You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Tuesday, September 20, 2016

میر تقی میر

میر تقی میر اصل نام میر محمد تقى اردو كے عظیم شاعر تھے۔ میر ان کا تخلص تھا۔ اردو شاعرى ميں مير تقى مير كا مقام بہت اونچا ہے ـ انہیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب سے نوازا۔ وہ اپنے زمانے كے ايك منفرد شاعر تھےـ

آپ كے متعلق اردو كے عظیم الشان شاعرمرزا غالب نے لکھا ہے۔

؎

ریختہ كے تمہی استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے ميں كوئى مير بھی تھا
حالات زندگی ترميم

میر تقی میر، آگرہ میں 1723ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد علی تھا لیکن علی متقی کے نام سے مشہور تھے۔ اور درویش گوشہ نشین تھے۔ میر نے ابتدائی تعلیم والد کے دوست سید امان للہ سے حاصل کی مگر مزید تعلیم سے پہلے جب میر ابھی نو برس کے تھے وہ چل بسے تب ان کے بعد ان کے والد نے خود تعلیم و تربیت شروع کی۔ مگر چند ماہ بعد ہی ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ یہاں سے میر کی زندگی میں رنج و الم کے طویل باب کی ابتداء ہوئی۔
ان کے سوتیلے بھائی محمد حسن نے اچھا سلوک نہ کیا۔ تلاش معاش کی فکر میں دہلی پہنچے اور ایک نواب کے ہاں ملازم ہو گئے۔ مگر جب نواب موصوف ایک جنگ میں مارے گئے تو میر آگرہ لوٹ آئے۔ لیکن گزر اوقات کی کوئی صورت نہ بن سکی۔ چنانچہ دوبارہ دہلی روانہ ہوئے اور اپنے خالو سراج الدین آرزو کے ہاں قیام پذیر ہوئے۔ سوتیلے بھائی کے اکسانے پر خان آرزو نے بھی پریشان کرنا شروع کر دیا۔ کچھ غم دوراں، کچھ غم جاناں سے جنوں کی کیفیت پیدا ہو گئی۔
میر کا زمانہ شورشوں اور فتنہ و فساد کا زمانہ تھا۔ ہر طرف تنگدستی و مشکلات برداشت کرنے کے بعد بالآخر میر گوشہ عافیت کی تلاش میں لکھنؤ روانہ ہو گئے۔ اور سفر کی صعوبتوں کے بعد لکھنو پہنچے ۔ وہاں ان کی شاعری کی دھوم مچ گئی۔ نواب آصف الدولہ نے تین سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا۔ اور میر آرام سے زندگی بسر کرنے لگے۔ لیکن تند مزاجی کی وجہ سے کسی بات پر ناراض ہو کر دربار سے الگ ہو گئے۔ آخری تین سالوں میں جوان بیٹی او ر بیوی کے انتقال نے صدمات میں اور اضافہ کر دیا۔ آخر اقلیم سخن کا یہ حرماں نصیب شہنشاہ 87 سال کی عمر پا کر 1810ء میں لکھنو کی آغوش میں ہمیشہ کے لیے سو گیا۔

میر کی زندگی کے بارے میں معلومات کا اہم ذریعہ ان کی سوانح عمری "ذکرِ میر"، جو ان کے بچپن سے لکھنؤ میں ان کے قیام کے آغاز کی مدت پر محیط ہے۔ میر نے اپنی زندگی کے چند ایام مغل دہلی میں صر ف کئے۔ اس وقت وہ پرانی دہلی میں جس جگہ رہتے تھے اسے کوچہ چلم، کہا جاتا تھا۔
مولانا محمد حسین آزاد ؔ اپنی کتاب ’’آبِ حیات‘‘ میں لکھتے ہیں۔

” میر تقی میر جب لکھنؤ چلے تو ساری گاڑی کا کرایہ بھی پاس نہ تھا۔ ناچار ایک شخص کے ساتھ شریک ہوگئے تو دلی کو خدا حافظ کہا۔ تھوڑی دور آگے چل کر اس شخص نے کچھ بات کی۔ یہ اس کی طرف سے منہ پھیر کر ہو بیٹھے۔ کچھ دیر کے بعد پھر اس نے بات کی میر صاحب چیں بجبیں ہوکر بولے کہ صاحب قبلہ آپ نے کرایہ دیا ہے۔ بے شک گاڑی میں بیٹھے۔ مگر باتوں سے کیا تعلق! اس نے کہا۔ حضرت کیا مضائقہ ہے۔ راہ کا شغل ہے باتوں میں ذرا جی بہلتا ہے۔ میر صاحب بگڑ کر بولے۔ کہ خیر آپ کا شغل ہے۔ میری زبان خراب ہوتی ہے۔ لکھنؤ میں پہنچ کر جیسا کہ مسافروں کا دستور ہے ایک سرائے میں اترے۔ معلوم ہوا کہ آج یہاں مشاعرہ ہے۔ رہ نہ سکے۔ اسی وقت غزل لکھی۔ اور مشاعرے میں جاکر شامل ہوئے۔ ان کی وضع قدیمانہ تھی۔ کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کے گھیر کا جامہ، اک پورا تھان پستولیے کا کمر سے بندھا، ایک رومال پٹڑی دار تہہ کیا ہوا اس میں آویزاں، مشروع پاجامہ، جس کے عرض کے پائیچے، ناگ پھنی کی انی دار جوتی جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار، ہاتھ میں جریب، غرض جب داخل محفل ہوئے تو وہ شہر لکھنو ، نئے انداز ، نئی تراشیں، بانکے ٹیڑھے جوان جمع، انہیں دیکھ کر سب ہنسنے لگے، میرؔ صاحب بیچارے غریب الوطن، زمانے کے ہاتھ سے پہلے ہی دل شکستہ اور بھی دل تنگ ہوئے اور ایک طرف بیٹھ گئے، شمع ان کے سامنے آئی، تو پھر سب کی نظر پڑی۔ بعض اشخاص نے سوچھا! حضور کا وطن کہاں ہے؟ میرؔ صاحب نے یہ قطعہ فی البدیہہ کہہ کر غزل طرحی میں داخل کیا:
؎ کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو

ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے

دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے

جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا

ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

سب کو حال معلوم ہوا۔ بہت معذرت طلب کی، میر صاحب سے عفو تقصیر چاہی، کمال کے طالب تھے۔ صبح ہوتے ہوتے شہر میں مشہور ہو گیا کہ میرؔ صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں، رفتہ رفتہ نواب آصف الدولہ مرحوم نے سنا اور دو سو روپیہ مہینہ کردیا۔ عظمت و اعزاز، جوہر کمال کے خادم ہیں، اگرچہ انہوں نے لکھنؤ میں بھی میر صاحب کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ مگر انہوں نے بد دماغی اور نازک مزاجی کو جو ان کے ذاتی مصاحب تھے، اپنے دم کے ساتھ ہی رکھا۔ چنانچہ کبھی کبھی نواب کی ملازمت میں جاتے تھے۔ ایک دن نواب مرحوم نے غزل کی فرمائش کی۔ دوسرے تیسرے دن جو پھر گئے تو پوچھا کہ میر صاحب! ہماری غزل لائے! میرے صاحب نے تیوری بدل کر کہا: جناب عالی! مضمون غلام کی جیب میں تو بھرے ہی نہیں کہ کل آپ نے فرمائش کی آج غزل حاضر کردے۔ اس فرشتہ خصال نے کہا۔ خیر میرؔ صاحب۔ جب طبیعت حاضر ہوگی کہہ دیجئے گا۔ ایک دن نواب نے بلا بھیجا۔ جب پہنچے تو دیکھا کہ نواب حوض کے کنارے کھڑے ہیں۔ ہاتھ میں چھڑی ہے۔ پانی میں لال، سبز مچھلیاں تیرتی پھرتی ہیں۔ آپ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ میرؔ صاحب کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کہا میر صاحب کچھ فرمائیے۔ میرؔ صاحب نے غزل سنانی شروع کی۔ نواب صاحب سنتے جاتے تھے اور چھڑی کے ساتھ مچھلیوں سے بھی کھیلتے جاتے تھے۔ میر صاحب چیں بجبیں ہوتے اور ہر شعر پر ٹھہر جاتے تھے۔ نواب صاحب کہے جاتے تھے کہ ہاں پڑھیے۔ آخر چار شعر پڑھ کر میر صاحب ٹھہر گئے۔ اور بولے کہ پڑھوں کیا آپ مچھلیوں سے کھیلتے ہیں۔ متوجہ ہوں تو پڑھوں۔ نواب نے کہا جو شعر ہوگا۔ آپ متوجہ کرلے گا۔ میر صاحب کو یہ بات زیادہ تر ناگوار گزری۔ غزل جیب میں ڈال کر گھر کو چلے آئے اور پھر جانا چھوڑ دیا۔ چند روز کے بعد ایک دن بازار میں چلے جاتے تھے۔ نواب کی سواری سامنے سے آگئی۔ دیکھتے ہی نہایت محبت سے بولے کہ میرؔ صاحب آپ نے بالکل ہی ہمیں چھوڑ دیا۔ کبھی تشریف بھی نہیں لاتے۔ میرؔ صاحب نے کہا۔ بازار میں باتیں کرنا آداب شرفا نہیں۔ یہ کیا گفتگو کا موقع ہے۔ غرض بدستور اپنے گھر میں بیٹھے رہے اور فقر و فاقہ میں گزارتے رہے۔ آخر1325ھ میں فوت ہوئے .

Sunday, September 18, 2016

غزل

*غزل*

مَیں کیوں نہ ترکِ تعلق کی ابتدا کرتا
وہ دُور دیس کا باسی تھا کیا وفا کرتا؟

وہ میرے ضبط کا اندازہ کرنے آیا تھا
مَیں ہنس کے زخم نہ کھاتا تو اور کیا کرتا؟

ہزار آئینہ خانوں میں بھی مَیں پا نہ سکا
وہ آئینہ جو مجھے خود سے آشنا کرتا

درِ قفس پہ قیامت کا حبس تھا ورنہ
صبا سے ذکر تیرا مَیں بھی سُن لیا کرتا

میری زمیں تُو اگر مجھ کو راس آ جاتی
مَیں رفعتوں میں تجھے آسمان سا کرتا

غمِ جہاں کی محبت لُبھا رہی تھی مجھے
مَیں کس طرح تیری چاہت پہ آسرا کرتا؟

اگر زبان نہ کٹتی تو شہر میں "محسن"
مَیں پتھروں کو بھی اِک روز ہمنوا کرتا
                *محسن نقوی*

نعت رسول پاک

۔   🌹  *نعتِ رسولِ پاک ﷺ* 🌹

قسم یہ کھاتے ہیں تابندہ عشق کرتے ہیں
ہم اپنے آقا سے پائندہ عشق کرتے ہیں

خدا نے صدقۂ احمد ہمیں دیا جتنا
ہیں راضی اس سے نمائندہ عشق کرتے ہیں

حضور آپ کے کردار کی وہ عظمت ہے
ہم اس کے واسطے آئندہ عشق کرتے ہیں

نبی کا رمز ہمیں راستہ دکھاتا ہے
کہ اہلِ حق سے وہ پائندہ عشق کرتے ہیں

ہمیشہ آپ کی تائید میں نظر آئے
صحابہ آپ سے رخشندہ عشق کرتے ہیں

گناہ گار شب و روز ان کی چوکھٹ پر
جو توبہ کرتے ہیں شرمندہ عشق کرتے ہیں

عقیدتوں میں رکھیں جو بھی روح کا جزبہ
رسولِ پاک سے وہ زندہ عشق کرتے ہیں

۔        *تلک راج پارس جبلپور*

Wednesday, September 14, 2016

اقبال کا تصور عورت

اقبال پر یہ اعتراض تجدید پسند حلقوں کی جانب سے اکثر کیا جاتا ہے کہ وہ عورت کو جدید معاشرہ میں اس کا صحیح مقام دینے کے حامی نہیں ہیں جبکہ انہوں نے اس باب میں تنگ نظری اور تعصب سے کام لیا ہے اور آزادی نسواں کی مخالفت کی ہے۔ یہ اعتراض وہ لوگ کرتے ہیں جو آزادی نسواں کے صرف مغربی تصور کوپیش نظر رکھتے ہیں اور اس معاشرتی مقام سے بے خبر ہیں جو اسلام نے عورت کو دیا ہے اقبال کے تمام نظریات کی بنیاد خالص اسلامی تعلیمات پر ہے اس ليے وہ عورت کے بارے میں وہی کچھ کہتے ہیں جس کی تعلیم اسلام نے دی ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں اقبال کے خیالات کا جائزہ لینے سے پہلے آزادی نسواں کے مغربی تصور اور اسلامی تعلیمات کا مختصر تعارف ضروری ہے۔
آزادی نسواں کا مغربی تصور
مغرب میں آزادی نسواں کا جو تصور اُبھرا ہے وہ افراد و تفریظ کا شکا ر ہونے کے باعث بہت غیر متوازن ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طویل عرصہ تک دیگر معاشروں کی طرح مغرب میں بھی عورت کو کسی قسم کا کوئی معاشرتی حق حاصل نہیں تھا اور اس کی حیثیت مرد کے غلام کی سی تھی۔ اسی ردعمل کے طور پر وہاں آزادی نسواں کی تحریک شروع ہوئی اور اس کی بنیاد مر دوزن کی مساوات پر رکھی گئی مطلب یہ تھا کہ ہر معاملہ میں عورت کومرد کے دوش بدوش لایا جائے ۔ چنانچہ معاشرت، معیشت ، سیاست اور زندگی کے ہر میدان میں عورت کو بھی ان تمام ذمہ داریوں کا حق دار گردانا گیا جواب تک صرف مرد پوری کیا کرتا تھا۔ ساتھ ہی عورت کو وہ تمام حقوق بھی حاصل ہوگئے جو مرد کو حاصل تھے ۔ اسی بات کو آزادی نسواں یا مساوات مرد وزن قرار دیا گیا ۔ اس کا نتیجہ اس بے بنیاد آزادی کی صورت میں برآمد ہوا کہ عورت تمام فطری اور اخلاقی قیود سے بھی آزاد ہو گئی۔ عورت کی آزادی تحریر : علامہ محمد یوسف جبریل آج کل عورتوں کے حقوق کے حصول کی مہم دنیا کے ہر پیش رفتہ اور پسماندہ ملک میں زوروں پر ہے اور عموماً پسماندہ ملکوں کی عورتیں پیشرفتہ ملکوں کی عورتوں کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی جدوجہد کا لائحہ عمل تیار کرتی ہیں اور اس پر عمل پیرا ہوتی ہیں۔ اس معاملے میں ہماری رائے کچھ اچھی نہیں۔ جاننا چاہیئے کہ پیش رفتہ کیا ہے اور پسماندہ کیا ہے ؟ یورپین ممالک دستکاری اور سائنس میں تو مانا کہ مشرقی ممالک کے مقابلے میں پیش رفتہ ہیں لیکن یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ عورتوں کے حقوق کے معاملے میں بھی ان کی روش قابل تقلید ہے ؟ تو پھر یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ مذہب بھی ان ہی کا قبول کر لینا چاہیئے کہ وہ ایک پیش رفتہ اورترقی یافتہ قوم ہیں۔ یاد رکھیئے کہ مشرق کی عورت اور مغرب کی عورت اور دونوں کے حالات و ماحول میں کوئی مشابہت اور مطابقت نہیں کم از کم تفاوت ضرور ہے۔ جن دشواریوں اور مشکلوں کے پیشِ نظر مغربی عورت کو اپنے حقوق کے حصول کے لئے پیش قدمی کرنی پڑتی ہے۔ مشرقی عورت کو اس کی کوئی حاجت نہیں یا کم از کم حاجت ہے ۔ جن لوگوں کو یورپین ممالک دیکھنے اور ان کے معاشرتی، معاشی، سماجی، اخلاقی، مذہبی اور اقتصادی حالات کا جائزہ لینے کا موقع ملا ہے وہ ہمارے اس دعوے کوسرسری نہیں کہیں گے اور تھوڑی بہت ردوقدح کے بعد اتنا ضرور مان لیں گے کہ مشرق میں عورت ذات کو ایسی مہم پر کمربستہ ہونے کی کوئی ایسی ضرورت تو نظر نہیں آتی، البتہ انجام اس مہم کا نہایت خطرناک اور نقصان دہ ہو گا۔ ہاں یہ بات ہم مانیں گے مشرقی ممالک میں عورتیں کئی لحاظ سے مظلوم ہیں مگر ھندوستان اور پاکستان کا اس زمرے میں شمار نہیں ہو سکتا ۔ جن مشرقی ممالک میں لڑکیاں پیسے کے بدلے بیاہی جاتی ہیں یا جہاں عورتوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے یا جہاں مردوں کو بغیر کوئی جرمانہ یا حق ادا کئے محض اپنی مرضی پر عورت کو نکال دینے کا جواز ہے یا جہاں عورت کو محض لونڈی غلام بنا کر رکھنے کا رواج ہے، ان ممالک میں عورتوں کوحق پہنچتا ہے کہ اپنی بہتری کے لئے کوئی مطالبہ کریں مگر سخت نا امُید لہجے میں کہنا پڑتا ہے کہ ایسے ممالک میں عورتوں کے لئے کوئی ایسا میدان تیار نہیں ہو سکتا یا بہت مشکل سے تیار ہو گا مگر ھندوستان اور پاکستان جیسے ممالک میں نہیں۔ یہاں صرف تین ہی شکایات مناسب معلوم ہوتی ہیں۔ ایک خاوند کی بدسلوکی، مارپیٹ ،بد چلنی، آوارگی، لاپرواہی اور دوسری عدمِ حق طلاقِ اور تیسری خاوند کی ایک سے زیادہ شادیوں کا جواز۔ تینوں شکائتیں بجا ہیں اور تینوں کا حل اسلام میں موجود ہے ۔ حکومتوں کو چاہیئے کہ ان امور میں اسلامی فرامین کی روشنی میں قانون وضع کریں اور اس کمزور مخلوق کو ظالموں کے پنجے سے نجات دلائیں۔ اگر ان تینوں شکائیتوں میں سے کسی ایک کے لئے بھی ہماری مائیں بہنیں کوئی اقدام کریں تو ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ خدا انہیں کامیابی عطا کرے اور ہمیں عقل و انصاف ۔باقی عرض یہ ہے کہ یہ تینوں شکائتیں مردوں کی جہالت کے سبب پیدا ہوئیں۔ اگر عوام تعلیم یافتہ اور فراخ دل ہوں گے تو عورتوں کو مارنے پیٹنے اور عذاب دینے سے باز رہیں گے۔ دوسرا ہے طلاق کا مسئلہ ۔ سو اسلام نے عورت کو چند وجوہ کی بنا پر شرعاً طلاق لینے کا جواز دیا ہے۔ اسلام طلاق کی اجازت دیتا ہے مگر طلاق کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ باقی رہا ایک سے زیادہ شادیوں کا سوال سو کوئی آدمی جو قرآن پر صحیح معنوں میں ایمان رکھتا ہے اور اس کی تعلیم پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہے وہ کبھی ایک سے زیادہ شادی کی جرات نہیں کرے گا ۔ ہاں اگر کرے گا تو اس صورت میں جس میں اسے دوسری شادی نہ کرنے کی صورت میں کسی گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو جانے کا احتمال نظر آتا ہو۔ کیوں کہ قران حکیم کی ہدایت یہ ہے کہ تم چار تک شادیاں کر سکتے ہو اور شرط یہ ہے کہ تم سب کے ساتھ انصاف کرسکو اور اگر ایک سے زیادہ بیویوں والے مرد کی ہرعورت اس سے انصاف پاتی ہے تو پھر شکائیت کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اسلامی تعلیمات
اسلام نے عورت کو مرد کے برابر حقوق چودہ سو سال قبل اس وقت دئیے تھے۔ جب عورت کے حقوق کا تصور ابھی دنیا کے کسی بھی معاشرہ میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ عورت اور مرد کی مساوات کا نظریہ دنیا میں سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا اور اس طرح عورت کو مرد کی غلامی سے نجات دلائی جس میں وہ صدیوں سے جکڑی ہوئی تھی اس مساوات کی بنیاد قرآن مجید کی اس تعلیم پر ہے جس میں فرمایا گیا کہ
” تم (مرد ) ان کے (عورت ) کے ليے لباس ہو اور وہ تمہارے ليے لباس ہیں۔“
اور قرآن نےیہ بھی کہا ہےمرد عورتوں پر حاکم ہے
اس طرح گویا مختصر ترین الفاظ اور نہایت بلیغ انداز میں عورت اور مرد کی رفاقت کو تمدن کی بنیاد قرار دیا گیا اور انہیں ایک دوسرے کے ليے ناگزیر بتاتے ہوئے عورت کو بھی تمدنی طور پر وہی مقام دیا گیا ہے جو مرد کو حاصل ہے اس کے بعد نبی کریم نے حجتہ الودع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا ۔
” عورتوں کے معاملہ میں خدا سے ڈرو تمہارا عورتوں پر حق ہے اور عورتوں کا تم پر حق ہے۔“
یہاں بھی عورت کو مرد کے برابر اہمیت دی گئی ہے اور عورتوں پر مردوں کی کسی قسم کی برتری کا ذکر نہیں ہے اس طرح تمدنی حیثیت سے عورت اور مرد دونوں اسلام کی نظر میں برابر ہیں۔ اور دونوں کو یکساں اہمیت حاصل ہے۔
یہ تعلیمات اس کائناتی حقیقت پر مبنی ہیں ۔ کہ ہر انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے اور ہر شے ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہے۔ اور اس طرح سب کو یکساں اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا کا کوئی بھی تعلق ہو اس میں ایک فریق کو کچھ نہ کچھ غلبہ حاصل ہوتا ہے یہ ایک فطری اصول ہے۔ اور اسی بناءپر چند چیزوں میں مرد کو عورت پر برتری اور فضیلت حاصل ہے۔ اس کی وجہ حیاتیاتی اور عضویاتی فرق بھی ہے اور فطرت کے لحاظ سے حقوق و مصالح کی رعایت بھی ہے اسی ليے قران نے مرد کو عورت پر نگران اور ”قوامیت “ کی فوقیت دی ہے۔ مگر دوسری جانب اسلام نے ہی عورت کو یہ عظمت بخشی ہے کہ جنت کو ماں کے قدموں تلے بتا یا ہے گویا کچھ باتوں میں اگر مرد کو فوقیت حاصل ہے تو تخلیقی فرائض میں عورت کو بھی فوقیت حاصل ہے۔ فرق صرف اپنے اپنے دائرہ کار کا ہے۔یہی وہ تعلیمات ہیں جنہوں نے دنیا کی ان عظیم خواتین کو جنم دیا کہ زندگی کے ہر میدان میں ان کے روشن کارنامے تاریخ اسلام کا قابلِ فخر حصہ ہیں۔
اقبال کا نظریہ
عورت کے بارے میں اقبال کا نظریہ بالکل اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے وہ عورت کے ليے وہی طرز زندگی پسند کرتے ہیں جو اسلام کے ابتدائی دور میں تھا کہ مروجہ برقعے کے بغیر بھی وہ شرعی پردے کے اہتمام اور شرم و حیا اور عفت و عصمت کے پورے احساس کے ساتھ زندگی کی تما م سرگرمیوں میں پوری طرح حصہ لیتی ہیں۔ اس ليے طرابلس کی جنگ میں ایک لڑکی فاطمہ بنت عبداللہ غازیوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہوگئی تو اس واقعہ سے وہ اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اسی لڑکی کے نام کوہی عنوان بنا کر اپنی مشہو ر نظم لکھی ۔
فاطمہ! تو آبرو ئے ملت مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے
یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سپر!
ہے جسارت آفریں شوق شہادت کس قدر!
یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی
اقبال کی نظر میں عورت کا ایک مخصوص دائرہ کار ہے۔ اور اسی کے باہر نکل کر اگر وہ ٹائپسٹ، کلرک اور اسی قسم کے کاموں میں مصروف ہو گی تو اپنے فرائض کو ادا نہیں کرسکے گی۔ اور اسی طرح انسانی معاشرہ درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ البتہ اپنے دائرہ کار میں اسے شرعی پردہ کے اہتمام کے ساتھ بھی اسی طریقہ سے زندگی گزارنی چاہیے کہ معاشرہ پر اس کے نیک اثرات مرتب ہوں اور اس کے پرتو سے حریم ِ کائنات اس طرح روشن ہو جس طرح ذاتِ باری تعالٰی کی تجلی حجاب کے باوجود کائنات پر پڑ رہی ہے۔
پردہ
اقبال عورت کے ليے پردہ کے حامی ہیں کیونکہ شرعی پردہ عورت کے کسی سرگرمی میں حائل نہیں ہوتا۔ بلکہ اس میں ایک عورت زندگی کی ہر سرگرمی میں حصہ لے سکتی ہے اور لیتی رہی ہے اسلام میں پردہ کا معیار مروجہ برقعہ ہر گز نہیں ہے اسی برقعہ کے بارے میں کسی شاعر نے بڑ ا اچھا شعر کہا ہے۔
بے حجابی یہ کہ ہر شے سے ہے جلوہ آشکار
اس پہ پردہ یہ کہ صورت آج تک نادید ہے
بلکہ اصل پردہ وہ بے حجابی اور نمود و نمائش سے پرہیز اور شرم و حیا کے مکمل احساس کا نام ہے اور یہ پردہ عورت کے ليے اپنے دائرہ کا ر میں کسی سرگرمی کی رکاوٹ نہیں بنتا ۔ اقبال کی نظر میں اصل بات یہ ہے کہ آدمی کی شخصیت اور حقیقت ذات پر پردہ نہ پڑا ہو اور اس کی خودی آشکار ہو چکی ہو۔
بہت رنگ بدلے سپہر بریں نے
خُدایا یہ دنیا جہاں تھی وہیں ہے
تفاوت نہ دیکھا زن و شو میں ، میں نے
وہ خلوت نشیں ہے! یہ خلوت نشیں ہے!
ابھی تک ہے پردے میں اولاد آدم
کسی کی خودی آشکارا نہیں ہے
اس بارے میں پروفیسر عزیز احمد اپنی کتاب ”اقبال نئی تشکیل “ میں لکھتے ہیں:
” اقبال کے نزدیک عورت اور مرد دونوں مل کر کائنات عشق کی تخلیق کرتے ہیں عورت زندگی کی آگ کی خازن ہے وہ انسانیت کی آگ میں اپنے آپ کو جھونکتی ہے۔ اور اس آگ کی تپش سے ارتقاءپزیر انسان پیدا ہوتے ہیں۔۔۔۔ اقبال کے نزدیک عورت کو خلوت کی ضرورت ہے اور مرد کو جلوت کی۔“
یہی وجہ ہے کہ اقبال ، عورت کی بے پردگی کے خلاف ہیں ان کے خیال میں پرد ہ میں رہ کر ہی عورت کو اپنی ذات کے امکانات کو سمجھنے کا موقعہ ملتا ہے۔ گھر کے ماحول میں وہ سماجی خرابیوں سے محفوظ رہ کر خاندان کی تعمیر کا فرض ادا کرتی ہے ۔ جو معاشرہ کی بنیادی اکائی ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ اپنے گھر میں وہ یکسوئی کے ساتھ آئند ہ نسل کی تربیت کا اہم فریضہ انجام دیتی ہے اس کے برخلاف جب پردے سے باہر آجاتی ہے تو زیب و زینت ، نمائش ، بے باکی، بے حیائی اور ذہنی پراگندگی کا شکار ہو جاتی ہے چنانچہ یہ فطری اصول ہے کہ عورت کے ذاتی جوہر خلوت میں کھلتے ہیں جلوت میں نہیں۔ ”خلوت“ کے عنوان سے ایک نظم میں اقبال نے کہا ہے۔
رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس نے
روشن ہے نگہ آئنہ دل ہے مکدر
بڑھ جاتا ہے جب ذوق نظر اپنی حدوں سے
ہو جاتے ہیں افکار پراگندہ و ابتر

Tuesday, September 13, 2016

Eid-Ul-Adha-Al-Mubarak


Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP