You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Saturday, September 22, 2018

.

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے
ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے

کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو
شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے

آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن
آتے جاتے جو ملتا ہے تم سا لگتا ہے

اس بستی میں کون ہمارے آنسو پونچھے گا
جو ملتا ہے اس کا دامن بھیگا لگتا ہے

دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہیں
شام ڈھلے اس سونے گھر میں میلہ لگتا ہے

کس کو پتھر ماروں قیصرؔ کون پرایا ہے
شیش محل میں اک اک چہرا اپنا لگتا ہے

قیصر الجعفری

Tuesday, August 28, 2018

فراق گورکھپووری

*_ 28 / اگست / 1896ء... _*

*بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں شمار، ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، اپنے بصیرت افروز تنقیدی تبصروں کے لئے مشہور شاعر” فراقؔ  گورکھپوری صاحب “ کا یومِ پیدائش...*

نام *رگھوپتی سہائے*، تخلص *فراقؔ*، *28 اگست 1896ء* کو *گورکھپور (اترپردیش)* میں پیدا ہوئے۔ گھر میں شعرو شاعری کا چرچا عام تھا۔ ان کے والد *منشی گورکھ پرشاد عبرتؔ* بھی مشہور شاعر تھے ۔فراق نے تعلیم آلہ آباد میں حاصل کی اور اردو اور فارسی کے علاوہ انگریزی میں بھی اعلی لیاقت حاصل کی۔ بعد میں انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوگئے۔ کچھ مدت تک *جواہر لعل نہرو* کے ساتھ کام کیا۔ جیل بھی گئے۔انگریزی میں ایم۔ اے کرنے کے بعد الہ آباد یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد ہوگئے ۔یہیں سے 1959میں ریٹائر ہوئے۔ فراق گورکھپوری کے کلام کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔ ان میں *’’روحِ کائنات‘‘ ،’’رمز و کنایات‘‘،’’غزلستان‘‘، ’’شبنمستان‘‘* اور *’’گلِ نغمہ‘‘* خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ *’’اندازے‘‘* اور ان کی کتاب *’’اردو کی عشقیہ شاعری‘‘* بہت اہمیت رکھتی ہے ۔ شاعری میں *فراقؔ*  کی غزل اور ان کی رباعی کاانداز سب سے الگ ہے ۔ انہوں نے رباعی کی صنف کو ہندوستانی ثقافت کا ترجمان بنادیا۔
*3 مارچ 1982ء کو فراق گورکھپوری انتقال کر گئے* ٠

💢  *فراقؔ  گورکھپوری صاحب کے یومِ ولادت پر منتخب اشعار بطورِ خراجِ تحسین...* 💢

آج بھی  قافلۂ عشق رواں ہے  کہ جو تھا
وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا
-----
ہے ترے کشف و کرامات کی دنیا قائل
تجھ سے اے دل نہ مگر کام ہمارا نکلا
-----
*دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیا*
*ہر  بار  چھپا  کوئی  ہر  بار  نظر   آیا*
-----
رفتہ رفتہ عشق کو تصویر غم کر ہی دیا
حسن بھی کتنا خراب گردشِ  ایّام تھا
-----
*طور  تھا  کعبہ  تھا  دل تھا  جلوہ  زار یار تھا*
*عشق سب کچھ تھا  مگر پھر عالمِ اسرار  تھا*
-----
*حسن کافر سے کسی کی نہ گئی پیش فراقؔ*
*شکوہ  یاروں  کا  نہ  شکرانۂ  اغیار چلا*
-----
تری  نگاہ  کی  صبحیں  نگاہ  کی   شامیں
حریمِ راز یہ دنیا جہاں نہ دن ہیں نہ رات
-----
*پھر  وہی  رنگِ تکلّم  نگۂ  ناز  میں ہے*
*وہی انداز وہی حُسنِ بیاں ہے کہ جو تھا*
-----
ہر  جنبشِ  نگاہ  میں  صد  کیف   بے  خودی
بھرتی پھرے گی حسن کی نیت کہاں کہاں
-----
*نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا*
*حجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیا*
-----
چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں
نگاہ   نرگسِ   رعنا   ترا   جواب     نہیں
-----
*شامِ غم کچھ  اس نگاہِ ناز کی باتیں کرو*
*بے خودی بڑھتی چلی ہے راز کی باتیں کرو*
-----
کیوں انتہائے ہوش کو کہتے ہیں بے خودی
خورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے
-----
شریک شرم و حیا کچھ ہے بد گمانی‌ٔ حسن
نظر اٹھا یہ جھجک سی نکل تو سکتی ہے
-----
*کوئی  پیغامِ  محبت  لبِ  اعجاز    تو   دے*
*موت کی آنکھ بھی کھل جائے گی آواز تو دے*
-----
*مجھ کو تو غم نے فرصتِ غم بھی نہ دی فراقؔ*
*دے  فرصتِ  حیات  نہ  جیسے   غمِ  حیات

     🔰  *فراقؔ  گورکھپوری*  🔰

        *انتخاب : اعجاز زیڈ ایچ*

🌺🌺

Monday, August 27, 2018

قسم

✍_دنیا میں اگر کسی پر کوئی اعتبار نہ کرے تو اُس کے پاس آخری حل یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات ثابت کرنے کے لیے قسم کھا لے جس کے بعد ہر کسی کو اس کی بات کا یقین ہو جاتا ہے ۔ ۔_

_ہم سب جانتے ہیں کہ الله پاک نے جو بھی ارشاد فرمایا ہے وہ سو فیصد سچ ہے اور اس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے مگر پھر بھی کسی بات پر الله پاک قسم کھائے کہ میں یہ بات قسم کھا کے کہتا ہوں تو وہ بات تو پتھر پر لکیر ہو گئی نہ ..... اور اگر کسی بات پر الله  تعالٰى سات قسمیں کھائے تو وہ بات کتنی اہم, ضروری اور سچی ہو گی ....._

_اللّٰہ تعالٰی قرآن میں فرماتا ہے...!!_

١- سورج کی اور اس کی دھوپ کی قسم ہےo
٢- اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئےo
٣- اور دن کی جب وہ اس کو روشن کر دےo
٤- اور رات کی جب وہ اس کو ڈھانپ لےo
٥- اور آسمان کی اور اس کی جس نے اس کو بنایاo
٦- اور زمین اور اس کی جس نے اس کو بچھایاo
٧- اور جان کی اور اس کی جس نے اس کو درست کیاo

٨- پھر اس کو اس کی بدی اور نیکی سمجھائیo
٩- بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیاo
١٠- اور بے شک وہ غارت ہوا جس نے اس کو آلودہ کر لیاo

(سورہ الشمس آیت 1تا10)

"اب آپ بتایئے الله پاک اگر قسم کھائے بغیر ہی کہہ دیتا کہ جس نے اپنے نفس کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچا تو یہ ہمارے لیے تسلیم شدہ بات ہوتی مگر الله پاک ایک نہیں سات قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے کہ وہ ہی مراد کو پہنچے گا جس کا نفس پاک ہوگا."

مگر آج کل کیا ہو رہا ہے ہم سب نفس کے غلام بنے ہیں جس کی چھوٹی سی مثال یہ ہی ہے کہ اذان ہو رہی ہوتی ہے اور ہم موبائل پر چیٹ کر رہے ہوتے ہیں دماغ میں آتا بھی ہے کہ نماز پڑھ لیں مگر نفس کی غلامی ہم کو اٹھنے نہیں دیتی ....
جب کہ الله پاک فرماتا ہے کہ میں نے نفس انسانی کو درست بنایا اور پھر اس کو بد کاری سے بچنے اور پرہیز گار بننے کی سمجھ دی تو پھر ایسا کیا کر لیا ہم نے کہ ہمارے نفس ہمارے تابع نہیں رہے یاد رکھیں سب سے بڑی سلطنت اپنے نفس کی حکمرانی ہے جس نے اس کو فتح کر لیا وہ دونوں جہاں میں کامیاب ہو گیا ابھی بھی وقت ہے مراد پانی ہے تو نفس کو فتح کر لیں ۔ ۔ ۔

*_(اے اللہ ہمیں نفس کے شر سے محفوظ رکھ ، آمین)_*

*منجانب : مجلس اتحاد الرفقاء*

غزل

ملال ہے مگر اتنا ملال تھوڑی ہے
یہ آنکھ رونے کی شدت سے لال تھوڑی ہے

بس اپنے واسطے ہی فکر مند ہیں سب لوگ
یہاں کسی کو کسی کا خیال تھوڑی ہے

پروں کو کاٹ دیا ہے اڑان سے پہلے
یہ خوف ہجر ہے شوقِ وصال تھوڑی ہے

مزا تو تب ہے کہ ہار کے بھی ہنستے رہو
ہمیشہ جیت ہی جانا کمال تھوڑی ہے

لگانی پڑتی ہے ڈبکی ابھرنے سے پہلے
غروب ہونے کا مطلب زوال تھوڑی ہے

Friday, August 24, 2018

KAPTAN MALIK LANTRANI

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP