You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Saturday, November 25, 2017

ابا مجھے قران نہیں۔ گاڑی چاہیے

🕊🕊🕊

ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻟﺞ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺠﻮﯾﭧ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﮐﭽﮫ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﮌﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﻮﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ اﺳﭙﻮﺭﭨﺲ ﮐﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﺗﮭﯽ۔ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﻭﮦ ﮐﺎﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﮐﻮ ﮐﮩﮧ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﮔﺮﯾﺠﻮﺍﯾﺸﻦ ﮐﮯ ﺗﺤﻔﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﮐﺎﺭ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﺮﯾﺠﻮﯾﺸﻦ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﮐﺎ ﺩﻥ ﻗﺮﯾﺐ ﺁ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ،
ﻭﯾﺴﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﺤﻔﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺮﻭﺝ ﭘﮧ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺑﻶﺧﺮ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﯽ ﺻﺒﺢ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺑﺎ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﺹ ﻣﻄﺎﻟﻌﮯ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﻼﯾﺎ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﮯ ﺫﮨﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻨﺘﯽ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﺘﻨﺎ ﻓﺨﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻑ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﭩﺎ ﮨﻮﺍ ﮈﺑﮧ ﺗﺤفے ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺎ۔ ﮐﭽﮫ ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺗﺠﺴﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺗﺤﻔﮧ ﮐﮭﻮﻻ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭼﻤﮍﮮ ﮐﮯ ﺩﺳﺘﮯ ﻭﺍﻻ ﻗﺮﺁﻥ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ۔
ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻏﺼﮯ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻧﮕﺖ ﺳﺮﺥ ﭘﮍ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺑﺎ ﭘﮧ ﭼﻼ ﺍﭨﮭﺎ:
"ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻭﻟﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﺗﺤﻔﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺎ؟" ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺍﻧﻤﻮﻝ ﺗﺤﻔﮯ ﮐﻮ ﻭﮨﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻧﮑﻼ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔
ﺑﮩﺖ ﺳﺎﻝ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ ﻭﮦ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺑﺎ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﮕﻼ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺑﺎ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﺳﺘﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ۔ ﻭﮦ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺑﺎ ﮐﻮ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ۔
ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺑﺎ ﮐﻮ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺳﮯ ﺍﻃﻼﻉ ﻣﻠﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺑﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﺻﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﺮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﮯ ﺍﻓﺮﺍﺗﻔﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﻏﻢ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﺎ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﺑﺎ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻏﻢ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﭘﭽﮭﺘﺎﻭﮮ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮒ ﺍﭨﮭﺎ۔ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﻏﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺑﺎ ﮐﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﮯ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺗﺒﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﻭﮨﯽ ﺗﺤﻔﮯ ﻭﺍﻻ ﻗﺮﺁﻥ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻧﺌﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﻣﻼ ﺟﯿﺴﺎ ﻭﮦ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﺭﺍﻕ ﭘﻠﭩﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺍﻭﺭﺍﻕ ﭘﻠﭩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺻﻔﺤﮯ ﭘﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺑﺎ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺁﯾﺖ ﭘﮧ ﻧﺸﺎﻥ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮦ ﺳﻮﺭﮦ ﺭﻋﺪ ﮐﯽ ﺍﭨﮭﺎئیسویں ﺁﯾﺖ ﺗﮭﯽ :
"ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﺨﺸﺘﯽ ﮨﮯ۔"
ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺁﯾﺖ ﭘﮍﮬﯽ۔ ﺗﺒﮭﯽ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﯿﭽﮯ ﮔﺮﯼ۔ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﭼﺎﺑﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺩﮦ ﺷﻮﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﭼﺎﺑﯽ ,ﺭﺳﯿﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ۔ ﭼﺎﺑﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﺳﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﯾﺠﻮﺍﯾﺸﻦ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﮑﻤﻞ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﮦ ﺍﻥ ﮔﻨﺖ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭨﮭﮑﺮﺍ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺗﻮﻗﻌﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯿﮟ۔ اور بعض دفعہ جلد بازی میں غلط فیصلہ کر دیتے ہے جس کا دکھ اور نقصان پوری زندگی ہمیں اٹھانا پڑتا ہے۔

نامعلوم

حسن سلوک

" ثاقب ناچن کی رہائی اور جیل میں ان کا حسن سلوک"

ملنڈ بم دھماکہ کے الزام میں برسوں قید و بند کی تکلیف اٹھانے والے ثاقب ناچن کو دوران قید جیل میں اچھے برتاؤ اور بہتر ڈسپلن کے سبب پانچ مہینے اور 13 دن قبل رہا کر دیا گیا۔ ثاقب ناچن نے بم دھماکہ کیس کے دوران جس ثابت قدمی کے ساتھ اس کو فیس کیا اور جیل میں عمدہ اخلاق اور حسن سلوک کا جو غیر معمولی نمونہ پیش کیا ہے اس کو دیکھ کر پولیس بھی اس کی گواہی دینے پر مجبور ہوکر رہ گئی اور انہیں " ذہین ترین انسان قرار دیا۔" جو اپنے آپ میں بہت بڑی بات ہے۔ ثاقب ناچن کا تعلق جس تنظیم سے رہا ہے وہ بھی اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام طلبہ و نوجوانوں انجام دے رہی تھی اسی لیے وہ علمی اور فکری لحاظ سے اسلامی کی تعلیمات سے پوری طرح لیس تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جیل میں عمدہ اخلاق اور حسن سلوک کا مظاہرہ کیا اس کا اثر یہ ہوا کہ پولیس حکام بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ صحیح معنوں میں اس ملک کے مسلمان بھی اگر اسلامی تعلیمات پر صدق دل سے عمل پیرا ہوجائیں اور اسلام کی دعوت کو برادران میں پہنچانے کا کام انجام دینا شروع کردیں تو وہ دن دور نہیں جب یہی لوگ حق کی گواہی دینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ اور ایک بار پھر ثابت ہو جائے گا کہ اسلام تلوار سے نہیں اخلاق سے پھیلا ہے۔

محمد خالد داروگر'دولت نگر' سانتاکروز' ممبئی

Tuesday, October 24, 2017

یوم ولادت بہادر شاہ ظفر

*بہادر شاہ ظفر کا یوم ولادت*
آج 24 اکتوبر ایک خودار بادشاہ..حوصلہ مند مجاہد آزادی اور بہترین شاعر بہادر شاہ ظفر کا یوم ولادت ہے..تیمور خاندان نے جس  سلطنت مغلیہ کی بنیاد رکھی یہ اس کے آخری بادشاہ تھے....یہ وہ بدنصیب باپ ہے انگریزوں نے جس کے چاروں بیٹوں کے سروں  تن سے جدا کرکے تھال میں سجاکر ان کو پیش کئے گئے....
بہادر شاہ ظفر کو یہ شرف حاصل رہا کہ وہ  ابراہیم ذوق اور مرزا غالب جیسے شعراء کے شاگرد رہے...
موصوف کے کچھ منتخب اشعار احباب کی خدمت میں...

*

‏یہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں بلبلیں
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گی

*‏دیکھے جو ہمارے بت مغرور کی گردن*
*غلمان کے تن سے ہو جدا حور کی گردن*

‏خاکساری کیلئے گرچہ بنایا تھا مجھے
کاش , خاک ِ  درِ  جانانہ  بنایا  ہوتا

‏ *صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے*
*ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا*

‏تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں
ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا

*اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل*
*دنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چل*

‏کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل ، کوئی کیا کسی سے لگائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل ، وہ دکان اپنی بڑھا گئے

*‏اِتنا ہی ہُوا حُسن میں وہ شُہرۂ آفاق !*
*جِتنے ہُوئے ہم عِشق میں رُسوائے زمانہ*

‏عمرِ دراز مانگ لائے تھے، چار دن۔
دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں

*‏کانٹوں کو مت نکال چمن سے کہ باغبان*
*یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں*

‏اے فاتحہ کوئی آئے کیوں، کوئی چار پھول چڑھائے کیوں
کوئی شمع آ کے جلائے کیوں کہ میں بے کسی کا مزار ہوں

*‏یار تھا گلزار تھا باد صبا تھی میں نہ تھا*
*لائق پابوس جاناں کیا حنا تھی میں نہ تھ*ا
                                    
‏کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

*یاں تک عدو کا پاس ہے ان کو کہ بزم میں*
*وہ بیٹھتے بھی ہیں تو مرے ہم نشیں سے دور*

ظفرؔ بدل کے ردیف اور تو غزل وہ سنا
کہ جس کا تجھ سے ہر اک شعر انتخاب ہوا

*بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی*
*جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی*

کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل دغدار میں

*میرے سرخ لہو سے چمکی کتنے ہاتھوں میں مہندی*
*شہر میں جس دن قتل ہوا میں عید منائی لوگوں نے*

*ہم ہی ان کو بام پہ لائے اور ہمیں محروم رہے*
*پردہ ہمارے نام سے اٹھا آنکھ لڑائی لوگوں نے*

سب مٹا دیں دل سے ہیں جتنی کہ اس میں خواہشیں
گر ہمیں معلوم ہو کچھ اس کی خواہش اور ہے

*دولت دنیا نہیں جانے کی ہرگز تیرے ساتھ*
*بعد تیرے سب یہیں اے بے خبر بٹ جائے گی*

غزل

رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی
سائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھی

خیمے نہ کوئی میرے مسافر کے جلائے
زخمی تھا بہت پاؤں مسافت بھی بہت تھی

سب دوست میرے منتظرِ پردہء شب تھے
دن میں تو سفر کرنے میں دِقت بھی بہت تھی

بارش کی دعاؤں میں نمی آنکھ کی مل جائے
جذبے کی کبھی اتنی رفاقت بھی بہت تھی

کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے
اور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی

پھولوں کا بکھرنا تومقدر ہی تھا لیکن
کچھ اس میں ہواؤں کی سیاست بھی بہت تھی

وہ بھی سرِ مقتل ہے کہ سر جس کا تھا شاہد
اور واقفِ احوال عدالت بھی بہت تھی

اس ترکِ رفاقت پہ پریشاں تو ہوں لیکن
اب تک کے ترے ساتھ پہ حیرت بھی بہت تھی

خوش آئے تجھے شہرِ منافق کی امیری
ہم لوگوں کو سچ کہنے کی عادت بھی بہت تھی

پروین شاکر

Saturday, October 21, 2017

مرزا محمد ھادی رسوا

مرزا محمد ھادی رسوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج 21 ، اکتوبر معروف ناول نگار اور ادیب مرزا ھادی رسوا کا یومِ وفات ھے ۔
سال پیدائش : 1857ء
تاریخ وفات : 21، اکتوبر 1931ء
مرزا محمد ہادی رسوا (1857ء تا 21 اکتوبر، 1931ء) ایک اردو شاعر اور فکشن کے مصنف (بنیادی طور پر مذہب، فلسفہ، اور فلکیات کے موضوعات پر) گرفت رکھتے تھےانہیں اردو، فارسی، عربی، عبرانی، انگریزی، لاطینی، اور یونانی زبان میں مہارت تھی۔ ان کا مشہور زمانہ ناول امراؤ جان ادا 1905ء میں شائع ہوا جو ان کا سب سے پہلا ناول مانا جاتا ہے۔ یہ ناول لکھنؤ کی ایک معروف طوائف اور شاعرہ امراؤ جان ادا کی زندگی کے گرد گھومتا ہے بعد ازاں ایک پاکستانی فلم امراؤ جان ادا (1972)، اور دو بھارتی فلموں، امراو جان (1981) اور امراو جان (2006) کے لئے بنیاد بنا۔ 2003ء میں نشر کئے جانے والے ایک پاکستانی ٹی وی سیریل کی بھی بنیاد یہی ناول تھا۔
مرزا محمد ہادی رسوا کی زندگی کی درست تفصیلات دستیاب نہیں ہیں اور ان کے ہم عصروں کی طرف سے دی گئی معلومات میں تضادات موجود ہیں البتہ رسوا نے خود تذکرہ کیا ہے کہ ان کے آباء و جداد فارس سے ہندوستان میں آئے اور ان کے پردادا سلطنت اودھ کے نواب کی فوج میں ایک ایڈجوٹنٹ تھے۔ جس گلی میں رسوا کا گھر تھا اسے ایڈجوٹنٹ کی گلی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے والد اور دادا کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتایا کہ وہ دونوں ریاضی اور فلکیات میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ مرزا محمد ہادی رسوا 1857ء کو، ایک گھڑسوار، فوجی افسر، مرزا محمد تقی کے گھر لکھنؤ، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔انہوں نے گھر میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ وہ سولہ سال کے تھے جب ان کے والدین دنیا سے کوچ کر گئے۔ نوجوانی میں وفات پانے والےان کے بڑے بھائی مرزا محمد ذکی، ایک علمی شخصیت تھے۔ اس دور کے ایک مشہور خطاط حیدر بخش نے رُسوا صاحب کو خوش خطی سکھائی اور انہیں کام کرنے کے لئے کچھ رقم ادھار بھی لیکن حیدر بخش کی آمدنی ڈاک کی جعلی ٹکٹ سازی سے آتی تھی لہٰذا اُسے گرفتار کر لیا گیا اور ایک طویل مدت کے لئے قید کی سزا سنائی گئی۔رُسوا کے لکھنے کے کیریئر میں اُن کی مدد کرنے والے بہت سے لوگوں میں سے ایک اردو شاعر، دبیر بھی تھے۔ رسوا نے گھر میں تعلیم حاصل کی اور میٹرک پاس کیا، اس کے بعد انہوں نے منشی فاضل کے کورس کا امتحان دیا اور منشی فاضل ہوگئے۔؎کوئٹہ بلوچستان میں ریلوے میں ملازمت کی۔ دوران ملازمت کیمیا کا ایک رسالہ ہاتھ لگ گیا جس کے مطالعے کے بعد کیمیا گری کی طرف مائل ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا رسوا نے پچاس سے زیادہ تصنیفات یاد گار چھوڑیں تاہم اردو ادب میں ان کا نام ناول نگار کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP