You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Monday, December 10, 2018

مشاعرہ و کوی سمیلن


)سنسکرتی سنگم کلیان کے زیر اہتمام۹؍ دسمبر بروز اتوار شام چھ بجے ایک کامیاب اور شاندار اعزازی مشاعرہ اور کوی سمیلن کا انعقاد ایل ڈی سوناونے کالج آڈیٹوریم بمقابل فائر برگیڈ نزد درگاڈی قلعہ کلیان ویسٹ میں ہوا ۔ جس میں عالمی شہرت یافتہ شاعرڈاکٹر انجمؔ بارہ بنکوی کو اعزاز سے نوازا گیا۔اس اعزازی مشاعرہ اور کوی سمیلن
کی صدارت ایڈوکیٹ زبیر اعظمی (ڈائریکٹر اردو مرکز ممبئی )نے کی۔مہمان ِمعظم کی حیثیت سے ماہر قانون داں ایڈوکیٹ یٰسین مومن(سکریٹری آل انڈیا راشٹروادی کانگریس اقلیتی شعبہ)  شریک ہوئے۔
اپنے صدارتی خطبے میں ایڈوکیٹ زبیر اعظمی نے سنکرتی سنگم کلیان کے صدر ڈاکٹروجئے پنڈت اور سینئر نائب صدر افسر دکنی اوراراکین کا شکریہ ادا کرتےہوئے کہا کہ آج کے اس پر آشوب دور میںہندی، اردو اور ،مراٹھی ادب کی یکساں طورپر خدمت کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ انھوںنے مذید یہ کہا ان تینوں زبانوں کے ادباء واشعرا ء کی پزیرائی کا اہم فریضہ بھی سنکرتی سنگم ادا کر رہی ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔اس ادارے نے کلیان جیسے قدیم شہر کے ادبی ماحول کو قائم رکھا ہے۔
مہمان معظم ایڈوکیٹ یٰسین مومن نے مشاعروں کی تہذیبی روایات اور شعری وادبی نشستوں کے سلسلے میںاپنی یادیں اور باتیں سامعین کے گوش گزار کیں ۔ انھوںنے کہا کہ اردو، ہندی اور مراٹھی کے شعراء کا سنکرتی سنگم کےمنچ پر یہ سنکرتی ملن در اصل قومی یکجہتی کا ایک مثبت پیغام ہے جس کی ہمارے ملک کو اشد ضرورت ہے اور اس فریضہ کی ادائیگی پر میں سنکرتی سنگم کے تمام اراکین بشمول صدر اور نائب صدر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔انھوں نے مذید یہ کہا کہ کلیان جیسے شہر میں جہاں اد ب کے نام پر کم کم پروگرا م  ہوتے ہیں سنکرتی سنگم کا ہر ماہ ہونے والے یہ مشاعرے اور کوی سمیلن یہاںکی ادبی فضاء کوخوشگواربنانے میں ساز گار ثابت ہونگے۔   
مشاعرے اور کوی سمیلن کی نظامت کے فرائض جدید لب ولہجہ کےمشہور شاعر اعجازؔ ہندی نے کی۔ ڈاکٹر وجئے پنڈت نے اس موقع پرعالمی شہرت یافتہ شاعرڈاکٹر انجم بارہ بنکوی ‘ایڈوکیٹ زبیر اعظمی اور ایڈوکیٹ یٰسین مومن کی شال، گلدستہ اور مومینٹو دیکر پزیرائی کی۔  
اس مشاعرے اور کوی سمیلن میںڈاکٹر انجم بارہ بنکوی ، ڈاکٹر وجئے پنڈت ‘منوج اورئی‘امیش شرما‘مہیش بھارتی ‘افسر ؔدکنی‘شہرت ؔادیبی‘شکیل احمد شکیل ؔ ‘شبیر احمد شادؔ‘نور شادانی ‘لطیف بستوی‘ثمر کاوش‘نعمت رضوی‘رخسانہ خان انّوؔ‘سازؔالہ آبادی ‘دیارام دردؔ فیروز آبادی ‘راجندر سنگھ ‘سلیم رشکؔ،جامیؔ کلیانوی (مزاحیہ ) ایازؔبستوی‘شفیق الایمان‘باہو بلی سنگم ‘منوہر کاملبے(مراٹھی )،جتیندرلاڈؔ(مراٹھی )،احمد شرجیل (ریختہ)،باری الہ آبادی‘جعفر بلرامپوری اور دیگر اشعراء نے اپنےکلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ بڑی تعداد میں اردو، ہندی اور مراٹھی شاعری کے دلدادہ  محبّان ادب نے اس مشاعرے اور کوی سمیلن میں شرکت کی اور شعراء کی حوصلہ افزائی کی۔ افسر دکنی نےمہمانان ‘شعراء اورسامعین باتمکین کا شکریہ ادا کیا۔

Sunday, December 09, 2018

ایک تلخ حقیقت

*تلخ حقیقت*
میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔
۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بولتے ہیں۔۔
ہم نے تو غربت کے وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ  اسکول میں تختی پر (گاچی) کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو (سواگہ) لگایا کرتے تھے۔۔
(سلیٹ)پر سیاہی کے پیسے نہیں ہوتے تھے (سیل کا سکہ) استمعال کرتے تھے۔
اسکول کے کپڑے جو لیتے تھے وہ صرف عید پر لیتے تھے۔
اگر کسی شادی بیاہ کے لیے کپڑے لیتے تھے تو اسکول کلر کے ہی لیتے تھے۔۔
کپڑے اگر پھٹ جاتے تو سلائی کر کے بار بار پہنتے تھے۔۔
جوتا بھی اگر پھٹ جاتا بار بار سلائی کرواتے تھے۔۔
اور جوتا *سروس یا باٹا* کا نہیں پلاسٹک کا ہوتا تھا۔۔
گھر میں اگر مہمان آجاتا تو پڑوس کے ہر گھر سے کسی سے گھی کسی سے مرچ کسی سے نمک مانگ کر لاتے تھے۔۔
آج تو ماشاء اللہ ہر گھر میں ایک ایک ماہ کا سامان پڑا ہوتا ھے۔۔ مہمان تو کیا پوری بارات کا سامان موجود ہوتا ھے۔ ۔
آج تو اسکول کے بچوں کے ہفتے کے سات دنوں کے سات جوڑے استری کرکے گھر رکھے ہوتے ہیں۔ ۔
روزانہ نیا جوڑا پہن کر جاتے ہیں۔
آج اگر کسی کی شادی پہ جانا ہو تو مہندی بارات اور ولیمے کے لیے الگ الگ کپڑے اور جوتے خریدے جاتے ہیں۔۔
ہمارے دور میں ایک چلتا پھرتا انسان جس کا لباس تین سو تک اور بوٹ دوسو تک ہوتا تھا اور جیب خالی ہوتی تھی۔۔
آج کا چلتا پھرتا نوجوان جو غربت کا رونا رو رہا ہوتا ھے اُسکی جیب میں تیس ہزار کا موبائل،کپڑے کم سے کم دو ہزار کے، جوتا کم سے کم تین ہزار کا،گلے میں سونے کی زنجیر ہاتھ پہ گھڑی۔۔
غربت کے دن تو وہ تھے جب گھر میں بتّی جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا روئی کو سرسوں کے تیل میں ڈبو کر جلا لیتے...
آج کے دور میں خواہشوں کی غربت ھے..
اگر کسی کی شادی میں شامل ہونے کے لیے تین جوڑے کپڑے یا عید کے لیے تین جوڑے کپڑے نہ سلا سکے وہ سمجھتا ھے میں غریب ہوں۔
*آج خواہشات کا پورا نہ ہونے کا نام غربت ھے..*

Saturday, December 08, 2018

معروف شاعر ناصر کاظمی

*8 دسمبر..مشہور و معروف شاعر ناصر کاظمی صاحب کا یوم ولادت*

ناصر رضاکاظمی نام اور ناصر تخلص تھا۔٨ دسمبر ۱۹۲۳ء کو انبالہ(ہندستان) میں پیدا ہوئے۔اسلامیہ کالج لاہور سے ایف اے پاس کرنے کے بعد بی اے میں پڑھ رہے تھے کہ چند وجوہ کی بنا پر امتحان دیے بغیر وطن انبالہ واپس چلے گئے۔۱۹۴۷ء میں دوبارہ لاہور آگئے۔ایک سال تک’’اوراق نو‘‘ کے عملہ ادارت میں شامل رہے۔ اکتوبر۱۹۵۲ء سے ’’ہمایوں‘‘ کی ادارت کے فرائض انجام دینا شروع کیے۔ ناصر کی شعر گوئی کا آغاز ۱۹۴۰ء سے ہوا۔حفیظ ہوشیارپوری سے تلمذ حاصل تھا۔ قیام پاکستان کے بعد اردو غزل کے احیا میں ان کا نمایاں حصہ ہے۔۲؍مارچ ۱۹۷۲ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’برگ نے‘، ’دیوان‘، ’پہلی بارش‘، ’خشک چشمے کے کنارے‘(مضامین) ’نشاط خواب‘، ’انتخاب نظیر اکبرآبادی‘،کلیات ناصر کاظمی بھی چھپ گئی ہے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:155
موصوف کے کچھ منتخب اشعار آپ احباب کی خدمت میں.....

*آرزو ہے کہ تو یہاں آئے*
*اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں*

اپنی دھن میں رہتا ہوں
میں بھی تیرے جیسا ہوں

*بلاؤں گا نہ ملوں گا نہ خط لکھوں گا تجھے*
*تری خوشی کے لیے خود کو یہ سزا دوں گا*

دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا

*دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا*
*وہ تری یاد تھی اب یاد آیا*

دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا

*حال دل ہم بھی سناتے لیکن*
*جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا*

اس شہر بے چراغ میں جائے گی تو کہاں
آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں

*جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصرؔ*
*وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں*

میں اس جانب تو اس جانب
بیچ میں پتھر کا دریا تھا

*مجھے تو خیر وطن چھوڑ کر اماں نہ ملی*
*وطن بھی مجھ سے غریب الوطن کو ترسے گا*

مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے
بہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں

*نیند آتی نہیں تو صبح تلک*
*گرد مہتاب کا سفر دیکھ*

‏اے  دوست  ہم  نے ترک  محبت کے باوجود   
محسوس کی  ہے تیری ضرورت کبھی کبھی

*‏میری پیاسی تنہائی پر*
*آنکھوں کا دریا ہنستا تھا*

*‏زباں سُخن کو، سُخن بانکپن کو ترسے گا*
*سُخن کدہ، مِری طرزِ سُخن کو ترسے گا*

چھپ جاتی ہیں آئینہ دکھا کر تری یادیں
سونے نہیں دیتیں مجھے شب بھر تیری یادیں

*‏ایک تم ہی نہ مل سکے ورنہ*
*ملنے والے بچھڑ بچھڑ کے ملے*

‏نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں

*‏یہ آج راہ بھول کے آئے کدھر سے آپ*
*یہ خواب میں نے رات ہی دیکھا تھا خواب میں*

پیشکش ڈب طارق سلیم

Wednesday, November 21, 2018

Thursday, November 15, 2018

ماں کی ممتا

🕊🕊🕊🕊🕊🕊🕊🕊

*وہ ایک خوبصورت اور رنگین چڑیا تھی ۔۔۔۔۔۔سمندر کے قریب ایک     پرانے  اور گھنے پیڑ پر اس نے ایک سال کی محنت کے بعد اپنا گھونسلہ بنایا تھا۔۔۔۔۔۔۔پھر  اس نے اپنے پانچ  انڈوں کی دیکھ بھال کرنی شروع کردی ۔۔۔مگر ایک دن جب وہ دانہ چگنے گئی تھی تب ایک بہت بڑا سانپ آیا اور سارے کے سارے انڈے کھا کر غائب ہو گیا۔۔۔۔ بیچاری رنگین چڑیا جو پہلی دفعہ ماں بنی تھی اپنے انڈوں کے ٹوٹے ہوئے پوست دیکھکر مسلسل روتی رہی ۔۔۔مگر دو دفعہ ۔۔تین دفعہ اور پھر  نو دفعہ وہی دشمن سانپ اس کے انڈے کھاتا رہا۔۔۔۔۔پھر ایک دن وہ سانپ آیا مگر آج چڑیا کے اندر اس کی ممتا نے انتقام  کی شکل لے لی۔۔۔رنگین چڑیا اپنی تمام قوتیں یکجا کیے سانپ پر  ٹوٹ پڑی اور اپنی تیز چونچ سے اس کی آنکھیں نوچ لی اور اسی غصے میں اس نے سانپ کو مار دیا ۔۔۔۔۔۔اب وہ مطمئن تھی کہ میرے بچے محفوظ ہیں مگر ۔۔۔اسی پیڑ  پر موجود ایک کوّے  نے اس کے انڈوں کو گرا کر توڑ نا شروع کردیا۔۔۔۔رنگین چڑیا پھر سے روتی رہی مگر ایک دن اس نے کوے کو نوچ نوچ کر اندھا اور بیمار کردیا۔۔۔پھر طوفان اس کا دشمن بن گیا اس کی ممتا کے کتنے امتحان ہوتے چلے گئے مگر وہ ننھی چڑیا کبھی نہیں ہاری۔۔۔ سمندر میں ایسا طوفان آیا کہ اس کے بچے کبھی انڈے سے باہر آنے ہی نہیں پائے ۔۔۔۔اسی طرح 6 سال گزر گئے اور آج تک اس نے اپنے بچوں کی شکل نہیں دیکھی آخرکار۔۔۔۔۔۔سات سال کی دعا ئیں اور آنسو رنگ لائے۔۔۔ آج پہلی دفعہ رنگین چڑیا کے بچے انڈوں سے باہر آئے ۔۔۔اتنے خوبصورت اور اتنے پیارے  تھے کہ رنگین چڑیا اسقدر خوش  ہوگئی کہ زندگی کا ہر غم بھول گئی۔۔۔۔مگر بچوں کی آوازوں کو سن کر ایک دشمن چیل اس کے بچوں کے پاس اڑنے لگی لیکن رنگین چڑیا نے کسی طرح اپنے بچوں کو اڑنا سکھا دیا اور آسمان میں اڑا دیا۔۔۔*
*پھر کچھ دن بعد رنگین چڑیا نے انڈے دیئے۔۔۔ بچے ابھی اڑان میں کچے تھے مگر ایسی تیز  آندھی  آئی کہ اس کا گھونسلا پیڑ سے علیحدہ ہو گیا۔۔۔اے ماں تجھے سلام۔۔۔۔ رنگین چڑیا نے پھر بھی ہمت نہ ہاری اور لگاتار اسی پیڑ پر پھر سے نیا گھونسلہ بنانے میں مگن ہو گئی۔۔۔۔۔۔غور طلب بات یہ ہے کہ چھوٹی سی چڑیا نے ہر بار طوفان سے مقابلہ کیا۔۔۔ بارش کا سامنا کیا ۔۔۔۔ہر دشمن کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔۔۔لیکن کبھی بھی خوف کی وجہ سے اپنی ہمت اور اپنے حوصلے کو ٹوٹنے نہیں دیا۔۔۔۔غور کیجئے کہ ایک چڑیا ۔۔۔چھوٹی سی چڑیا جب اپنے بچوں کے لئے اتنی محنت کر سکتی ہے اور ان کو صحیح پرواز  بھرنے کی تربیت دے سکتی ہے۔۔۔ تو پھر ہم انسان بھی ہیں۔۔۔عورت بھی ہیں۔۔۔۔۔۔۔مگر ہماری نئی نسل ماں کی ذمہ داری کتنی ایمانداری سے نبھا رہی ہے۔۔۔۔کیا صرف جنم دینے سے ہی قدموں تلے جنت دے دی گئی ہے۔۔صرف بارہ برس تک اپنے بچے کو سنت  نبوی کی تعلیم دیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ماں اپنے 24/گھنٹوں  میں سے ایک گھنٹہ اپنے  بچوں کو ایک ساتھ بٹھا کر  دینی تعلیم دے یہ ضروری ہے۔۔۔ مگر شرط یہ ہے کہ ہر ماں نو مہینے تک لاالہ الا اللہ کا ذکر کرے ار شیر مادر دیتے وقت محمد الرسول اللہ کا ورد کرے۔۔۔پھر  میں یقین سے کہتی ہوں کہ  ہر گھر میں  حضرت  امام غزالی  اور حضرت  رابعہ بصری ضرور  پیدا ہوں گے۔۔۔۔۔۔  کیونکہ نیک ماں سے نیک نسل جنم لیتی ہے اور گمراہ ماں سے گمراہ نسل جنم لیتی ہے۔۔۔نئی نسل کی ماؤں کا مسئلہ یہ ہے کہ کبھی غیبت سے ۔۔کبھی حسد سے۔۔کبھی موبائل سے۔۔ ان کو فرصت  ہی نہیں  ملتی کہ اپنے بچوں کی تربیت پر دھیان دے سکیں۔۔۔۔۔ایک سوال کا جواب دیجئے؟؟؟ کیا ایک ماں  کو رنگین چڑیا سے زیادہ مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے نہیں تو پھر؟

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP