You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Saturday, July 16, 2011

غزل : مجروح سلطانپوری



ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح

اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح

اس کوۓ تشنگی میں بہت ہےکہ ایک جام

ہاتھ آ گیا ہے دولت بیدار کی طرح

وہ تو کہیں ہے اور مگر دل کے آس پاس

پھرتی ہے کوئی شۓ نگہ یار کی طرح

سیدھی ہے راہ شوق ، پہ یونہی کہیں کہیں

خم ہو گئی ہے گیسوۓ دل دار کی طرح

بے تیشئہ نظر نہ چلو راہ رفتگان

ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح

اب جا کے کچھ کھلا ہنر ناخن جنوں

ہم بھی کھڑے ہوۓ ہیں گنہگار کی طرح

مجروح سلطانپوری

1 comment:

Saif Qazi said...

مکرمی ! یہ غزل کافی عرصہ کے بعد نظر سے گذری اور پڑھ کر وہ سرس حاصل ہوا کہ الفاط میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔
غزل کی رتیب میں ایک غلظی کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا آخر لے دو شعر کچھ اس طرح ہے۔


خم ہو گئی ہے گیسوے خم دار کی طرح
اب جا کے کچھ کھلا ہنر ناخن جنوں
زخم جگر ہوئے لب و رخسار کی طرح
مجروح لکھ رہے ہیں وہ اہل وفا کا نام
ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہگار کی طرح

Dr Saif Qazi
www.nuqoosh.blogspot.com

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP