس پروگرام میں مہمان خصوصی انجمن کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی تھے ۔ جبکہ نظامت کے فرائض خان آصف علی اور صحافی سلیم الوارے نے انجام دیں ۔ اس پروگرام میں ٹیستا سیتلواد ،مسسز عابدہ پی انعامدار ،ممتاز پیر بھائی ،نادرہ ظہیر ببّر ،پروفیسر مسسز فاروق سیدہ وارثی ،ریحانہ بستی والا ،مسسز ھومائی این مودی ،روٹا ساونت اھوارڈ، سائرہ پٹیل اور ڈاکٹر رابعہ ایف ملا کو ڈاکٹر ظہیر قاضی صاحب کے ہاتھوں ایوارڈ س سے نوازا گیا ۔

یوم نسواں

پرواز'' کے زیر اہتمام حج ہاؤس ممبئی میں یوم نسواں کے موقع پر ایک سیمنار بعنوان ''خواتین کے مسائل اور ان کا حل '' اس طرح کی ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی ۔اس پروگرام کے مہمان خصوصی وزیر داخلہ آر آر پاٹل تھے ۔ اور شہر کی اہم ترین شخصیات موجود تھیں۔ اس تقریب میں خطاب کرتے ہوۓ آر آرپاٹل نے اقلیتوں کے مسائل پر مفصّل روشنی ڈالی اور اس پروگرام کی کنوینر سعدیہ مرچنٹ کی طرف سے پوچھے گۓ سوالات کا جواب دیتے ہوے یقین دہائی کروائی کہ حکومت
مہاراشٹر ہر شعبہ میں اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کو مناسب نمائندگی دینے کی کوشش کررہی ہے اور اس ضمن میں کاروائی بھی شروع کی جاچکی ہے ۔اور حکومت خواتین کو تحفّظ فراہم کرنے کے عہد کی پابند ہے ۔انھوں نے سعدیہ مرچنٹ کی کاوشوں کو کافی سراہا اور کہا کہ اس طرح کے پروگرام میں شرکت کرنے سے قلبی سکون ملتا ہے ۔اور یہ دیکھ کر مسرت ہوتی ہے کہ مہاراشٹر میں اقلیتی سماج بالخصوص مسلم خواتین میں بیداری کی لہر پیدا ہورہی ہے ۔بعد ازیں سعدیہ مرچنٹ نے پروگرام کی غرض وعافیت بیان کیں ۔وہاں ایک ڈرامہ کلپنا نامی پیش کیا گیا ۔حس کو سب نے سراہا ۔وزیر داخلہ کے ہاتھوں ڈاکٹر غزالہ ناروی ، ڈاکٹر حمیدہ رضوی ،اور اسمی گروپ کے فنکاروں کو گلدستہ اور مومینٹو دے کران کی حوصلہ افزائی کی گئ۔سب سے اہم بات یہ ہوئ کہ ممبی میں 26 نومبر کے دہشت گردانہ حملے کی متاثرہ خاتون صابرہ خان کا نام جب مومینٹو کے لۓ پکارا گیا تو آر آر پاٹل سمیت تمام مہمانان اسٹیج سے اتر کر آے اور انھیں بڑے احترام سے مومینٹو پیش کیا ۔ اس پروگرام کی نظامت پروفیسر عائشہ نے کیں ۔یہ پروگرام کافی کامیاب رہا ۔

Thursday, March 10, 2011

یوم نسواں اردو مرکز میں

یوم خواتین ''کے موقع پراردو مرکز ممبئی میں اردو مرکزکی بزم خواتین کی نشست بروز منگل مورخہ 8 مارچ 2011ء کو اردو زبان کے فرو‏ غ و ادب کے لۓ منعقد کی گئی ۔اس پروگرام کی صدارت محترمہ مریم ‏غزالہ نے کیں اور نظامت کے فرائض پروفیسر عائشہ شیخ نے ادا کۓ ۔اس پروگرام کے ابتداء میں اردو مرکز کے ڈائریکٹر ایڈوکیٹ زبیر اعظم اعظمی اور فرید خان نے اظہار خیال

کیا ۔جس کے بعد ایڈوکیٹ ریکھا روشنی نے قانون سے متعلق معلومات دیں ۔ رخسانہ صبا ء اور
ممتاز نکہت نے عالمی یوم خواتین اور خواتین کی صورت حال پر اپنے خیالات اور تاثرات بیان کۓ ۔ اس کے بعد ایک شعری نشست رکھی گئی ۔جس میں متعدد شاعرات نے اپنا کلام سناکر سامعین کو محظوظ کیا ۔اس موقع پر شہر کی جانی مانی اہم شخصیات موجود تھیں ۔نعیمہ امتیاز ،فریدہ منصوری ،تاج بانو خان ،ریکھا روشنی ،رخسانہ صباء شکیلہ انصاری ،ممتاز نکہت ، فاطمہ انیس ،عزیزہ موزہ والا ، ڈاکٹر نغمہ جاوید ملک ، فریدہ ساز عزرا خان اور سب سے اہم شخصیت انجمن اسلام کی سیکنڈری اسکول کی ڈائریکٹر سلمہ لوکھنڈوالہ صاحبہ موجود تھیں ۔تمام خواتین کے چہروں پر مسکراہٹ تھیں ۔وہاں کی تمام خواتین نے ایک سر میں کہا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ اردو مرکز میں آکر ایسا لگتا ہے کہ یہ ان کا مائکہ ہے ۔

جلسہ ء رسم اجراء

بروز سنیچر مورخہ 5 مارچ شام 7 بجے اسباق پبلی کیشنز پونے بہ اشتراک انجمن اسلام ممبی کے بمقام انجمن اسلام اکبر پیر بھائی کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس ممبئی میں '' سہہ ماہی رسالہ اسباق کے اجراء کا جلسہ منعقد کیا گیا پروگرام کی شروعات تلاوت قران پاک سے ہوئی پھر صاحب مہمتلے نے حمد اور نعت پیش کیں ترانہ انجمن سناگیا ۔ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شیخ محمود حسن صاحب نے تمام مہمانان کا حیر مقدم کیا پھر اس کے بعد اسباق کا تعارف جناب نذیر فتح پوری ( ایڈیٹر اسباق ) نے کیا۔محترم رفیق جعفر صاحب نے مہمانان کا تعارف اور رسم گل پوشی کیں ۔اس جلسہ کی صدارت انجمن کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی صاحب نے کیں۔اور نظامت کے فرائض بڑے پیارے انداذ میں پروفیسر عائشہ نے انجام دیۓ یوم عالمی خواتین کے موقع پر اسباق پبلی کیشنز کی طرف سے سہہ ماہی پونے کی طرف سے خصوصی شمارہ و نمبر ( گوشہ ) صادقہ نواب کے لۓ نکالا گیا ۔ اس ومت حسین پٹیل صاحب ،اظہار قاضی صاحب ۔ منور پیر بھائی ممتاز پیر بھائی شیخ عبداللہ شاعر کے ایڈیٹر جناب افتخار امام صاحب ۔مشتاق ۔واڈکر ۔ اردو مرکز کے ڈائریکٹر زبیر اعظم اعظمی ۔ ڈاکٹر کلیم

ضیاء،عبدااحد ساز،فرید خان صاحب ،عامر ادریسی ، داؤد کشمیری اور شہر اور پونے شہر کی بہم اور مانی ہوئی شخصیات موجود تھیں ۔ افتخار امام صدیقی ،،داؤد کشمیری ، ڈاکٹر عبداللہ ،جناب حسین پٹیل صاحب منور پیر بھائی اور تمام نے نذیر فتح پوری صاحب کو مبارکباد پیش کیں او اپنے تاّثرات پیش کیں ۔منور پیر بھائی نے بہت اچھے انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔سہہ ماہی اسباق کا اجراء کیا گیا ۔ اور پھر ایک نشست منعقد کی گئی ۔ تمام شعراء کرام نے اپنے کلام سنا کر سامعین کو محظوظ کیا ۔یہ پروگرام بہت کامیاب رہا ۔

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP