You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Wednesday, January 24, 2018

۔۔: بھیونڈی میں ماسٹر الہی بخش ایوارڈ تقسیم انعامات براے سال ۲۰۱۸ ؁ء تقریب کا انعقاد :۔۔
بھیونڈی :۔ بھیونڈی کے صنوبرہال میں ہر سال کی طرح امسال بھی معصوم ایجوکیشن اینڈ ویلفیر سوسائٹی بھیونڈی کے تحت ایک پروقار تقریب ماسٹر الہی بخش ایوارڈ تقسیم انعامات براے سال ۲۰۱۸ ؁ء کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت عمدہ الادب مولانا ابوظفر حسان ندوی ازہری نے انجام دی، پروگرام کی نظامت نوجوان شاعر شکیل احمد شکیل نے انجام دی۔ پروگرا م میں مہمانان خصوصی کی طور پر بزرگ شاعر شاکر ادیبی،ڈاکٹر جمیل علیگ، سیماب انور اور حافظ ارشاد شریک تھے۔
امسال ماسٹر الہی بخش ایوارڈ براے ۲۰۱۸ ؁ء بھیونڈی کے استاد الشعراء حضرت مومن جان عالم رہبر کی خدمت میں صدر جلسہ اور سو سائٹی کے صدر خلیق الزماں نصرت کے ہاتھوں مومنٹو، شال ،کتابوں کا نذرانہ ،سند اور نقد رقم کی طور پر پیش کیا گیا۔
امسال کے دیگر ترغیبی ایوارڈ مشہور شاعر عبید اعظم اعظمی،معروف نوجوان شاعر اور کمشنر آف ممبی پولیس قیصر خالد،پرنسپل رئیس ہائی اسکول ضیا الرحمن انصاری،خوش گلو شاعر ساز الہ آبادی اورابھرتے ہوے منفرد لب ولہجہ کے شاعر شبیر احمد شاد کوپیش کیے گئے۔ ایم مبین، سیماب انور ،عقیل احمد عاقل اور امیر حمزحلبے نے انعام یافتگان کا تعارف خاکوں کی طور پر پیش کیا۔ انعام یافگان نے اپنے تاثرات اور اپنا کلام پیش کیا۔
خلیق الزماں نصرت نے سوسائٹی کی جانب سے مہمانان اورانعام یافتگان اور شعری نشست میں شریک شعراء کو کتابوں کے نذرانے پیش کر کے ان کا استعقبال کیا گیا۔
سوسائٹی کے سکریٹری ایم مبین نے سوسائٹی کی پانچ سالہ روداد پیش کی۔
اس پروگرام میں ایم مبین کی دو کتابوں کا اجراء ’’ گونگا سچ‘‘ ڈراموں کا مجموعہ کا اجراء صدر جلسہ اور ہندی افسانوی مجموعہ ’’ بوڑھا بیمار ہے ‘‘ کی رسم اجراء بدست قیصر خالد کی تقریب بھی منعقد کی گئی۔
پروگرام کے افتتاح میں ڈاکٹر جمیل علیگ نے ماسٹر الہی بخش پر ایک مقالہ پیش کیا۔ماسٹر الہی بخش کے خانوادے کی چھٹی نسل کے دو معصوم بچوں ،ریحان اورخلیق الزماں نصرت کی پوتی نبیحہ ارشد نے تلاوت قرآن پیش کی۔
پروگرام کے بعد ایک مختصر شعری نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں عبید اعظم اعظمی،قیصر خالد،شکیل احمد شکیل،حافظ ارشاد،صادق جونپوری، عقیل احمد عاقل شہزاد حسین شہزاد اور امیر حمزہ حلبے نے اپنا کلام پیش کیا۔
ایم مبین اور سوسائٹی کے صدر خلیق الزماں نصرت کے شکریہ کے ساتھ پروگرام کا خاتمہ ہوا۔

سالگرہ مبارک

*17 جنوری....مشہور و معروف شاعر..نغمہ نگار...مکالمہ نویس...کہانی کار...منظر نامہ نگار جاوید اختر صاحب کا یوم ولادت*
اردو شاعری میں بلند مقام رکھنے والے شاعر جان نثار اختر کے فرزند جاوید اختر صاحب کا آج یوم پیدائش ہے...17 جنوری 1945 کو خیرآباد(سیتا پور) میں پیدا ہونے والے جاوید اختر ایک بہترین شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بالی ووڈ میں بھی اپنی بے شمار اور گونا گوں خدمات کے حوالوں سے پہچانے جاتے ہیں....انہیں کئی فلم فئیر ایوارڈ  کے علاوہ پدم بھوشن اور پدم شری جیسے اعزاز بھی تفویض کئے جا چکے ہیں...موصوف نے انتہائی معیاری نغمہ نگاری کی ہے...فلمی شاعری کے علاوہ بھی جاوید صاحب نے بہت ہی معیاری نظمیں اور غزلیں کہی ہیں...آج موصوف کے یوم ولادت کے موقع پر ان کے کچھ منتخب اشعار احباب کی خدمت میں پیش ہیں...
*آگہی سے ملی ہے تنہائی*
آ مری جان مجھ کو دھوکا دے
اگر پلک پہ ہے موتی تو یہ نہیں کافی
ہنر بھی چاہئے الفاظ میں پرونے کا
*دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ*
*جو ہوتا ہے سہہ لیتے ہیں کیسے ہیں بے چارے لوگ*
ایک یہ دن جب اپنوں نے بھی ہم سے ناطہ توڑ لیا
ایک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں
*غلط باتوں کو خاموشی سے سننا حامی بھر لینا*
*بہت ہیں فائدے اس میں مگر اچھا نہیں لگتا*
ہے پاش پاش مگر پھر بھی مسکراتا ہے
وہ چہرہ جیسے ہو ٹوٹے ہوئے کھلونے کا

*ان چراغوں میں تیل ہی کم تھا*
*کیوں گلہ پھر ہمیں ہوا سے رہے*
*اس شہر میں جینے کے انداز نرالے ہیں*
*ہونٹوں پہ لطیفے ہیں آواز میں چھالے ہیں*
جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا
مجھے پامال رستوں کا سفر اچھا نہیں لگتا
*خون سے سینچی ہے میں نے جو زمیں مر مر کے*
*وہ زمیں ایک ستم گر نے کہا اس کی ہے*
کوئی شکوہ نہ غم نہ کوئی یاد
بیٹھے بیٹھے بس آنکھ بھر آئی
*میں بچپن میں کھلونے توڑتا تھا*
*مرے انجام کی وہ ابتدا تھی*

*مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہے*
*کسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا*

پھر خموشی نے ساز چھیڑا ہے
پھر خیالات نے لی انگڑائی
*سب کا خوشی سے فاصلہ ایک قدم ہے*
*ہر گھر میں بس ایک ہی کمرہ کم ہے*
تھیں سجی حسرتیں دکانوں پر
زندگی کے عجیب میلے تھے
*اس کی آنکھوں میں بھی کاجل پھیل رہا ہے*
*میں بھی مڑ کے جاتے جاتے دیکھ رہا ہوں*
اونچی عمارتوں سے مکاں میرا گھر گیا
کچھ لوگ میرے حصے کا سورج بھی کھا گئے
*یاد اسے بھی ایک ادھورا افسانہ تو ہوگا*
*کل رستے میں اس نے ہم کو پہچانا تو ہوگا*
یہ زندگی بھی عجب کاروبار ہے کہ مجھے
خوشی ہے پانے کی کوئی نہ رنج کھونے کا
*غیروں کو کب فرصت ہے دکھ دینے کی*
*جب ہوتا ہے کوئی ہمدم ہوتا ہے*
ہر طرف شور اسی نام کا ہے دنیا میں
کوئی اس کو جو پکارے تو پکارے کیسے
ہمیں یہ بات ویسے یاد تو اب کیا ہے لیکن ہاں اسے یکسر بھلانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
میں قتل تو ہو گیا تمہاری گلی میں لیکن
مرے لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے
*مجھے مایوس بھی کرتی نہیں ہے*
*یہی عادت تری اچھی نہیں ہے*
یہی حالات ابتدا سے رہے
لوگ ہم سے خفا خفا سے رہے

Wednesday, December 27, 2017

مرزا اسد اللہ خان غالب

آج ۲۷ دسمبر دنیائے سخن وری کے مہتاب اور لازوال شاعر "مرزا اسد اللہ خان غالب" کا یومِ ولادت ہے—
آپ کی عظمت کا راز صرف آپ کی شاعری کے حُسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے— آپ کا ا صل کمال یہ ہے کہ آپ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کر دیتے— غالب جس پُر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا— غالباً ً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وُسعت پیدا کی—
مرزا غالب کا نام اسد اللّٰہ بیگ خاں تھا— والد کا نام عبداللّٰہ بیگ تھا— آپ ۲۷ دسمبر ۱۷۹۷ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے— غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللّٰہ بیگ نے کی لیکن ۸ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے— نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا— ۱۸۱۰ء میں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراء بیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی—
شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے— اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا— آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور ۱۸۵۰ء میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدّولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندانِ تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور ۵۰ روپے ماہوار مرزا کا وظیفہ مقرّر ہوا—
غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی— چنانچہ انقلاب ۱۸۵۷ء کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والئ رامپور کو امداد کے لیے لکھا— انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تا دمِ حیات ملتا رہا— کثرتِ شراب نوشی کی بدولت انکی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں ۱۵ فروری ۱۸۶۹ء کو انتقال فرمایا اور دہلی میں آسودۂ خاک ہوئے—
___
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
یا
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
.
اس شعر کی شرح مولوی نظم حیدر طباطبائی صاحب نے یوں فرمائی...
"مطلب یہ کہ بہشت کیا ہے، نافہموں کو ایک باغِ سبز دکھایا ہے—"
مولانا حسرت موہانی نے اس شعر کی کچھ ایسی ہی شرح کرتے وقت "معاذاللّٰہ" کا بھی اضافہ کر دیا—
اور یہ سب پڑھنے کے بعد میرے اندر کا باغی کھڑا ہو جاتا ہے اور غالب کے فرمان پر سر دھنتا ہے کہ اس رجلِ عظیم نے بھی کیا خوب کہا....
لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں
جانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے
علم بدیع کے علماء گواہ ہیں کہ صنعتِ ابہام وغیرہ شعری صنعتیں ہیں— اس سے شعر میں پہلو داری پیدا ہوجاتی ہے— شعر سننے پر اس کا ایک سادہ سا مطلب سمجھ آجاتا ہے— لیکن غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اندر کچھ اور معانی بھی چھپے ہوئے ہیں—
حیرت ہے کہ بزرگوں نے شرح کرتے وقت غالب کے علم و فضل اور ان کی شاعری میں کجروی اور ان کی عظیم ظرافت جو ان کو دنیا کا واحد حیوانِ ظریف بناتی ہے—
(ڈاکٹر لیول کے نقّاد اس بات پر متَّفق ہیں کہ دنیا میں ڈھائی حیوانِ ظریف ہوئے ہیں— مکمل حیوانِ ظریف مرزا غالب اور شیکسپیئر اور آدھا حیوانِ ظریف گوئٹے—)
اس پسِ منظر میں کوئی چارہ نہیں کہ شعر کی شرح کرنے اور اپنی کم فہمی کے باعث غالب پر لعن طعن کرنے سے پہلے کم از کم غالبیات پر اپنا علم پورا کریں یا پھر کسی ایسے سے مدد لیں جو اس وادئ پرخار کا باشندہ ہو—
شعر کا ظاہری مطلب سامنے ہے کہ جنت کا مذاق اڑایا گیا ہے اور بقول چند شارحین جنت کو سبز باغ کہا گیا ہے—
اگر غالب وجودِ جنّت کے منکر ہوتے تو یہ کیوں فرماتے...؟
خلد بہ غالب سپار زانکہ بدان روضہ در
نیک بود عندلیبِ خاصہ نو آئین نوا
اے خدا تو باغِ جنت مجھے سپرد کر دے کیونکہ اس باغ میں نئے نئے نغمے الاپنے والی بلبل (غالب) ہی موزوں رہے گی—
اور جن کو یہ بات سمجھ آگئی ہے وہ ذرا مزید غور فرمائیں....
اس دنیا میں کس جیتے جاگتے انسان نے جنّت دیکھی ہے...؟؟
کسی نے نہیں دیکھی....
ہم تک قرآنِ مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے خبر پہنچی ہے کہ اللہ تعالی نے ایک دار القرار بنایا ہے جسے عرفِ عام میں جنت کہتے ہیں—
جنّت ملے گی کسے...؟؟
جنّت ان لوگوں کو ملے گی جو نیک ہو ںگے اور نیک اعمال کرتے رہیں گے..
اب بتائیے....
کسی شیخی خورے کے علاوہ کس کو نیک ہونے کا دعویٰ ہے...؟؟
کیا کوئی ایسا ہے کہ جو وثوق سے کہہ سکے کہ ہاں میں اپنے اعمال کے بل بوتے پر جنت میں داخل کیا جاؤں گا...؟؟
ازراہِ عجز و انکساری سب لوگ یہی کہیں گے کہ اجی ہم تو بہت گناہگار ہیں— ہمارے اعمال اس لائق نہیں کہ جنت میں جا سکیں...
اب مرزا غالب کا طنز پہچانیے....
فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کو جنت کی خبر ہے— ہر ایک جانتا ہے کہ جنّت میں داخلے کا میرٹ کیا ہے... لیکن پھر بھی ہم لاپرواہی سے گناہوں میں مشغول ہیں..
یہ دوہرا معیار ہے... کہ ایک طرف تو ہم جنت کے قصیدے پڑھتے ہیں... اس میں جانے کی دعائیں بھی مانگتے ہیں... لیکن وہ اعمال کرنے کو تیّار نہیں جس سے ہم میرٹ پر آ سکیں—
اس کا سیدھا سادا مطلب یہ ہوا کہ ہمارا ایمان اس درجے کمزور ہے کہ ہمیں جنّت کے ہونے کا یقین ہی نہیں... صرف زبانی کلامی چسکا اور دعاؤں کی ایک سطر کے طور پر رٹے رٹائے انداز میں جنّت مانگ کر بری الذّمہ ہوجاتے ہیں—
یہ انسانی نفسیات پر ایک بہت بڑا طنز ہے...
ہر بندہ جنّت کا شائق ہے.. جنّت میں جانا چاہتا ہے... لیکن وہ اعمال نہیں کرتا جس سے جنّت میں جائے... اور صرف اللّٰہ کی رحمت سے امید لگائی ہوئی ہے—
ہر بندہ جانتا ہے کہ جو پیدا ہوا وہ ایک دن مرتا ہے— مجھے بھی موت آنی ہے— کوئی قبر بھی ہوتی ہے— عالمِ برزخ کے مراحل بھی سامنے ہیں لیکن پھر بھی کم ہی لوگ آخرت کی تیاری میں مصروف ہیں— صاف مطلب ہے کہ اکثریت کا ایمان کمزور ہے—
یہ اس شعر کا ایک پہلو تھ— اب اس شعر کا دوسرا پہلو دیکھیے...
کچھ دیر کیلئے بات سمجھنے کو اگر ہم ایمان کے تین درجے فرض کرلیں تو...
ایک درجہ کمزور ایمان والوں کا
دوسرا درجہ کامل ایمان والوں کا
تیسرا درجہ اکمل ایمان والوں کا
کمزور ایمان والے اکثریت میں ہیں— جنّت کو مانتے ہیں لیکن اس پر یقین رکھ کے وہ اعمال کرنے کو تیّار نہیں اور صرف رحمتِ خداوندی سے امیدوار ہیں—
کامل ایمان والے اللہ سے ڈرتے ہیں— قرآنِ مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین پر عمل کرتے ہیں اور ان کا مقصود یہی ہے کہ رحمتِ خداوندی سے جنّت میں داخل ہو کر ابدی زندگی کا سکون پا لیں—
اکمل ایمان والوں کا مقصود جنّت سے بھی آگے ہے— ان کی نظر میں جنّت ایک چھوٹی جزا ہے ان کو اس سے بھی بڑی جزا چاہیے..
غالب فرماتے ہیں...
ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغِ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہے ہم بیخودوں کا طاقِ نسیاں کا
سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف، سب درست
لیکن خدا کرے وہ تری جلوہ گاہ ہو—
کس کی جلوہ گاہ ہو..؟؟ اس سوال کا جواب غالب کے ایک نعتیہ شعر میں دیکھیے...
جُستیم سراغِ چمن خلد بہ مستی
در گرد خرام تو رہ افتاد گماں را
ہم مستی کی حالت میں باغِ جنت کا سراغ لگا رہے تھے کہ ہمارا خیال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک قدموں سے اٹھنے والی گرد کی طرف چلا گیا—
بات واضح ہو گئی— غالب کی نظر میں جنّت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبارک قدموں سے اٹھنے والی گرد ہے— اب غالب کے نقطہ نظر پر غور فرمائیے جس کی نظر محبوب کے قدموں پر ہو وہ اٹھنے والی گرد کو کیا اہمیت دے گا؟
اس تاویل کی سند بھی خاکسار کلامِ غالب اور کلامِ اقبال سے لایا ہے— پہلے غالب کا نعتیہ شعر ملاحظہ ہو...
واعظ حدیثِ سایہ طوبیٰ فروگذار
کاینجا سخن ز سروِ روانِ محمد است
واعظ تو طوبیٰ کے سائے کی بات چھوڑ کیونکہ یہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سروِ رواں(قد مبارک) کی بات ہو رہی ہے...
حضرتِ رابعہ بصری سے ایک واقعہ منسوب ہے کہ ایک ہاتھ میں آگ اور ایک ہاتھ میں پانی لیے جا رہی تھیں— کسی نے پوچھا تو فرمایا جنّت کو آگ لگانے اور جہنم کو بجھانے جا رہی ہوں تا کہ لوگ کسی ڈر اور لالچ کے اس کی عبادت کریں—
اگر اس واقعے میں جنّت کا مذاق نہیں اڑایا گیا تو پھر یہ شعرِ غالب دیکھیے...
طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
جب حیوانِ ظریف اپنی ظرافت کی انتہائی بلندیوں سے جنت کے گریڈی ڈوگز کو دیکھتے ہیں تو تبسّم فرماتے ہیں...
واعظ نہ تم پی سکو نہ کسی کو پلا سکو
کیا بات ہے تمہاری، شرابِ طہور کی...
یہ سب تو ایک حقیر و ناچیز بندے کی نظر سے غالب کا نقطہ نظر دیکھا گیا جو کہ یقیناً بہت سوں کیلئے لاف و گزاف ہوگا لیکن آئیے علامہ اقبال کے الفاظ میں غالب کا نقطہ نظر دکھاؤں...
جاوید نامہ میں اقبال کے الفاظ ہیں...
ارواح ِ جلیلہ حلاج و غالب و قرۃالعین طاہرہ کہ بہ نشیمنِ بہشتی نہ گردیدند و بگردشِ جاوداں گرائیدند
★ترجمہ؛
حلاج، غالب اور قرۃ العین طاہرہ کی عظیم روحیں جو کہ اپنے بہشتی نشیمن کی طرف مائل نہ ہوئیں اور سیرِ جاوداں میں مشغول رہیں—
(اقبال نے غالب کی روح کو ارواحِ جلیلہ میں سے ایک قرار دیا ہے اور اس لفظ کا ترجمہ خاکسار نے عظیم روحیں کیا ہے— اگر کسی ظاہر پرست کو اب بھی غالب کے مقام و مرتبے میں شک و شبہ رہ گیا ہو تو وہ صاحبِ علم میری غلطی درست کر دے—)
جاوید نامہ کے مطابق جب علّامہ اقبال کی ان عظیم ارواح سے ملاقات ہوئی تو اقبال نے پہلا سوال یہی پوچھا کہ......
از مقامِ مومناں دوری چرا؟
یعنی از فردوس مہجوری چرا؟
مومنوں کے مقام سے دور رہنا کیوں
یعنی فردوس سے باہر رہنا کیوں؟
ان عظیم ارواح کا جواب اقبال کے الفاظ میں...
ایک آزاد مرد جو اچھّے اور برے کو خوب پہچانتا ہے— اس کی روح بہشت کے اندر نہیں سما سکتی—
ملا کی جنت تو شراب، حور و غلمان والی جنت ہے— لیکن آزاد لوگوں کی جنت سیرِ جاوداں ہے—
ملا کی جنّت میں کھانا پینا، سونا اور موسیقی سننا ہے اور ایک عاشق کی جنّت وجود یعنی محبوبِ حقیقی کے دیدار کی خواہش ہے—
ملا کا حشر قبر کھلنے اور بانگِ صور پر مردوں کے اٹھنے کا نام ہے جبکہ ہنگامہ برپا کرنے والا عشق خود قیامت کی صبح ہے—
یہ اشعار ابھی اور بھی ہیں لیکن سند کیلئے اتنے اشعار کا ترجمہ ہی کافی ہے اور جن کی آنکھیں اب بھی بغضِ غالب کی نیند سے نہ کھلیں تو ایسوں کو سات سلام ہیں—
...

Saturday, November 25, 2017

ابا مجھے قران نہیں۔ گاڑی چاہیے

🕊🕊🕊

ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻟﺞ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺠﻮﯾﭧ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﮐﭽﮫ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﮌﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﻮﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ اﺳﭙﻮﺭﭨﺲ ﮐﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﺗﮭﯽ۔ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﻭﮦ ﮐﺎﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﮐﻮ ﮐﮩﮧ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﮔﺮﯾﺠﻮﺍﯾﺸﻦ ﮐﮯ ﺗﺤﻔﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﮐﺎﺭ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﺮﯾﺠﻮﯾﺸﻦ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﮐﺎ ﺩﻥ ﻗﺮﯾﺐ ﺁ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ،
ﻭﯾﺴﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﺤﻔﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺮﻭﺝ ﭘﮧ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺑﻶﺧﺮ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﯽ ﺻﺒﺢ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺑﺎ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﺹ ﻣﻄﺎﻟﻌﮯ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﻼﯾﺎ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﮯ ﺫﮨﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻨﺘﯽ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﺘﻨﺎ ﻓﺨﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻑ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﭩﺎ ﮨﻮﺍ ﮈﺑﮧ ﺗﺤفے ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺎ۔ ﮐﭽﮫ ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺗﺠﺴﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺗﺤﻔﮧ ﮐﮭﻮﻻ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭼﻤﮍﮮ ﮐﮯ ﺩﺳﺘﮯ ﻭﺍﻻ ﻗﺮﺁﻥ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ۔
ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻏﺼﮯ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻧﮕﺖ ﺳﺮﺥ ﭘﮍ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺑﺎ ﭘﮧ ﭼﻼ ﺍﭨﮭﺎ:
"ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻭﻟﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﺗﺤﻔﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺎ؟" ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺍﻧﻤﻮﻝ ﺗﺤﻔﮯ ﮐﻮ ﻭﮨﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻧﮑﻼ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔
ﺑﮩﺖ ﺳﺎﻝ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ ﻭﮦ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺑﺎ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﮕﻼ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺑﺎ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﺳﺘﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ۔ ﻭﮦ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺑﺎ ﮐﻮ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ۔
ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺑﺎ ﮐﻮ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺳﮯ ﺍﻃﻼﻉ ﻣﻠﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺑﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﺻﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﺮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﮯ ﺍﻓﺮﺍﺗﻔﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﻏﻢ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﺎ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﺑﺎ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻏﻢ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﭘﭽﮭﺘﺎﻭﮮ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮒ ﺍﭨﮭﺎ۔ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﻏﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺑﺎ ﮐﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﮯ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺗﺒﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﻭﮨﯽ ﺗﺤﻔﮯ ﻭﺍﻻ ﻗﺮﺁﻥ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻧﺌﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﻣﻼ ﺟﯿﺴﺎ ﻭﮦ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﺭﺍﻕ ﭘﻠﭩﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺍﻭﺭﺍﻕ ﭘﻠﭩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺻﻔﺤﮯ ﭘﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺑﺎ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺁﯾﺖ ﭘﮧ ﻧﺸﺎﻥ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮦ ﺳﻮﺭﮦ ﺭﻋﺪ ﮐﯽ ﺍﭨﮭﺎئیسویں ﺁﯾﺖ ﺗﮭﯽ :
"ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﺨﺸﺘﯽ ﮨﮯ۔"
ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺁﯾﺖ ﭘﮍﮬﯽ۔ ﺗﺒﮭﯽ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﯿﭽﮯ ﮔﺮﯼ۔ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﭼﺎﺑﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺩﮦ ﺷﻮﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﭼﺎﺑﯽ ,ﺭﺳﯿﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ۔ ﭼﺎﺑﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﺳﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﯾﺠﻮﺍﯾﺸﻦ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﮑﻤﻞ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﮦ ﺍﻥ ﮔﻨﺖ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭨﮭﮑﺮﺍ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺗﻮﻗﻌﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯿﮟ۔ اور بعض دفعہ جلد بازی میں غلط فیصلہ کر دیتے ہے جس کا دکھ اور نقصان پوری زندگی ہمیں اٹھانا پڑتا ہے۔

نامعلوم

حسن سلوک

" ثاقب ناچن کی رہائی اور جیل میں ان کا حسن سلوک"

ملنڈ بم دھماکہ کے الزام میں برسوں قید و بند کی تکلیف اٹھانے والے ثاقب ناچن کو دوران قید جیل میں اچھے برتاؤ اور بہتر ڈسپلن کے سبب پانچ مہینے اور 13 دن قبل رہا کر دیا گیا۔ ثاقب ناچن نے بم دھماکہ کیس کے دوران جس ثابت قدمی کے ساتھ اس کو فیس کیا اور جیل میں عمدہ اخلاق اور حسن سلوک کا جو غیر معمولی نمونہ پیش کیا ہے اس کو دیکھ کر پولیس بھی اس کی گواہی دینے پر مجبور ہوکر رہ گئی اور انہیں " ذہین ترین انسان قرار دیا۔" جو اپنے آپ میں بہت بڑی بات ہے۔ ثاقب ناچن کا تعلق جس تنظیم سے رہا ہے وہ بھی اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام طلبہ و نوجوانوں انجام دے رہی تھی اسی لیے وہ علمی اور فکری لحاظ سے اسلامی کی تعلیمات سے پوری طرح لیس تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جیل میں عمدہ اخلاق اور حسن سلوک کا مظاہرہ کیا اس کا اثر یہ ہوا کہ پولیس حکام بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ صحیح معنوں میں اس ملک کے مسلمان بھی اگر اسلامی تعلیمات پر صدق دل سے عمل پیرا ہوجائیں اور اسلام کی دعوت کو برادران میں پہنچانے کا کام انجام دینا شروع کردیں تو وہ دن دور نہیں جب یہی لوگ حق کی گواہی دینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ اور ایک بار پھر ثابت ہو جائے گا کہ اسلام تلوار سے نہیں اخلاق سے پھیلا ہے۔

محمد خالد داروگر'دولت نگر' سانتاکروز' ممبئی

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP