You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Monday, April 10, 2017

شعری نشست ( بطور اعزاز جناب زاہد کونچوری)

٩ اور ١٠ اپریل کی درمیانی شب ایک شعری نشست کا اہتمام جناب زاھد کونچوی کی ممبرا آمد پر بطور اعزاز محفلِ ادب ممبرا کی جانب سے جناب نظر نقشبندی کے دولت کدے پر، محترم مونس اعظمی، نائب صدر محفلِ ادب ممبرا کی صدارت میں کیا گیا. بزم کا آغاز خوش الحان قاری نور شادانی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا.

مہمانِ اعزازی زاھد کونچوی کے علاوہ اظہر اعظمی، تابش رامپوری، ایوب امیر، نور شادانی، خورشید عالم، افسر دکنی، نظر نقشبندی، علیم طاہر، زبیر گورکھپوری، مونس اعظمی، اعجاز ھندی جیسے نامور شعراء نے شرکت کی.
مہمان اعزازی جناب زاھد کونچوی کا تعارف پیش کرتے ہوئے نظر نقشبندی صاحب نے بتایا کہ آنجناب جھانسی سے تشریف لائے ہیں اور آپ کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں.

نشست میں پڑھے گئے جن اشعار نے پذیرائی حاصل وہ مندرجہ ذیل ہیں :

رحمت و نور کا شامیانہ ہوا
سَروَرِ دیں (ص) کا دنیا میں آنا ہوا
اظہر اعظمی

زمیں دیکھتے ہیں آسماں دیکھتے ہیں
تُو ہی تُو ہے ہم بس جہاں دیکھتے ہیں
عارف صدیقی

مجھ کو کافی ہے نگاہِ لطف فرمانا ترا
دل بھی نذرانہ ترا ہے جان بھی نذرانہ ترا
تابش رامپوری

دل میں ہو درد تو آنکھوں نمی رہتی ہے
بے سبب دریاؤں میں طوفان نہیں آتے ہیں
ایوب امیر

تیری محبتوں کا شجر اُونگھ رہا ہے
یادوں کے پَتّے جھڑنے لگے ڈال ڈال سے
علیم طاہر

پھولوں کی بزم میں نہ بہاروں کے درمیاں
اپنی تو عمر کٹ گئی خاروں کے درمیاں
نور شادانی

مَیں قطرہ ہوں مجھکو بلاغت ملے تو
سمندر کو ذَوقِ سماعت ملے تو
خورشید عالم

نئے موسم میں سَنَّاٹے مسلط
چمن مغلوب ویرانے مسلط
نظر نقشبندی

تری تلاش میں گھر سے نکل پڑے ہیں قدم
اگرچہ ڈھونڈنے جائیں تو کیا کیا نہیں ملتا
افسر دکنی

پاؤں اُس کے زمین پر ہی ہیں
سر پہ جو آسمان اُٹھائے ہے
ڈاکٹر و ایڈووکیٹ ریکھا 'روشنی'

ملنا جو مجھ سے تم ذرا دل سنبھالنا
آتا ہے مجھ کو سیپ سے موتی نکالنا
زبیر گورکھپوری

شعور و آگہی کم ہو رہا ہے
نئی نسلوں میں پیہم ہو رہا ہے
اعجاز ھندی

نہیں ہے اتنا ضروری یہ زر سنبھال کے رکھ
یہ زر ہنر سے ملا ہے، ہنر سنبھال کے رکھ
زاھد کونچوی

آپ سے پہلے نہ کوئی بانکپن اچھا لگا
آپ کی طرزِ ادا طرزِ سخن اچھا لگا
مونس اعظمی

آخر میں صدر محفلِ ادب ممبرا عبدالرحمن اعظمی نے رات کے تقریباً ایک بجے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اگلی نشست تک کے لئے مجلس کے ملتوی ہونے کا اعلان کیا. نظامت کے فرائض جناب نظر نقشبندی نے بحسن و خوبی انجام دیئے.

Saturday, March 25, 2017

مختصر کہانی


۔از
محمد جمیل اختر

" دیکھو تمہارے بچے کا علاج ہوجائے گا ، لیکن تمہیں جلد
کا انتظام کرنا ہوگا " ڈاکٹر نے اس کے بچے کا معائنہ کرتے ہوئے کہا .
" صاب کوئی رعایت "
" دیکھو یہ کوئی پھل سبزی کی دکان تو ہے نہیں کہ تم سے رعایت کی جائے ، علاج کی جو رقم بن رہی ہے ، وہی بتائی گئی ہے " . اس نے ایک نظر اپنے بچے کی طرف دیکھا اور گھر کا سامان ایک ایک کرکے گننے لگا ... سائیکل ... لیکن سائیکل تو ایک ہی ہے ... جس ریڑھی پر وہ سبزی لگاتا تھا وہ بھی ایک ہی تھی ، اس نے دکھ سے بچے کی طرف دیکھا ... اس کا بچہ بھی ایک ہی تھا
یکدم اس کی آنکھوں میں چمک دوڑی ... اس کے پاس گردے دو تھے.

Friday, March 24, 2017

غزل اور نظم

غزل اور نظم میں وہی فرق ہے جو محبوبہ اور منکوحہ میں ہے. نظم میں بڑا نظم و ضبط ہوتا ہے. نظم، سنانے والا کا اور ضبط سننے والے کا. نثر تو نری شریف زادی ہے جو باتیں آپ غزل میں کہہ دیتے ہیں، نثر میں کہہ دیں تو آپ کو کوڑے پڑ جائیں.
جس معاشرے میں شاعری نہ پڑھی جائے وہ معاشرہ بڑا ظالم ہوتا ہے اور جس معاشرہ میں شاعری نہ کی جائے وہ بڑا مظلوم ہوتا ہے. شاعر تو بے چارہ خانہ بدوش ہے. وہ خوابوں کے محل بناتا ہے، نقاد ان محلوں کو کرائے پر چڑھا دیتا ہے، جبکہ پبلشر ان کا کرایہ وصول کرتا ہے. شاعری امن کی علامت ہے. "ف" کہتا ہے "واقعی پہلے جو چھوٹی چھوٹی بات پر ایک دوسرے کو گالیاں دیتے، اب ایسی بات ہو تو ایک دوسرے کو اپنے شعر ہی سنادیتے ہیں." یہی نہیں شاعروں کے ساتھ رہنے سے بندہ پرامن ہوجاتا ہے.
اگر کوئی شاعر بہت گھٹیا شعر سن بھی شرمندہ اور پریشان نہ ہو تو اس کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے، وہ یہ کہ یہ شعر اس کا اپنا ہوگا.
ہمارے شاعروں کے قدم سڑک پر اور خیال آسمان پر ہوتا ہے. اکثر جب خیال سڑک پر آتا ہے، قدم آسمان پر پہنچ چکے ہوتے ہیں.

*ڈاکٹر محمد یونس بٹ* کی *شیطانیاں* سے اقتباس.

Friday, March 17, 2017

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺴﯽ ﻓﻘﯿﺮ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ۔ ﻓﻘﯿﺮ ﻧﮯ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﻣﻨﮕﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﻦ ﺷﺎﮨﯽ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻟﻘﻤﮧ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﻞ ﺩﯾﺎ۔ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺑﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﺩﮬﻨﺪﻻ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻓﻘﯿﺮ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻮ ﮐﯽ ﺧﺸﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ
” ﺍﮮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ! ﺟﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺧﺮﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎﺅﮞ ﮔﺎ۔ “
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻧﺎﺩﻡ ﺳﺎ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ
” ﻣﯿﺮﮮ ﻻﺋﻖ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺣﮑﻢ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ۔ “
ﻓﻘﯿﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ” ﺍﮮ ﻧﯿﮏ ﺩﻝ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ !
ﻣﮑﮭﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﭽﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺗﻨﮓ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ , ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺣﮑﻢ ﺩﻭ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺘﺎﯾﺎ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ “
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ
” ﺍﻥ ﭘﺮ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺑﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ۔ “
ﻓﻘﯿﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ
” ﺍﮔﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺣﻘﯿﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﺟﺎﻧﺪﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺮﺍ ﺣﮑﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﭼﯿﺰ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﻣﺪﺩ ﻣﺎﻧﮕﻮﮞ

Thursday, March 16, 2017

نفیس ذؤق

ایک شاگرد نے اپنے استاد سے پوچھا: استاد جی!
یہ آخرت میں حساب کتاب کیسے ہوگا؟

استاد نے ذرا سا توقف کیا، پھر اپنی جگہ سے اُٹھے
اور سارے شاگردوں میں کچھ پیسے بانٹے
انہوں نے پہلے لڑکے کو سو درہم،
دوسرے کو پچھتر،
تیسرے کو ساٹھ،
چوتھے کو پچاس،
پانچویں کو پچیس،
چھٹے کو دس،
ساتویں کو پانچ،
اور جس لڑکے نے سوال پوچھا تھا اسے فقط ایک درہم دیا۔

سوال کرنے والا لڑکا بلاشبہ استاد کی اس حرکت پر دل گرفتہ اور ملول تھا، اسے  اپنی توہین محسوس ہو رہی تھی کہ استاد نے آخر اسے سب سے کمتر اور کم مستحق کیونکر جانا؟

استاد نے مسکراتے ہوئے سب کو دیکھتے ہوئے کہا: سب لڑکوں کو چھٹی، تم سب لوگ جا کر ان پیسوں کو پورا پورا خرچ کرو، اب ہماری ملاقات ہفتے والے دن بستی کے نانبائی کے تنور پر ہوگی۔

ہفتے والے دن سارے طالبعلم نانبائی کے تنور پر پہنچ گئے، جہاں استاد پہلے سے ہی موجود سب کا انتظار کر رہے تھے۔ سب لڑکوں کے آجانے کے بعد استاد نے انہیں بتایا کہ تم میں ہر ایک اس تنور پر چڑھ کر مجھے حساب دے گاکہ اپنے اپنے پیسوں کو کہاں خرچ کیا ہے۔

پہلے والے لڑکے، جسے ایک سو درہم ملے تھے، کو دہکتے تنور کی منڈیر پر چڑھا کر استاد نے  پوچھا؛ بتاؤ، میرے دیئے ہوئے سو دہم کیسے خرچ کئے تھے۔

جلتے تنور سے نکلتے شعلوں کی تپش اور گرم منڈیر کی حدت سے پریشان لڑکا ایک پیر رکھتا اور دوسرا اٹھاتا، خرچ کئے ہوئے پیسوں کو یاد کرتا اور بتاتا کہ: پانچ کا گڑ لیا تھا، دس کی چائے، بیس کے انگور، پاچ درہم کی روٹیاں۔۔۔۔ اور اسی طرح باقی کے خرچے۔ لڑکے کے پاؤں حدت سے جل رہے تھے تو باقی جسم تنور سے نکلتے شعلوں سے جھلس رہا تھا حتیٰ کہ اتنی سی دیر میں اسے شدید پیاس بھی لگ گئی تھی اور الفاظ بھی لڑکھڑانا شروع۔ بمشکل تمام حساب دیکر نیچے اترا۔

اس کے بعد دوسرا لڑکا، پھر تیسرا اور پھر اسی طرح باقی لڑکے،
حتی کہ اس لڑکے کی باری آن پہنچی جسے ایک درہم ملا تھا۔

استاد نے اسے بھی کہا کہ تم بھی تنور پر چھڑھ جاؤ اور اپنا حساب دو۔ لڑکا جلدی سے تنور پر چڑھا، بغیر کسی توقف کے بولا کہ میں نے ایک درہم کی گھر کیلئے دھنیا کی گڈی خریدی تھی، اور ساتھ ہی مسکراتا ہوا نیچے اتر کر استاد کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا، جبکہ باقی کے لڑکے ابھی تک نڈھال بیٹھے اپنے پیروں پر پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رہے تھے۔

استاد نے سب لڑکوں کو متوجہ کر کے اس لڑکے کو خاص طور پر سناتے ہوئے کہا جس نے سوال کیاتھا.. بچو! یہ قیامت والے دن کے حساب کتاب کا ایک چھوٹا سا منظر نامہ تھا۔ ہر انسان سے، اس کو جس قدر عطا کیا گیا، کے برابر حساب ہوگا۔

لڑکے نے استاد کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ: آپ نے جتنا کم مجھے دیا، اس پر مجھے رشک اور آپ کی عطا پر پیار آ رہا ہے۔ *تاہم الله تبارک و تعالیٰ کی مثال تو بہت اعلٰی و ارفع ہے*۔

الله تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے حساب کی شدت سے بچائے اور ہمارے ساتھ معافی اور درگزر والا معاملہ فرمائے۔
آمین

(عرب میڈیا سے لیکر آپ کے نفیس ذوق کیلئے ترجمہ کیا گیا)
انتخاب

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP